It is narrated from him (Ibn Abbas) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever speaks about the Qur'an based on his own opinion, let him take his seat in the Fire."
In another narration: "Whoever speaks about the Qur'an without knowledge, let him take his seat in the Fire."
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن کی تفسیر بغیر سند کے اپنی عقل سے کی تو وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں
بنا لے۔
اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جس نے قرآن کی تفسیر بغیر علم (دین) کے بیان
کی تو وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
It is narrated from Jundub (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever speaks about the Qur'an based on his own opinion, and if he is correct, he has still made a mistake."
جُندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کی اور صحیح بیان کی تب بھی اس نے غلطی
کی۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: جھگڑنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کو دوسری آیت سے جھٹلایا جائے، مناسب
یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں موافقت کی کوشش کرے، اگر موافقت دشوار معلوم ہو تو یہ عقیدہ رکھے کہ یہ
میری بدفہمی ہے اور اس کے علم کو اللہ اور رسول پر سونپ دے۔12
It is narrated from Amr ibn Shu'aib, from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), that the Prophet (ﷺ) heard a group of people disputing about the Qur'an. He said: "Those who came before you were destroyed by this. They used to strike parts of the Book of Allah against one another. The Book of Allah was revealed to confirm what came before it. So do not contradict some of it with others. Whatever you know of it, speak about it, and what you do not know, leave it to the scholars."
عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے
دادا سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ایک جماعت کو قرآن میں
جھگڑتے ہوئے سنا تو فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ اسی قسم کے جھگڑوں کی وجہ سے تباہ و برباد
ہوئے ہیں، اللہ کی کتاب کے ایک حصہ کو دوسرے حصہ سے انہوں نے رد کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی
کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ، دوسرے حصہ کی تصدیق کرتا ہے تو اس کے ایک
حصہ کو اس کے دوسرے حصہ سے مت جھٹلاؤ۔
جس کو تم جانتے ہو وہ کہو اور جس بات کو نہیں جانتے ہو اس کو جاننے والے کے سپرد کر دو۔ (اس
کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Qur'an was revealed in seven dialects. For each verse of it, there is an outer and an inner meaning, and for each limit, there is a point of emergence."
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن نازل کیا گیا سات طرح (کے قرأت یا احکام پر) ہر ایک آیت کے لئے
ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اور ان دونوں میں سے ہر ایک کی ایک حد ہے۔ جس کے لئے فہم کی
ضرورت ہے۔ (امام بغوی نے شرح السنہ میں اس کی روایت کی ہے۔)
It is narrated from Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Knowledge is of three types: a clear verse, an established Sunnah, or a just obligation. Anything beyond that is a matter of grace."
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم تین ہیں: (1) آیت محکمہ یا (2) سنت قائمہ یا (3) فریضہ عادلہ، ان کے سوا
قابل اعتبار نہیں (اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: (1) آیت محکمہ یعنی غیر منسوخ آیت جو ایک معنی کے سوا دوسرے معنی کا احتمال نہ
رکھے، (2) سنت قائمہ وہ احادیث ہیں جو متن و اسناد کے ساتھ ثابت ہیں، (3) فریضہ عادلہ سے مراد
اجماع اور قیاس ہے جس کا ماخذ کتاب و سنت ہو، اجماع اور قیاس کو فریضہ اس لئے کہا کہ اس پر عمل
واجب ہے کیونکہ لفظ عادلہ سے یہی مراد ہے۔
اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اصول دین چار ہیں، کتاب و سنت و اجماع اور قیاس اور جو علم ان
کے سوا ہیں وہ زائد اور بے معنی ہیں۔12
It is narrated from 'Awf ibn Malik al-Ashj'ei (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Only a leader, an appointed person, or one who is arrogant may tell stories."
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی وعظ کہے گا وہ یا تو حاکم ہوگا یا مقرر کردہ شخص ہوگا یا متکبر ہوگا۔
(ابوداؤد نے اس کی روایت کی ہے۔)
اور دارمی نے عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا
سے روایت کرتے ہیں۔
اور ایک روایت میں متکبر کی جگہ ریاکار کا ذکر ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مطلب یہ ہے کہ یہ فعل صرف تین شخصوں سے صادر ہوتا ہے، ان میں سے دو حق پر ہیں
یعنی امیر اور مامور کہ ان دونوں کو وعظ بیان کرنا چاہیے، البتہ متکبر یا ریاکار کو وعظ نہ کہنا چاہیے، وعظ بیان
کرنے کا حق اولاً حاکم کا ہے کیوں کہ وہ رعیت پر مہربان ہوتا ہے اور ان کی صلاح اور فلاح کو خوب جانتا
ہے، اور اگر خود نہ کہے گا تو علماء میں جو صاحب تقویٰ اور بے طمع ہوں ان کو مقرر کردے گا۔
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever gives a fatwa without knowledge, the sin will be on the one who asked him. And whoever advises his brother with something, knowing that the right course of action is elsewhere, he has betrayed him."
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی شخص کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہوگا۔
اور جس نے اپنے بھائی کو کوئی ایسا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ اس کے خلاف
دوسرے امر میں بھلائی ہے تو اس نے اس کی خیانت کی۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے مغالطہ میں ڈالنے والے سوالات سے منع فرمایا ہے (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3656 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: علماء سے ایسے مسائل نہ پوچھے جس کا مقصد ان کو مغالطہ میں ڈالنا ہو، کیونکہ اس سے
مسلمان کو ایذا ہوتی ہے جس سے عداوت اور فتنہ پیدا ہوتا ہے اور چونکہ اس سے سائل کو اپنی فضیلت کا
اظہار مقصود ہوتا ہے اس وجہ سے یہ حرام ہے۔12
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Learn the obligatory duties (fara'id) and the Qur'an, and teach them to the people, for I am about to be taken away."
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: فرائض اور قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کیونکہ میں (دنیا سے) اٹھائے جانے والا
ہوں۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Darda (may Allah be pleased with him) that we were with the Messenger of Allah (ﷺ), and he raised his gaze towards the sky, then said: "This is a time when knowledge will be taken away from the people, so that they will not be able to find any of it."
ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اتنے میں آسمان کی جانب آپ نے نگاہ اٹھائی اور فرمایا: وہ وقت آ گیا ہے
کہ لوگوں سے علم وحی (میری وفات کی وجہ سے) چھین لیا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ علم وحی کی کسی شئے پر
قادر نہ ہوں گے، اس وجہ سے کہ (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے) (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) in a narration: "People will soon travel far and wide, seeking knowledge, but will find no one more knowledgeable than the scholar of Madinah." [Narrated by al-Tirmidhi]
In collection of Tirmidhi, Ibn Uyaynah said: "This refers to Malik ibn Anas." Similarly, 'Abd al-Razzaq narrated it, and Ishaq ibn Musa mentioned that Ibn Uyaynah said: "This refers to 'Abd al-Aziz ibn Abdullah al-Umari, the ascetic."
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عنقریب لوگ علم کی طلب میں
اونٹوں کو بھگا بھگا کر دور دراز کا سفر کریں گے، پس وہ مدینہ کے عالم سے بڑھ کر (علم میں) کسی کو نہ
پائیں گے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2680 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور جامع ترمذی میں ہے کہ ابن عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عالم مدینہ سے مراد امام مالک بن
انس رضی اللہ عنہ ہیں، اور عبدالرزاق سے بھی اسی طرح وضاحت ہے، البتہ اسحٰق بن موسیٰ نے کہا کہ
میں نے ابن عیینہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ عالم مدینہ سے مراد عمری زاہد ہیں۔ جن کا نام
عبدالعزیز بن عبداللہ ہے۔
It is narrated from him (Abu Huraira, RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By Him in Whose hand is my soul, if religion were hanging from the Pleiades, a man from Persia would attain it." [Agreed upon]
Al-Tabarani narrated a similar version from Qays ibn Sa'd ibn Ubadah, with a slight variation: "If knowledge were hanging, a man from Persia would attain it." Al-Hafiz al-Suyuti said: "This hadith, narrated by the two Shaykhs (Bukhari and Muslim], is the foundation of the authenticity upon which Abu Hanifah is indicated. There is no doubt in its correctness." In the margin notes of al-Shabr Malisi on al-Mawahib, the Shami scholar (a student of al-Hafiz al-Suyuti) said: "Our Shaykh has confirmed that Abu Hanifah is indeed the one intended in this hadith, and there is no doubt about it, for no one from the descendants of Persia has reached the level of knowledge he attained."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ (قدرت) میں میری جان ہے، اگر دین ثریا (یعنی
ستارہ پروین) کے پاس معلق ہو تو اس کو فارس کا ایک شخص ضرور حاصل کر لے گا۔ (بخاری اور مسلم نے
اس کی روایت متفقہ طور پر کی ہے۔)
اور طبرانی نے قیس بن سعد بن عبادہ سے اسی طرح روایت کی ہے
اور ان کی روایت میں ”دین“ کی جگہ علم کا لفظ ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2546b (unverified) 92% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 4898 (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
حافظ سیوطی نے فرمایا کہ یہ حدیث جس کو بخاری اور مسلم نے بالاتفاق روایت کیا ہے اصل صحیح
ہے، اس میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی جانب اشارہ ہونے پر اعتماد ہوتا ہے اور اس حدیث کی صحت پر
سب کا اتفاق ہے۔
مواہب بشرح مسلم کے حاشیہ میں علامہ شامی جو حافظ سیوطی کے شاگرد ہیں؛ لکھتے ہیں کہ
ہمارے شیخ کا یہ یقین ہے کہ اس حدیث سے مراد ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ ہیں بالکل واضح بات ہے، جس
میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اس لئے کہ اہل فارس سے کوئی بھی امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے درجۂ علم کو نہ
پہنچ سکا۔
It is narrated from him (Abu Huraira, RA) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah, the Mighty and Majestic, sends to this ummah at the head of every hundred years someone who will renew its religion."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے (وہ کہتے ہیں) منجملہ ان چیزوں کے
جن کا مجھے علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کے
لئے ہر سو سال کے بعد ایک ایسا مجدد پیدا کرے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔ (اس کی روایت ابوداؤد
نے کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے مراد ہے کہ ایک شخص اس امت میں ممتاز ہوتا ہے جو اپنے زمانہ میں
دین کی مدد اور ترویج کر کے بدعت کو رفع کرتا ہے، بعض علماء نے اس کو عام پر محمول کیا ہے خواہ ایک شخص
ہو یا جماعت۔12
It is narrated from Ibrahim ibn Abd al-Rahman al-Udhri (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "This knowledge will be carried by every generation of trustworthy scholars. They will remove from it the distortion of the extremists, the misappropriations of the false claimants, and the misinterpretations of the ignorant."
ابراہیم بن عبدالرحمن عذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے
کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم (کتاب و سنت) کو ہر بعد میں آنے
والوں میں سے ایسے ثقہ اور عادل لوگ اٹھائیں گے جو تحریف اور تغیر کرنے والوں کی تحریف
اور زیادتی اور اہل باطل کے جھوٹ باندھنے کو اور جاہلوں کی تاویلوں کو دور کریں گے۔ (اس
کی روایت بیہقی نے کتاب المدخل میں کی ہے۔)
It is narrated from al-Hasan (may Allah be pleased with him), as a mursal (unattributed) hadith, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever dies while seeking knowledge to revive Islam, there is between him and the Prophets one level in Paradise."
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے بطور ارسال روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو موت ایسی حالت میں آ جائے کہ وہ علم حاصل کر رہا تھا تاکہ اس کے
ذریعہ اسلام کو زندہ کرے تو اس کے اور انبیاء کے درمیان جنت میں صرف ایک درجہ کا فرق رہے گا
(اس کی روایت دارمی نے کی ہے)۔
It is narrated from him (al-Hasan, RA) as a mursal hadith, that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about two men from the Children of Israel. One was a scholar who prayed the obligatory prayers, then sat to teach people goodness, and the other was one who fasted during the day and prayed at night. Which of the two was superior? The Messenger of Allah (ﷺ) replied: "The superiority of the scholar who prays the obligatory prayers and then sits to teach people goodness is over the worshiper who fasts during the day and prays at night, as my superiority over the lowest among you."
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے بطور ارسال روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے دو آدمیوں کے متعلق دریافت کیا گیا جو بنی اسرائیل میں سے تھے، ایک تو عالم تھا
جو فرض نماز پڑھ کر لوگوں میں دین اور علم کی تعلیم کے لئے بیٹھ جاتا تھا اور دوسرا شخص ہمیشہ دن میں روزہ
رکھتا اور تمام رات نماز میں گزارتا، ان میں سے کون افضل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس عالم کی فضیلت جو فرض نماز پڑھ کر لوگوں کو دین اور علم سکھانے کے لئے بیٹھتا ہے اس عابد پر جو دن
میں روزے رکھتا اور رات میں نمازیں پڑھتا ہے ایسی ہے جیسی میری فضیلت تمہارے ادنیٰ شخص پر
(اس کی روایت دارمی نے کی ہے)۔
It is narrated from Ali (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "How excellent is the person who has deep knowledge in religion! If people turn to him, he benefits them, and if they are not in need of him, he enriches himself."
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا وہ شخص کیا ہی اچھا ہے جو دین میں سمجھ رکھتا ہے، اگر اس کی طرف احتیاج ہو تو وہ دوسروں کو دینی
نفع پہنچائے، اگر اس سے بے پروائی برتی جائے تو وہ دوسروں سے اپنے کو بے نیاز رکھے۔ (اس کی
روایت رزین نے کی ہے۔)
ف: حاصل حدیث یہ ہے کہ عالم کے لئے سزاوار یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورتوں کو عوام پر پیش نہ
کرے اور ان سے طمع بھی نہ رکھے اور اس کے لئے یہ بھی مناسب نہیں کہ عوام سے مطلقاً بے تعلق
ہوجائے، اس کی صورت یہ ہے کہ اگر وہ بغرض استفادہ اس سے رجوع ہوں تو علم سے ان کو برابر فائدہ
پہنچاتے رہے اور اگر عوام استفادہ نہ کریں تو وہ عبادت مولیٰ اور خدمت علم کے لئے مطالعہ کتب اور
تصنیف و تالیف میں مشغول ہوجائے۔12
It is narrated from Ikrimah that Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said:
"Talk to the people once every Friday. If you refuse, then twice, and if you exceed, then three times. Do not bore the people with this Qur'an. Do not come to the people while they are in conversation, and interrupt them with your narration. Do not make them weary, but listen, and when they ask you, then narrate to them what they desire. And avoid the rhyme in supplication, for I witnessed the Messenger of Allah (ﷺ) and his companions never doing so."
عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ
تعالیٰ عنہما نے فرمایا ہر جمعہ میں ایک مرتبہ لوگوں کو وعظ کیا کرو، اگر تم کو یہ پسند نہیں تو دو مرتبہ، اگر اس
سے زائد چاہتے ہو تو تین مرتبہ۔
اور لوگوں کو اس قرآن سے تنگ مت کرو (کہ وہ اکتا جائیں) میں تم کو اس طرح دیکھنا نہیں
چاہتا کہ تم لوگوں کے پاس جاؤ اور وہ اپنی کسی بات میں مشغول ہوں اور تم ان کے سامنے وعظ کرنا
شروع کردو، اور ان کی بات کاٹ دو، جس سے وہ تنگ ہوجائیں، بلکہ تم اس وقت خاموش رہو، پس
جب وہ تم سے خواہش کریں تو تم ان کو وعظ سناؤ (اور ایسی حالت میں وعظ ختم کرو کہ ان کا شوق ابھی
باقی ہے) اور دعا میں مُسَجَّع (یعنی قافیہ دار عبارت) سے احتیاط کرو، اس لئے کہ میں نے اللہ کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دیکھا ہے کہ وہ اس طرح قافیہ بند دعا نہیں کیا کرتے تھے
(کیوں کہ تکلف سے رقت قلبی باقی نہیں رہتی ہے)۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے)۔
It is narrated from Wa'ilah ibn al-Asbah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever seeks knowledge and attains it, he will have two rewards. If he does not attain it, he will have one reward."
واثلہ بن الاسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم دین طلب کیا اور اس کو حاصل کر لیا تو اسے دو اجر ملیں گے اور اگر وہ
حاصل نہ کر سکا تو اس کو ایک اجر ملے گا (اس کی روایت دارمی نے کی ہے)
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Among the things that benefit a believer after his death are the knowledge he taught and spread, a righteous child he left behind, a Qur'an he bequeathed, a mosque he built, a house for travelers he built, a river he dug, or a charity he gave from his wealth while he was healthy and alive. These things continue to benefit him after his death."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: منجملہ ان اعمال اور نیکیوں کے کہ جن کا ثواب مومن کو اس کی موت کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے،
ان میں سے (1)ایک علم ہے جس کو اس نے سیکھا اور اس کی اشاعت کی، اور(2) نیک اولاد
چھوڑا،(3)یا وارثوں کے لئے قرآن مجید چھوڑ گیا، یا مسجد بنا کر گیا، یا مسافر خانہ بنا کر چھوڑا، یا نہر
جاری کیا یا وہ خیرات جس کو اس نے اپنے زندگی اور صحت میں اپنے مال سے کیا ہو جس کا اجر مرنے
کے بعد اس کو ملتا رہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے)۔
It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with him) that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "Indeed, Allah, the Almighty, has revealed to me that whoever treads a path in seeking knowledge, I will make the path to Paradise easy for him. Whoever seeks to acquire two noble qualities (of good character), I will establish him upon them in Paradise. The merit of knowledge is better than the merit of worship, and the foundation of religion is piety."
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے مجھ پر وحی فرمائی ہے کہ جو شخص علم دین کی طلب میں کوئی
راستہ چلے گا تو میں اس کے لئے جنت کا راستہ سہل کر دوں گا اور میں نے جس کی دونوں آنکھ لے لیں
(یعنی وہ نابینا ہو گیا) تو ان کے عوض اس کو جنت دوں گا اور علم میں زیادتی عبادت میں زیادتی سے، بہتر
ہے اور دین کا دارومدار پرہیزگاری پر ہے۔ (بیہقی نے شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے)۔
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that he said:
"Studying knowledge for an hour during the night is better than spending the entire night in prayer."
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رات میں تھوڑی
دیر علم کا پڑھنا پڑھانا اور تصنیف و تالیف کرنا) تمام رات عبادت کرنے سے، بہتر ہے۔ (دارمی نے
اس کی روایت کی ہے)۔
It is narrated from Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by two groups in his mosque. He said: "Both of them are upon good, but one of them is better than the other. The first group is praying to Allah and seeking His blessings. If He wills, He gives them, and if He wills, He withholds from them. As for the second group, they are studying fiqh (or knowledge) and teaching it to the ignorant. They are better, for indeed I was sent as a teacher." Then he sat among them.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر
اپنی مسجد کی دو مجلسوں پر ہوا، ارشاد ہوا کہ یہ دونوں خیر پر ہیں لیکن ایک جماعت نیکی میں دوسرے سے
افضل ہے، یہ لوگ جو اللہ کی عبادت کر رہے ہیں اور دعاء میں مشغول ہیں اور اس کی طرف متوجہ ہیں
(اللہ تعالیٰ) چاہے تو ان کو عطا فرمائے اور نہ چاہے تو عطا نہ کرے، لیکن یہ دوسری جماعت جو فقہ سیکھ
رہی ہے یا علم حاصل کر رہی ہے اور جاہل کو علم سکھلاتی رہتی ہے تو یہ پہلی جماعت سے افضل ہے اور
میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں، پھر آپ اس دوسری جماعت میں (جو علم کی تھی) بیٹھ گئے۔ (اس کی
روایت دارمی نے کی ہے)۔
It is narrated from Abu Darda (may Allah be pleased with him) that he was asked: "O Messenger of Allah, what is the most beloved type of knowledge that when a person attains it, he becomes a scholar?" The Messenger of Allah (ﷺ) replied: "Whoever memorizes forty hadiths from my ummah regarding their religious matters, Allah will raise him as a scholar, and I will be his intercessor and witness on the Day of Judgment."
ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ علم کی وہ کونسی حد ہے جس تک پہنچنے سے آدمی فقیہ ہو جاتا ہے تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری امت کے نفع کے لئے دینی امور کی چالیس حدیثیں حفظ
کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کو فقیہ اٹھائے گا (یعنی اس کا حشر علماء کے زمرہ میں ہوگا) اور میں اس کے لئے
قیامت میں شفیع اور گواہ ہوں گا۔(1)
It is narrated from Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do you know who is the most generous in generosity?" They replied: "Allah and His Messenger know best." He said: "Allah, the Almighty, is the most generous in generosity. Then I am the most generous of the children of Adam, and the most generous after me is a person who learns knowledge and spreads it. He will come on the Day of Judgment as a leader alone," or he said, "as a single community."
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کو معلوم ہے کہ کون سب سے زیادہ سخی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس
کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سخی ہیں۔
پھر میں بنی آدم میں سب سے بڑھ کر سخی ہوں اور میرے بعد سب سے زیادہ سخی وہ مرد عالم ہے
جس نے علم سیکھا اور اس کی اشاعت کی، ایسا شخص قیامت کے دن تنہا امیر کی طرح آئے گا یا امت
واحدہ کی طرح آئے گا۔(2)
ف: امیر واحد یا امت واحدہ سے یہ مراد ہے کہ وہ ایک امیر کی حیثیت سے آئے گا یعنی وہ کسی
کے تابع نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ کئی تابع اور خادم ہوں گے، مقصود یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن معزز
اور مکرم با شوکت و حشمت آئے گا۔12
It is narrated from him (Anas) that the Prophet (ﷺ) said: "There are two types of people who will never be satisfied: the one who is greedy for knowledge, and the one who is greedy for the world. The one who seeks knowledge will never be satisfied with it, and the one who seeks the world will never be satisfied with it." [Narrated by al-Bayhaqi in "Shu'ab al-Iman]
Imam Ahmad said regarding the hadith of Abu Darda: "This text is well known among the people, but it does not have an authentic chain of narration."
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو حرص کرنے والے ایسے ہیں جن کا پیٹ نہیں بھرتا، ایک علم کا بھوکا جو علم سے
سیر نہیں ہوتا اور دوسرے دنیا کا بھوکا جس کا دنیا سے پیٹ نہیں بھرتا۔(3) (مذکورہ تینوں حدیثیں کو
بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔)
It is narrated from Awn that Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said:
"There are two types of people who will never be satisfied: the scholar and the seeker of the world. They are not equal. The scholar grows in contentment with Allah, while the seeker of the world continues in rebellion. Then Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) recited: 'No! Indeed, man transgresses when he sees himself as self-sufficient.'" (Quran, 96:6)
He also said: "Indeed, the scholars are the ones who truly fear Allah from among His servants."
عون رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دو حریص ایسے ہیں کہ سیر نہیں ہوتے، ایک صاحب علم اور دوسرا دنیا دار، اور
دونوں برابر نہیں ہیں، صاحب علم تو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو زیادہ حاصل کرتا رہتا ہے اور دنیا دار سرکشی
میں بڑھتا جاتا ہے، پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (سورہ علق، آیت نمبر:6/7،
پ:30، ع:1، کی) یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿ كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغٰى أَنْ رَّآهُ اسْتَغْنٰى ﴾۔
ترجمہ: (مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ) خود کو بے نیاز سمجھ کر (شکر کے بدلے خدا سے الٹے)
سرکشی کرتا ہے اور عون رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا دوسرے یعنی (صاحب علم) کے متعلق عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ نے (سورہ فاطر، آیت نمبر:28، پ:22، ع:4، کی) یہ آیت ﴿ إِنَّمَا يَخْشَى
اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا ﴾ تلاوت فرمائی کہ اللہ کے بندوں میں سے علماء ہی اللہ سے ڈرتے
ہیں۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے)۔
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, there will be some people from my Ummah who will seek knowledge in religion and recite the Quran. They will say, 'We will go to the rulers to take a portion of their world, and we will keep our religion separate from them.' But this will not be like the thorns of the plant al-Qatad, from which nothing can be gathered except thorns. Likewise, nothing will be gained from being close to them except sin." [Narrated by Ibn Majah}
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے لوگ عنقریب دین میں سمجھ
پیدا کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم امراء (یعنی دولت مندوں) کے
پاس جاتے ہیں کہ ان کی دنیا سے کچھ حاصل کر لیں اور ان سے اپنے دین کو بچائے رکھیں
گے حالانکہ ایسا نہ ہو سکے گا کیوں کہ جس طرح خاردار درخت سے صرف کانٹے کے سوا
کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی، اسی طرح امراء کی نزدیکی سے اسی چیز کو حاصل کریں گے،
(امام بخاری کے استاد) محمد بن صباح رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے اور ان کی مراد اس سے
گناہ تھی (یعنی امراء کی ہم نشینی سے گناہ ہی حاصل ہوں گے)۔ (اس کی روایت ابن
ماجہ نے کی ہے۔)
It is narrated from Abdullah bin Mas'ud (may Allah be pleased with him) that he said:
"If the people of knowledge had safeguarded their knowledge and placed it with those who deserved it, they would have dominated the people of their time. But instead, they gave it to the people of the world to gain from their worldly affairs, and so it became trivialized for them. I heard your Prophet (ﷺ) say: 'Whoever makes his concerns one concern, the concern of his Hereafter, Allah will take care of his worldly concerns. And whoever is overwhelmed with the various concerns of this world, Allah will not care in which valley he perishes.'"
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: اگر اہل علم،
علم کی حفاظت کرتے اور علم کو اس کے اہل تک ہی پہنچاتے تو علم کے ذریعہ سے زمانے کے سردار بن
جاتے لیکن انہوں نے علم کو اہل دنیا کے لئے استعمال کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے ان کی دنیا میں سے
کچھ حاصل کریں۔ تو دنیا داروں کی نظر میں ذلیل ہو گئے۔ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو
فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے تمام فکروں کو ایک فکر یعنی آخرت کی فکر بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا
کی تمام فکروں کے لئے کافی ہو جاتے ہیں اور جس کو دنیا کی فکریں اور احوال پراگندہ کر دیں (یعنی کبھی
کسی فکر میں لگا اور کبھی کسی میں) تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ دنیا کے کسی جنگل میں ہلاک
ہو جائے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ”مَنْ جَعَلَ
الْهُمُومَ“ سے تا آخر روایت کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: جھگڑنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کو دوسری آیت سے جھٹلایا جائے، مناسب یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں موافقت کی کوشش کرے، اگر موافقت دشوار معلوم ہو تو یہ عقیدہ رکھے کہ یہ میری بدفہمی ہے اور اس کے علم کو اللہ اور رسول پر سونپ دے۔12