English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When a woman spends from the food of her house without wasting, she will have her reward for what she spent, her husband will have his reward for what he earned, and the storekeeper will have a similar reward. None of them will diminish the reward of the others in the least."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1024a (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1425 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "When she spends." In Al-Mirqat, it is said: "The scholars have generally agreed that it is not permissible for a woman to give charity from her husband's wealth without his explicit or implicit permission. Similarly, a servant is not allowed to do so. The hadith that indicates permissibility is based on the custom of the people of Hijaz, who would allow family members and servants to give charity and spend when a beggar arrives or a guest is present." This is what Al-Sharif Al-Jurjani said in the commentary of Al-Mishkat. Al-Allamah Al-Ayni said in Umdat Al-Qari: "The hadiths in this chapter differ. The way to reconcile them is that it varies according to the customs of different regions, the husband's attitude—whether he is lenient and approves or dislikes it—and the nature of what is spent, whether it is something insignificant that he would overlook or something significant that he would not tolerate. It also depends on whether the item is perishable and might spoil if delayed or something that can be stored without fear of spoilage."
Note 1
(۱) قوله: إذا أنفقت: وقال في المرقاة»: قال محي السنة: عامة العلماء على أنه لا يجوز لها التصدق من مال زوجها بغير إذنه صريحا أو دلالة، وكذا الخادم والحديث الدال على الجواز أخرج على عادة أهل الحجاز يطلقون الأمر للأهل والخادم في التصدق والإنفاق عند حضور السائل ونزول الضيف انتهى. كذا قال الشريف الجرجاني في حاشية المشكاة». وقال العلامة العيني في عمدة القاري: أحاديث هذا الباب مختلفة، كيفية الجمع بينها أن ذلك يختلف باختلاف عادات البلاد وباختلاف حال الزوج من مسامحته ورضاه بذلك أو كراهته لذلك، وباختلاف الحال في الشيء المنفق بين أن يكون شيئًا يسيرًا يتسامح به، وبين أن يكون له خطر في نفس الزوج يخل بمثله، وبين أن يكون ذلك رطبا يخشى فساده إن تأخر، وبين أن يكون يدخر ولا يخشى عليه الفساد.
Note 1
ف: مرقات میں محی السنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر خیرات کرے، خواہ وہ اجازت صراحت کے ساتھ ہو یا اشارۃً ہو۔ اور اسی طرح خادم کے لئے بھی جائز نہیں کہ اپنے مالک کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر خیرات کرے، اب باذکورہ حدیث شریف اور وہ حدیثیں جو بعد میں آ رہی ہیں ان میں بغیر اجازت کے بیوی اور خادم کے خیرات کرنے کا جو ذکر ہے وہ اس بنا پر ہے کہ اہل حجاز کی عام عادت یہ تھی کہ وہ اپنی بیویوں اور خادموں کو اجازت دے رکھتے تھے کہ اگر سائل آئے تو دیدیا کریں اور مہمان آئے تو مہمان نوازی کیا کریں، علامہ شریف جرجانی نے بھی مشکوۃ کے حاشیہ میں ایسا ہی کہا ہے۔ اور علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں کہا ہے کہ اس بارے میں مختلف حدیثیں آئی ہیں، ان میں تطبیق یعنی اختلاف کو دور کرنے کی صورت یہ ہے کہ بیوی اور خادم کو خیرات کرنے کی اجازت کا انحصار ملک کے رواج، شوہر اور مالک کی طبیعت اور جو چیز خیرات کی جارہی ہے اس کی حیثیت پر ہوگا۔ مثلاً کسی ملک کا رواج یہ ہے کہ شوہر اور مالک کی اجازت کے بغیر وہاں خیرات دی جاتی ہو، یا شوہر کی طبیعت یہ ہے کہ وہ اجازت کے بغیر اپنی بیوی کی خیرات پر اور مالک اپنے خادم کی خیرات پر راضی رہتے ہوں یا جو چیز خیرات میں دی جا رہی ہے وہ معمولی حیثیت کی ہے اور زیادہ مدت تک رکھنے سے خراب ہو جاتی ہے تو ان تمام صورتوں میں بیوی یا خادم کا بغیر اجازت کے خیرات کرنا جائز ہوگا اس کے برخلاف مالک کا رواج ایسا نہ ہو، یا شوہر اور مالک کی طبیعت میں بخل ہو اور وہ اجازت کے بغیر خیرات کو پسند نہ کرتے ہوں یا جو چیز خیرات دی جا رہی ہو شوہر اور مالک کے پاس اہم ہو تو ان تمام صورتوں میں شوہر یا مالک کی اجازت کے بغیر خیرات کا دینا جائز نہ ہوگا۔12