Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2303

(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں ہے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں ہے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور

Zujajat al-Masabih 2303Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2706
قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قرضہ کی ادائی کی ضمانت اپنے اوپر لی تھی (جو ایک دیت یعنی خونبہا کے سلسلہ میں تھی، چونکہ مصرف زکات میں قرض کی ادائی بھی شامل ہے اس لئے) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ قرض کی ادائی کے لئے کچھ مرحمت فرمائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: کچھ دن ٹھہر جاؤ۔ یہاں تک کہ ہمارے پاس زکات کا مال آ جائے اور ہم اس میں سے تم کو دلوا دیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اے قبیصہ! (یاد رکھو) سوال کرنا صرف تین آدمیوں کے لئے جائز ہے۔ (ایک) اس شخص کے لئے جو کسی قرضہ کا ضامن ہو تو اس کے لئے اسی حد تک مانگنا جائز ہے کہ اس سے اس قرضہ کی ادائی ہو جائے (بشرطیکہ وہ اس کی ادائی سے قاصر ہو) اور پھر اس کے بعد نہ مانگے۔ (دوسرے) اس شخص کو سوال کرنا جائز ہے جس کا مال و اسباب کسی آفت ناگہانی کے تحت تباہ و برباد ہو گیا ہو) جیسے کھیتی گھر دار وغیرہ تو ایسے شخص کو) اس حد تک (مانگنا جائز ہے) جس سے اس کے کھانے اور کپڑے کی ضرورت پوری ہو جائے یا اس حد تک کہ وہ اپنا کاروبار سنبھار لے سکے (تیسرے) اس شخص کو (بھی) سوال کرنا جائز ہے جو ایسے فقر و فاقہ میں مبتلا ہو گیا ہو کہ جس کی تصدیق ایسے تین سمجھدار آدمی کرتے ہوں جو اس کو جانتے پہچاننے والے ہوں (تو اس کو) اس حد تک (مانگنا جائز ہے) کہ جس سے اس کی خوراک اور لباس کی ضرورت پوری ہو جائے یا اس حد تک کہ وہ اپنی زندگی کو سنبھال لے سکے۔ اے قبیصہ! ان تینوں کے سوا کسی کو سوال کرنا جائز نہیں ہے (اگر کوئی شخص ان تینوں صورتوں کے سوا سوال کرے گا) تو ایسا سوال اس کے لئے حرام ہوگا اور (اس سوال کے ذریعہ سے) وہ حرام مال کھائے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1044 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Until he obtains enough to sustain himself.

(1) The statement: “Until he obtains enough to sustain himself.” Al-Tahawi said: “The Messenger of Allah (ﷺ) permitted the needy to ask until he obtains enough to sustain himself. This indicates that charity is not prohibited for the healthy if the giver intends to relieve his poverty. It is only prohibited if the recipient intends something else, such as increasing his wealth. Whoever seeks it for other than the three reasons mentioned by the Messenger of Allah (ﷺ) in the hadith of Qabisah ibn Mukhariq is consuming it unlawfully.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: يصيب قواما إلخ : وقال الطحاوي: فأباح رسول الله ﷺ في هذا الحديث لذي الحاجة أن يسأل لحاجته حتى يصيب قوامًا من عيش أو سدادًا من عيش. فدل ذلك أن الصدقة لا تحرم بالصحة إذا أراد بها الذي تصدق بها عليه سد فقره، وإنما تحرم عليه إذا كان يريد بها غير ذلك من التكثر ونحوه. ومن يريد بها ذلك فهو ممن يطلبها لسوى المعاني الثلاثة التي ذكرها رسول الله ﷺ في حديث قبيصة بن مخارق الذي ذكرنا: «فهو عليه سحت».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ حاجت مند اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے سوال کر سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل کے سوال کرنے کے لئے معذوری اور بیماری شرط نہیں ہے۔ تندرست آدمی جو فقر و فاقہ میں مبتلا ہوا، اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے سوال کر سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔