Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2136

Chapter on Walking with the Funeral and Praying Over It

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Walking with the Funeral and Praying Over It

Zujajat al-Masabih 2136Volume 1

English

Nafi' reported: Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) went out, and I was with him, to a funeral. He saw women with it, so he stopped and said, "Send them back, for they are a trial for the living and the dead." Then he proceeded and walked behind it. I said, "O Abu Abdur Rahman, how should one walk in a funeral? In front of it or behind it?" He replied, "Do you not see me walking behind it?"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢١٣٦ - وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَى جَنَازَةٍ، فَرَأَى مَعَهَا نِسَاءً، فَوَقَفَ، ثُمَّ قَالَ: رُدَّهُنَّ فَإِنَّهُنَّ فِتْنَةُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ، ثُمَّ مَضَى فَمَشَى خَلْفَهَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ الْمَشْيُ فِي الْجَنَازَةِ؟ أَمَامَهَا أَمْ خَلْفَهَا؟ فَقَالَ: أَمَا تَرَانِي أَمْشِي خَلْفَهَا. رَوَاهُ الصَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2501
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک جنازہ کے ساتھ چلنے کے لئے نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا، حضرت ابن عمر دیکھے کہ جنازہ کے ساتھ کچھ عورتیں بھی چل رہی ہیں، آپ فوراً ٹھہر گئے، پھر فرمایا ہے کہ ان عورتوں کو جنازہ کے ساتھ چلنے سے روک دو، اس لئے کہ عورتیں زندہ اور مردہ دونوں کے لئے فتنہ ہیں (جب عورتیں رک گئیں تو) حضرت ابن عمر چلنا شروع کئے اور جنازہ کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، نافع کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: حضرت ارشاد فرمائے، جنازہ کے ساتھ کس طرح چلنا چاہئے، کیا جنازہ کے آگے چلیں یا پیچھے؟ تو آپ فرمائے کہ کیا تم مجھے نہیں دیکھ رہے ہو کہ میں جنازہ کے پیچھے چل رہا ہوں۔ (اس سے
Commentary and footnotes (1)

Note 1

تم کو سمجھنا چاہئے کہ جنازہ کے پیچھے چلنا ہی افضل ہے۔ اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔