اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2811
رائطہ بنت عبداللہ جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور جو ایک
ہنرمند صحابیہ ہوئی ہیں ان سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، بیروزگار تھے تو یہ
(اپنے ہنر کی آمدنی کو روزانہ) ان پر اور ان کی اولاد پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ (چونکہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے عورتوں کو حکم (جیسا کہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں مذکور ہے، جو زینب زوجہ ابن
مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔12) دیا تھا کہ وہ خیرات کیا کریں، یہ ارشاد سن کر) انہوں نے
(اپنے شوہر سے) کہا خدا کی قسم! تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے خیرات کرنے سے روک رکھا ہے
(کہ میرے ہنر کی پوری آمدنی تم پر خرچ ہو جاتی ہے) جس کی وجہ سے میں کچھ بھی خیرات نہیں کر سکتی
ہوں (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر ہم پر خرچ کرنے کی وجہ سے تم ثواب
سے محروم ہو رہی ہو تو مجھے بھی پسند نہیں کہ تم ہم پر خرچ کرو، تو یہ دونوں حضرات (میاں بیوی) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (حاضر ہوئے اور) رائطہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم میں ایک ہنرمند عورت ہوں اور (چیزیں بنا کر) فروخت کرتی ہوں اور (اس وقت)
میرے بچے اور میرے خاوند کے پاس کچھ بھی (مال) نہیں ہے (چونکہ میں ان پر خرچ کرتی ہوں)
اس لئے میں خیرات نہیں کر سکتی ہوں (حضور ﷺ! ارشاد ہو کہ) میری آمدنی جو ان پر خرچ ہو رہی
ہے کیا اس کا مجھے اجر و ثواب ملے گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جب تک تم ان پر
خرچ کرو گی تم کو اس کا (برابر) ثواب ملتا رہے گا۔ اس لئے تم ان پر خرچ کرتی جاؤ۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "A woman from Sana’a" etc. In Sharh Ma’ani al-Athar, it is said: "This indicates that the charity mentioned was voluntary and not obligatory. Rabitah was Zainab, the wife of ‘Abdullah ibn Mas’ud. It is not known that ‘Abdullah had another wife during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The evidence that this charity was voluntary is her statement: 'I was a skilled woman, and I used to sell from my work and spend on ‘Abdullah.' The response of the Messenger of Allah (ﷺ) in this hadith and the previous one was in answer to her question. In this hadith of Rabitah, it is mentioned: 'I used to spend from that on ‘Abdullah and his children.' It is unanimously agreed that a woman cannot spend her Zakat on her children. Since what she spent on her children was not from Zakat, similarly, what she spent on her husband was also not from Zakat."
Note 1
(۱) قوله: امرأة صنعاء إلخ : وقال في شرح معاني الآثار»: ففي هذا الحديث أن تلك الصدقة مما لم يكن فيه زكاة، ورابطة هذه هي زينب امرأة عبد الله لا تعلم أن عبد الله كانت له امرأة غيرها في زمن رسول الله ﷺ. والدليل على أن تلك الصدقة كانت تطوعًا كما ذكرنا قولها: «كنت امرأة صنعاء، أصنع بيدي فأبيع من ذلك، فأنفق على عبد الله»، فكان قول رسول الله ﷺ الذي في هذا الحديث وفي الحديث الأول جوابا لسؤالها هذا. وفي حديث رابطة هذا: كنت أنفق من ذلك على عبد الله على ولده مني. وقد أجمعوا على أنه لا يجوز للمرأة أن تنفق على ولدها من زكاتها، فلما كان ما أنفقت على ولدها ليس من الزكاة، فكذلك ما أنفقت على زوجها ليس هو أيضًا من الزكاة.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رائطہ رضی اللہ عنہا اپنی روزانہ کی کمائی سے اپنے شوہر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور اپنی اولاد پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ واضح ہو کہ حضرت رائطہؓ کا ان پر خرچ کرنا مد زکات سے نہ تھا اس کی دلیل شرح معانی الآثار میں اس طرح مذکور ہے کہ خود حضرت رائطہؓ فرماتی ہیں کہ میں ایک ہنرمند عورت ہوں اور اپنی دستکاری سے (روزانہ) جو کچھ بناتی ہوں اور اس کی آمدنی کو حضرت ابن مسعود پر خرچ کرتی ہوں۔ (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی روز مرہ کی آمدنی کو ہر روز خرچ کر دیا کرتی تھیں، اس لئے مال پر سال کے نہ گزرنے کی وجہ سے زکات کے نصاب کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ لہذا معلوم ہوا کہ ان کا خرچ مد زکات سے نہ تھا) چنانچہ حضرت رابطہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور بچوں پر خرچ کرنا ثواب کا موجب ہے یا نہیں۔ اس سوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال نفل خیرات کے ثواب سے متعلق تھا نہ کہ زکات سے۔ حضرت رابطہ کا خرچ مد زکات سے نہ ہونے پر شرح معانی الآثار میں دوسری دلیل یہ ہے کہ عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زکات کے مال کو اپنے بچوں پر خرچ کرے، چونکہ حضرت رابطہؓ جس مال کو اپنے بچوں پر خرچ کیا کرتی تھیں، اسی مال میں سے اپنے شوہر پر بھی خرچ کیا کرتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہ مال جس کو بچوں پر خرچ کرتی تھیں وہ مد زکات میں سے نہ تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مال حضرت رابطہؓ اپنے شوہر پر خرچ کرتی تھیں وہ بھی مد زکات سے نہ تھا۔12