It is narrated from Al-A'mash that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The affliction of knowledge is forgetfulness, and its loss is when you narrate it to those who are not its rightful people."
اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم کی آفت بھول جانا ہے اور اس کو ضائع کرنا یہ ہے کہ تو اس کو نا اہل کے سامنے
بیان کرے۔ (اس کی روایت دارمی نے بطریق ارسال کی ہے۔)
It is narrated from Sufyan 1 that Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) said to Ka'b: "Who are the people of knowledge?" Ka'b replied: "Those who act upon what they know." Umar (may Allah be pleased with him) then asked: "What causes knowledge to depart from the hearts of the scholars?" Ka'b answered: "Greed."
سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کعب
رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ علم والے کون ہیں؟ کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ لوگ ہیں جو
ان باتوں پر عمل کرتے ہیں، جن کو وہ جانتے ہیں۔
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر وہ کیا چیز ہے جو علماء کے دل سے علم کو نکال دیتی ہے؟ کعب
رضی اللہ عنہ نے کہا: طمع (حرص)۔ (دارمی نے اس کی روایت کی ہے۔)
Al-Ahwas ibn Hakeem narrated from his father who said: A man asked the Prophet ﷺ about evil, and he said: “Do not ask me about evil, ask me about good.” He repeated this three times, then said: “Indeed, the worst of evil is the evil of the scholars, and the best of good is the good of the scholars.”
احوص بن حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے والد حکیم سے روایت کرتے ہیں (ان کے
والد حکیم) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کی نسبت دریافت کیا، ارشاد ہوا
مجھ سے شر کی نسبت نہ پوچھو، بلکہ مجھ سے خیر سے متعلق سوال کرو، اس کو تین مرتبہ فرمایا، پھر ارشاد ہوا
سنو! بُروں میں سب سے بُرے، بُرے علماء ہیں اور بھلوں میں سب سے بہتر (بھلے) علماء ہیں۔
(دارمی نے اس کی روایت کی ہے۔)
ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین شخص وہ عالم ہے جس نے اپنے علم سے
کچھ فائدہ حاصل نہیں کیا۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔)
Ziyad ibn Hudayr narrated that Umar (may Allah be pleased with him) said to me: “Do you know what destroys Islam?” I said: “No.” He said: “It is the mistakes of the scholars, the arguments of the hypocrites with the Book, and the rulings of misleading rulers.”
زیاد بن حُدَیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر رضی اللہ
تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا تم کو معلوم ہے کہ اسلام کو کیا چیز تباہ کرتی ہے؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا، فرمایا: عالم
کی (1) لغزش، (2) منافق کا کتاب اللہ سے (تاویلات باطلہ کے ذریعہ) جھگڑنا اور (3) گمراہ حکام کے
فیصلے (یہ سب اسلام کو) تباہ کر دیتے ہیں۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔)
Hasan narrated: There are two types of knowledge: the knowledge in the heart, which is the beneficial knowledge, and the knowledge on the tongue, which is the proof of Allah (the Mighty and Majestic) over the son of Adam.
حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ علم دو قسم کے
ہوتے ہیں: ایک علم دل میں ہوتا ہے اور یہی علم کار آمد ہے، ایک علم زبان پر ہوتا ہے اور ایسا علم اللہ کی
طرف سے انسان پر حجت ہے (یعنی یہ الزام دے گا کہ تم کو ہم نے علم دیا تھا تو پھر کیوں تم نے اس پر
عمل نہیں کیا)۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurayra (may Allah by pleased with him): I have preserved from the Messenger of Allah ﷺ two containers of knowledge. As for one of them, I have spread it among you, and as for the other, if I were to spread it, this throat (meaning the food passage) would be cut off.
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے دو طرح کے علم محفوظ کئے ہیں: ایک علم کی تو میں نے تم میں اشاعت کی ہے، اگر
دوسرے علم کی اشاعت کروں تو یہ گلا کاٹ دیا جائے گا۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 120 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: دوسرے علم سے مراد یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم
ہوا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد کئی قسم کے فتنے اٹھیں گے اور ظالم حکام برسر اقتدار ہوں گے جن کے نام
تک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتلا دیئے گئے تھے۔
Abdullah (may Allah be pleased with him) said: "O people, whoever knows something, let him speak about it, and whoever does not know, let him say: 'Allah knows best.' For it is part of knowledge to say 'Allah knows best' about what you do not know." Allah, the Exalted, said to His Prophet: "Say, 'I do not ask you for it any reward, and I am not one of the pretentious.'" (Surah Sad, 86).
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اے لوگو!
جو شخص کسی چیز کا علم رکھتا ہو تو اس کو بیان کردے، اور جو کسی چیز کا علم نہ رکھتا ہو تو کہہ دیا کرے ”اَللّٰهُ
أَعْلَمُ“ (اللہ زیادہ جاننے والے ہیں)۔ اللہ نے اپنے نبی سے (سورہ ص، پ:23، ع:5، آیت
نمبر:86) میں فرمایا: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ (کہو میں تم
سے اس پر کوئی اُجرت نہیں چاہتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں)۔ بخاری اور مسلم نے با
تفاق اس کی روایت کی ہے۔
ابن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ یہ علم (کتاب و سنت) دین
ہے تو تم غور کرلو کہ اپنا دین کس سے حاصل کررہے ہو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Hudhayfah (may Allah be pleased with him) said: "O gathering of Qurra (reciters), be upright, for you have gone ahead with a great lead, and if you take to the right or the left, you will be lost in a great error."
حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اے علماء کے گروہ!
راہ راست پر قائم رہو کیوں کہ (راہ راست پر استقامت میں) تمہارے اسلاف تم پر سبقت پا چکے
ہیں اور اگر تم (سلفِ صالح کی اتباع کو چھوڑ کر) دائیں بائیں چلو گے (یعنی نئے نئے طریقے ایجاد کرو
گے تو راہ راست سے) بھٹک کر گمراہی میں بہت دور جا پڑو گے۔ (بخاری نے اس کی روایت کی
ہے۔)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Seek refuge with Allah from the pit of grief." They said: "O Messenger of Allah, what is the pit of grief?" He said: "It is a valley in Hell, from which Hell itself seeks refuge four hundred times a day." They said: "O Messenger of Allah, who will enter it?" He said: "The reciters who show off with their deeds." [Narrated by Al-Tirmidhi and also by Ibn Majah]
In the additional wording, he said: "And among the most hated of reciters to Allah are those who visit the rulers." Al-Muharibi said: "By this he means the tyrants."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اللہ تعالیٰ کی جُبّ الحزن (غم کے کنویں) سے پناہ مانگو، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب
الحزن کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم ہر دن چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے،
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کون داخل ہوگا؟ ارشاد فرمایا: وہ علماء اور قراء جو اپنے عمل
میں ریا کاری کرتے ہیں۔ (ترمذی نے اس کی روایت کی ہے) ابن ماجہ نے اتنا اضافہ اور کیا ہے ”وَإِنَّ
ہیں جو امراء کے پاس آتے جاتے ہیں) محاربی نے کہا ہے کہ: امراء سے یہاں ظالم امراء مراد ہیں۔
Ali (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "A time will soon come upon people when nothing will remain of Islam except its name, and nothing will remain of the Qur'an except its script. Their mosques will be full, yet they will be empty of guidance. Their scholars will be the worst of those under the sky. From them will emerge fitnah, and in them it will return."
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: عنقریب ایک ایسا زمانہ لوگوں پر آنے والا ہے کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور قرآن کا
صرف رسم (یعنی قرآن کی تجوید اور درستی الفاظ کی طرف تو توجہ کریں گے لیکن عمل سے دور رہیں گے)
ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت اور یاد الٰہی سے خالی ہوں گے، اور ان کے علماء آسمان کے نیچے
رہنے والوں میں سب سے بدتر ہوں گے، ان ہی سے فتنے نکلیں گے اور ان ہی میں یہ فتنے لوٹیں
گے۔ (اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
Ziyad ibn Labid (may Allah be pleased with him) said: The Prophet ﷺ mentioned something and then said: "That will be at the time when knowledge departs." I said: "O Messenger of Allah, how can knowledge depart when we recite the Qur'an, and we teach it to our children, and our children teach it to their children until the Day of Judgment?" He said: "May your mother mourn you, Ziyad! I used to think you were one of the most knowledgeable men in Madinah. Do not the Jews and the Christians read the Torah and the Gospel but do not act upon anything in them?"
زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
کسی چیز کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ یہ چیز علم کے اٹھ جانے کے وقت ہوگی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم علم کیسے اٹھ جائے گا؟ جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں
اور ہمارے بچے اپنے بچوں کو قیامت تک پڑھاتے ہی رہیں گے۔ ارشاد ہوا: اے زیاد! تم پر تعجب
ہے میں تو تم کو مدینہ کے نہایت سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا، کیا یہ یہود و نصاریٰ توریت اور انجیل
نہیں پڑھا کرتے ہیں، مگر وہ ان ہر دو کتابوں کی کسی چیز پر عمل نہیں کرتے۔ (اس کی روایت امام احمد
اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے زیاد رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔)
اور دارمی کی روایت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی ہے۔
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: "Learn knowledge and teach it to the people. Learn the obligatory duties and teach them to the people. Learn the Qur'an and teach it to the people. Indeed, I am a man whose life is limited, and knowledge will be taken away. Fitnah will appear until two people will differ over an obligatory matter and will not find anyone to judge between them."
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم دین سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھلاؤ، فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھلاؤ۔ قرآن
پڑھو اور اسے لوگوں کو پڑھاؤ، اس لئے کہ میں وفات پانے والا ہوں اور علم عنقریب اٹھا لیا جائے گا اور
فتنے پھوٹ پڑیں گے حتیٰ کہ دو آدمی کسی مسئلہ میں اختلاف کریں گے تو کسی کو بھی (علم کی قلت کی وجہ
سے) ایسا نہیں پائیں گے کہ وہ ان میں فیصلہ کر سکے۔ (اس کی روایت دارمی اور دارقطنی نے کی
ہے)۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The example of knowledge that is not benefited from is like the example of treasure that is not spent in the way of Allah."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اس علم کی مثال جس سے دوسرے کو فائدہ نہ پہنچے اُس خزانہ کی ہے جس کو راہِ خدا میں خرچ نہ کیا
جائے۔ (اس کی روایت امام احمد اور دارمی نے کی ہے)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) In the original text by the author: "bin" instead of "that".
Note 1
(۱) وفي الأصل المؤلف: «بن» بدل «أن».
Note 1
ف: حرص اور طمع علماء کے دلوں سے علم کی برکت، ہیبت اور نور کو دور کردیتی ہے۔12