Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2308

Chapter on Those for Whom Asking is Not Permissible and Those for Whom It Is

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on Those for Whom Asking is Not Permissible and Those for Whom It Is

Zujajat al-Masabih 2308Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that a man from the Ansar came to the Prophet (ﷺ) to ask him for help. The Prophet (ﷺ) said: “Do you not have anything in your house?” He said: “Yes, a piece of cloth that we wear and spread, and a bowl from which we drink water.” The Prophet (ﷺ) said: “Bring them to me.” He brought them, and the Prophet (ﷺ) took them in his hand and said: “Who will buy these?” A man said: “I will take them for a dirham.” The Prophet (ﷺ) said: “Who will offer more than a dirham?” He repeated this two or three times. Another man said: “I will take them for two dirhams.” The Prophet (ﷺ) gave them to him, took the two dirhams, and gave them to the Ansari. He said: “Buy food with one of them and give it to your family, and buy an axe with the other and bring it to me.” He brought it, and the Prophet (ﷺ) tied a handle to it with his hand and said: “Go, gather firewood and sell it. Do not let me see you for fifteen days.” The man went and gathered firewood and sold it. He returned having earned ten dirhams. He bought clothes with some and food with the rest. The Prophet (ﷺ) said: “This is better for you than asking, which will leave a mark on your face on the Day of Resurrection. Asking is only permissible for three: one in severe poverty, one in overwhelming debt, or one with blood money to pay.” [Narrated by Abu Dawud] Ibn Majah narrated it up to the words: “On the Day of Resurrection.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٠٨ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه)أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ: «أَمَا فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ؟» قَالَ: بَلَى ، حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ، وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ. قَالَ: «ائْتِنِي بِهِمَا قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمَا، فَأَخَذَهُمَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ؟ قَالَ رَجُلٌ : أَنَا أَخُذُهُمَا بِدِرْهَم. قَالَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَم؟» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدَّرْهَمَيْنِ وَأَعْطَاهُمَا الْأَنْصَارِيَّ، وَقَالَ: «اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ، وَاشْتَرِ بِالْآخَرِ قَدُوْمًا فَأْتِنِي بِهِ». فَأَتَاهُ بِهِ فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ عُوْدًا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ، وَلَا أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ، فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ، فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : «هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةٌ فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ لِذِي دَمٍ مُوْجِع». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ ابْنِ مَاجَهِ إِلَى قَوْلِهِ: «يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2711
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر کچھ مانگنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرمائے کہ کیا تمہارے گھر میں کچھ بھی نہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا: جی ہاں میرے پاس ایک موٹی کمبل ہے جس کا ایک حصہ تو ہم اوڑھ لیتے ہیں اور ایک حصہ بچھا لیتے ہیں، اور لکڑی کا ایک چھوٹا پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ تم وہ دونوں چیزیں میرے پاس لاؤ تو وہ انصاری دونوں چیزیں آپ کی خدمت میں لے آئے، ان دونوں چیزوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک میں لے کر فرمائے: ان کو کون خریدتا ہے؟ ایک صاحب نے کہا کہ میں ان دونوں کو ایک درہم میں لیتا ہوں۔ پھر آپ فرمائے کہ اس کو ایک درہم سے زیادہ میں کون خریدتا ہے؟ اس کو آپ دو یا تین بار فرمائے! اس پر ایک صاحب نے کہا کہ میں ان دونوں کو دو درہم میں لیتا ہوں تو حضور ان دونوں چیزوں کو ان کے حوالہ فرمائے اور درہم لے لئے اور ان کو انصاری کو دے کر ارشاد فرمائے کہ ایک درہم کا غلہ لے کر گھر والوں کو دیدو اور دوسرے درہم کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آؤ تو وہ انصاری کلہاڑی خرید کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کلہاڑی میں لکڑی (کا دستہ) اپنے دست مبارک سے لگادی اور فرمایا کہ جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرو اور پندرہ دن تک تم مجھ سے نہ ملنا (اور اسی کام میں مشغول رہنا) چنانچہ وہ انصاری چلے گئے (روزانہ) لکڑیاں کاٹتے اور فروخت کیا کرتے، پھر جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے پاس دس درہم تھے تو (انھوں نے اس میں سے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان صاحب سے ارشاد فرمایا کہ یہ کام تمہارے لئے مانگنے سے بہتر ہے کہ جس کی وجہ سے قیامت کے دن تمہارے چہرہ پر ایک داغ ہوجائے، کیونکہ مانگنا صرف تین ہی آدمیوں کے لئے جائز ہے: (ایک) اس شخص کے لئے جو فقر و فاقہ سے خاک آلودہ ہوچکا ہو یا (دوسرے) اس شخص کے لئے جو بہت قرض دار ہو اور (قرض کے بار سے) پریشان ہو، یا (تیسرے) اس شخص کے لئے جس پر خون بہا واجب ہو اور (اس کو ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے) بہت پریشان ہو۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1641 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2198 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.