Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2318

Chapter on Those for Whom Asking is Not Permissible and Those for Whom It Is

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on Those for Whom Asking is Not Permissible and Those for Whom It Is

Zujajat al-Masabih 2318Volume 1

English

Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) narrated: “I asked the Messenger of Allah (ﷺ), and he gave me. I asked him again, and he gave me. Then he said to me: ‘O Hakim, this wealth is green and sweet. Whoever takes it with a generous heart will be blessed in it, but whoever takes it with greed will not be blessed in it and will be like one who eats but is never satisfied. The upper hand is better than the lower hand.’ Hakim said: ‘I said: By the One who sent you with the truth, I will never ask anyone for anything after you until I leave this world.’”

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۳۱۸ - وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ (رضي الله عنه) قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرُ حُلُو، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُوْرِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى». قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2721
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (کچھ مال) مانگا آپ نے مجھے عطا فرمایا۔ میں نے (دوسری بار) پھر سوال کیا تو آپ نے (دوبارہ بھی) عطا فرمایا (میں نے تیسری بار سوال کیا) تو حضورؐ ارشاد فرمائے اے حکیم (دنیا کا) یہ مال ومتاع خوشنما اور لذیذ معلوم ہوتا ہے، پس جو کوئی اس کو (بے مانگے) اور بغیر طمع کے حاصل کرے تو اس مال میں اس کو برکت دی جائے گی اور جو کوئی لالچ اور حرص کے ساتھ حاصل کرے تو اس کو ایسے مال میں برکت نہیں دی جائے گی اور اس کا ایسے شخص کا سا حال ہوگا جو کھائے اور (بے برکتی کے سبب) سیر نہ ہو (اور یہ بھی ارشاد فرمایا اے حکیم) اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے (یہ سن کر) حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات عالی کی قسم یا جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب اس کے بعد کسی سے سوال نہیں کروں گا، یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوجاؤں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1472 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1035a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.