العربية
Typed, pending editorial approval
٢٣٢٣ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيْهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ قَالَ التَّفَيْلِيُّ - وَهُوَ أَحَد رُوْاتَهُ - فِي مَوْضِعِ آخَرَ: وَمَا الْغِنَى الَّذِي لَا تَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَهُ، قَالَ: قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ، فِي مَوْضِعِ آخَرَ أَنْ يَكُوْنَ لَهُ شِبْعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1629 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: محیط میں مذکور ہے کہ غنی یعنی تونگری کی تین قسمیں ہیں: ایک غنی وہ ہے جو آدمی پر زکات واجب کرتی ہے یعنی وہ ایسے مال کا مالک ہے جو نصاب کو پہنچتا ہو (ایسے شخص پر سوال کرنا اور دوسروں کی زکات لینا حرام ہے)۔ غنی کی دوسری قسم وہ ہے کہ اس پر زکات تو واجب نہیں البتہ صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے (ایسے شخص پر بھی سوال کرنا اور دوسروں کی زکات لینا حرام ہے)۔ غنی کی تیسری قسم وہ ہے کہ آدمی کے پاس ایک دن کا خوراک اور اتنا کپڑا موجود ہو جس سے وہ اپنا ستر چھپا لے تو ایسے شخص پر بھی سوال حرام ہے، البتہ وہ دوسروں سے زکات اور خیرات لے سکتا ہے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔