Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2321

(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں ہے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب ان لوگوں کے بیان میں ہے کہ جن کو سوال کرنا (مانگنا) جائز نہیں ہے اور

Zujajat al-Masabih 2321Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2724
ابن الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل زکات مقرر فرمایا جب میں (زکات وصول کرنے سے) فارغ ہوگیا اور زکات کا مال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالہ کردیا تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ مجھ کو میری خدمت کا معاوضہ دیدیا جائے تو میں نے عرض کیا کہ میں نے تو یہ کام اللہ کے لئے کیا ہے اور میرا اجر اللہ تعالیٰ دیں گے تو حضرت عمر فرمائے: جو کچھ تم کو دیا جا رہا ہو وہ لے لو۔ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں (زکات وصول کرنے کی) خدمت انجام دی تھی تو حضور ﷺ نے بھی مجھ کو اس کا معاوضہ دیا تو میں نے بھی وہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے ارشاد فرمائے کہ جب تم کو کوئی چیز بغیر سوال کے دی جائے (تو اس کو لے لو، اگر حاجت ہو) تو اس کو استعمال کرلو، اور (اگر غنی ہو تو) خیرات کردو۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1647 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بیت المال سے عام کاموں کا معاوضہ لینا جائز ہے جیسے قضاوت، احتساب اور تدریس، بلکہ امام پر واجب ہے کہ بیت المال سے اس قسم کے کام کرنے والوں کی کفالت کرے۔