Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2304

(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں ہے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں ہے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور

Zujajat al-Masabih 2304Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2707
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ غنی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے (یعنی ایسے شخص کے لئے جس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو) اور نہ اس شخص کے لئے (سوال کرنا جائز ہے) جو تندرست اور طاقت ور ہو (اور کمانے پر قادر ہو) ہاں اس شخص کو (سوال کرنا جائز ہے) جس کو فقر و فاقہ نے زمین پر گرا دیا ہو، یا زیادہ قرضدار ہو گیا اور جو شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لئے لوگوں سے سوال کرتا پھرے تو یہ (سوال) قیامت کے دن اس کے چہرے پر زخم کی صورت میں نمودار ہوگا اور (اس طرح کے سوال سے حاصل کیا ہوا مال قیامت کے دن) جہنم کے گرم پتھروں کی شکل میں ہوگا جن کو یہ کھائے گا (چہرے پر زخم کا عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف غیر اللہ کی طرف توجہ کی اور سوال کیا اور گرم پتھروں کے کھانے کا عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ اس نے اپنی زبان اور منہ سے سوال کر کے اللہ تعالیٰ کی شکایت مخلوق سے کی ہے) (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) تو جو چاہے اس کو (یعنی ایسے ناجائز سوال کے عذاب کو) کم کرے اور جو چاہے اس کو بڑھا لے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 653 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Asking is not permissible for the wealthy.

(2) The statement: “Asking is not permissible for the wealthy.” In Al-Durr Al-Mukhtar: “It is not permissible to ask for sustenance if one has enough for the day, whether in actuality or potentially, such as a healthy person who can earn.”

Note 2

قوله

(۲) قوله: إن المسألة لا تحل إلخ: وقال في الدر المختار: ولا يحل أن يسأل شيئًا من القوت من له قوت يومه بالفعل، أو بالقوة كالصحيح المكتسب.

Note 1

ف: حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ غنی کے لئے سوال جائز نہیں ہے، اس بارے میں درمختار میں لکھا ہے جس کسی کے پاس ایک دن کی خوراک موجود ہو تو ایسے شخص کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے اور اس شخص کے لئے بھی سوال کرنا جائز نہیں ہے جس کے پاس ایک دن کی خوراک تو موجود نہیں، لیکن وہ صحیح اور تندرست ہے اور کمانے پر قادر ہے۔12