Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2130

Chapter on Walking with the Funeral and Praying Over It

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Walking with the Funeral and Praying Over It

Zujajat al-Masabih 2130Volume 1

English

Shaddad ibn Al-Had reported: A Bedouin man came to the Prophet (ﷺ), believed in him, and followed him. He then said, "I will migrate with you." The Prophet (ﷺ) entrusted him to some of his companions. When a battle took place, the Prophet (ﷺ) gained spoils and distributed them, giving the man his share. His companions took his share, and he tended to their camels. When they returned, they gave him his share. He said, "What is this?" They replied, "Your share from the Prophet’s distribution." He took it and went to the Prophet (ﷺ), saying, "What is this?" The Prophet (ﷺ) said, "I distributed it to you." He said, "I did not follow you for this, but I followed you so that I could be struck here"—pointing to his neck—"with an arrow and die, entering Paradise." The Prophet (ﷺ) said, "If you are truthful with Allah, He will fulfill your wish." They stayed for a short while, then they rose to fight the enemy. The man was brought to the Prophet (ﷺ), carried after being struck by an arrow where he had pointed. The Prophet (ﷺ) said, "Is this him?" They said, "Yes." He said, "He was truthful with Allah, and Allah fulfilled his wish." The Prophet (ﷺ) shrouded him in his own cloak, placed him forward, and prayed over him, saying, "O Allah, this is Your servant who migrated for Your sake and was killed as a martyr. I bear witness to that."

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۱۳۰ - وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ (رضي الله عنه) أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: أُهَاجِرُ مَعَكَ، فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ ﷺ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةٌ غَنِمَ النَّبِيُّ ﷺ سَبْيًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ، فَأَعْطَى أَصْحَابَهُ مَا قَسَمَ لَهُ، وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهُمْ، فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوْهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا : قِسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ النَّبِيُّ ، فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إلَى النَّبِيِّ ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: «قَسَمْتُهُ لَكَ». قَالَ: مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعَتُكَ، وَلَكِنِّي اتَّبَعْتُ عَلَى أَنْ أُرْمَى إِلَى هَهُنَا - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ - بِسَهُم فَأَمُوْتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ. فَقَالَ: إِنْ تَصَدُقِ اللَّهَ يَصْدُقْكَ». فَلَبِثُوا قَلِيلًا ، ثُمَّ نَهَضُوا فِي قِتَالِ الْعَدُوْ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ يُحْمَلُ قَدْ أَصَابَهُ سَهْمُ حَيْثُ أَشَارَ، فَقَالَ النَّبِيُّ : «أَهُمْ هُوَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «صَدَقَ اللَّهَ فَصَدَقَهُ، ثُمَّ كَفَنَهُ النَّبِيُّ ﷺ فِي جُبَّةِ النَّبِيِّ اللهِ، ثُمَّ قَدَّمَهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَكَانَ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ صَلَاتِهِ: «اللَّهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيْلِكَ فَقُتِلَ شَهِيدًا، أَنَا شَهِيدٌ عَلَى ذَلِكَ». رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالصَّحَاوِيُّ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2495
شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر ایمان لایا، اور آپ کے ساتھ ساتھ ہمیشہ رہا کرتا تھا پھر عرض کیا (اب میں اپنا وطن چھوڑ کر، ہمیشہ اسی طرح آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں) حضور (اس کی اجازت دیدیئے اور چونکہ یہ نو وارد تھے اور ابھی ابھی اسلام لائے تھے، اس لئے ایک صحابی کو حکم ہوا کہ ان کو دینی تعلیم دیا کریں اور ان کی خبرگیری کرتے رہیں اس اثناء میں ایک غزوہ کا موقعہ آیا (اور وہاں فتح حاصل ہوئی) اور غنیمت ملی اور غنیمت میں چند غلام باندی ہاتھ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام باندی سب کو تقسیم کر دیئے اور ان اعرابی کا بھی جو حضور کے ساتھ رہا کرتے تھے حصہ نکالے اور اس حصہ کو ان کے ساتھیوں کے حوالے کر دیئے (تاکہ وہ ان اعرابی کو دیدیں) وہ اعرابی اپنے ساتھیوں کے جانور چرایا کرتے تھے، جب وہ (چراگاہ سے) لوٹے تو ان لوگوں نے ان کا حصہ جو رکھا ہوا تھا ان کے حوالے کر دیا، ان اعرابی نے کہا یہ کیا ہے؟ اور مجھے یہ کیوں دیا جا رہا ہے؟ ان کے ساتھیوں نے کہا یہ تمہارا حصہ ہے، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت سے تم کو عطا فرمایا ہے، وہ اعرابی اپنا حصہ لئے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے اور عرض کئے: حضور! یہ مجھے دیا گیا ہے، یہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: یہ تمہارا حصہ ہے، جس کو مال غنیمت سے میں نے تمہیں دیا ہے، ان اعرابی نے عرض کیا: (حضور یہ جو کچھ مجھے ملا ہے یہ خادم نوازی ہے مگر) میں حضور کے ساتھ یہ حصہ لینے کے لئے نہیں رہا ہوں! میں اس واسطے حضور کے ساتھ ہوں کہ میرے حلق پر (جہاد میں کفار کی) تیر لگے اور میں شہید ہوکر جنت میں چلا جاؤں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اگر تم سچے ہو اور (یہ دل سے کہہ رہے ہو) تو تمہارے کہنے کو اللہ تعالیٰ سچ کر دکھائے گا، چند دن نہیں گزرے کہ پھر جہاد کا موقع آیا، کیا دیکھتے ہیں کہ میدان جنگ سے ان اعرابی کی نعش کو اس حالت میں اٹھا کر لائے ہیں (کہ جیسا انھوں نے کہا تھا ویسا ہی ہوا ہے) حلق پر جہاں انھوں نے اشارہ کیا تھا وہیں تیر لگی ہے (اور وہ شہید ہو گئے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ کیا یہ وہی شخص ہے کہ جس نے تیر حلق پر لگ کر شہید ہونے کی تمنا کی تھی، صحابہ عرض کئے: حضور! جی ہاں یہ وہی شخص ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: (ہم سے اس نے جو کچھ کہا) پھر اللہ سے بھی وہی کہا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ اس کے کہے کو سچ کر دکھایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جبہ شریف میں اس کو کفنائے اور اس کو سامنے رکھ کر (صحابہ کے ساتھ) اس پر نماز جنازہ ادا فرمائے (نماز جنازہ میں اس کے لئے آپ جو دعائیں فرمائے ہیں وہ تو آہستہ ہوئیں بجملہ ان دعاؤں کے) ایک جو ظاہر میں دعاء سنی گئی وہ یہ تھی: اے اللہ !یہ آپ کے (مقبول اور مخلص) بندے ہیں، یہ اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کر کے آپ ہی کے لئے آئے ہیں اور آپ ہی کے راستہ میں جہاد میں شریک ہوئے ہیں، کفار کے ہاتھ سے مارے جا کر یہ شہید ہوئے ہیں، میں ان کی شہادت پر گواہ ہوں، (آپ ان کی شہادت قبول فرمائیے، ان کی دعاء کا باقی حصہ پورا کر کے ان کو جنت میں داخل کیجئے۔) اس حدیث کی روایت نسائی اور طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1953 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.