اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2369
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: (حقیقی شہادت تو وہ ہے کہ کوئی شخص جہاد میں کافروں کے ہاتھ
سے مارا جائے) اس شہادت فی سبیل اللہ کے سوا اور بھی سات قسم کی شہادتیں ہیں (1) طاعون سے
مرنے والا شہید ہے (اور جو خود کشی کے لئے قصداً (پانی میں گر کر مر گیا تو یہ ناجائز موت ہے، ایسا
شخص شہید نہیں ہوگا بلکہ) (2) وہ شخص (جو اتفاق سے) پانی میں گرا، (بچ نہ سکا اور مر گیا یہ شہید ہے
(3) ذات الجنب یعنی نمونیہ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے (4) اور پیٹ کی بیماریوں (جیسے
ہیضہ، پیچش، اسہال، استسقاء، قولنج اور درد شکم) سے مرنے والا بھی شہید ہے (جو خود کشی کے لئے
قصداً آگ میں جل کر مرے تو وہ شہید نہیں ہے وہ ناجائز موت سے مرنے والا سمجھا جائے گا بلکہ)
(5) جو اتفاقاً جل کر مرے وہ شہید ہے (6) جو شخص کسی چیز کے نیچے دب کر مر جائے تو وہ بھی شہید
ہے (7) جو عورت کہ اس کی زچگی ہو رہی تھی بچہ پیدا نہ ہو سکا اور پیٹ میں رہ گیا اور وہ عورت مر گئی،
ایسی عورت شہید ہے (ایسے ہی وہ عورت جس کا بچہ تو پیدا ہو گیا مگر آنول نہ نکل سکی اور اس کا زہر چڑھ
گیا اور وہ مر گئی تو وہ بھی شہید ہے، ایسا ہی وہ عورت جو زچگی کے بعد زچگی کی وجہ سے مر جائے وہ بھی
شہید ہے ایسے ہی جو باکرہ عورت (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) باکرہ ہی
رہ کر یا کسی بھی بیماری سے مر جائے وہ بھی شہید ہے۔)۔
اس حدیث کی روایت امام مالک، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3111 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1846 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1561 (unverified) 85% confidence
Mishkat (candidate) 1561
Confidence and text similarity are not editorial verification.