English
Umayr, the freed slave of Abu Al-Lahm (may Allah be pleased with him), reported: My master ordered me to prepare some dried meat. A poor man came to me, and I fed him some of it. When my master found out, he beat me. I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned this to him. He called my master and said, "Why did you beat him?" He replied, "He gave away my food without my permission." The Prophet (ﷺ) said, "The reward is shared between you." In another narration, he said, "I was a slave, so I asked the Messenger of Allah (ﷺ), 'Can I give charity from my master's wealth?' He said, 'Yes, and the reward is shared between you.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٤١٤ - وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ (رضي الله عنهما) قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: «لِمَ ضَرَبْتَهُ؟ فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ. فَقَالَ: «الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا».
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوْمًا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ : أَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَالْأَجْرُ نِصْفَانِ بَيْنَكُمَا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
عمیر رضی اللہ عنہ جو ابی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ان سے روایت
ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) میرے آقا نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت کے کباب بناؤں، اتنے
میں ایک فقیر آ گیا تو میں نے اس گوشت میں سے اس کو کچھ کھلا دیا۔ میرے آقا کو (جب) یہ معلوم
ہوا تو انھوں نے مجھے مارا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور یہ واقعہ
بیان کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے آقا کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ تم نے عمیر کو کیوں مارا ہے؟
انھوں نے عرض کیا کہ میری اجازت کے بغیر یہ میرا کھانا دے دیا کرتا ہے۔ حضور ارشاد فرمائے کہ
اس قسم کی خیرات کا تم دونوں کو ثواب ملے گا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشا یہ نہیں کہ غلام مالک
اور ایک دوسری روایت میں اس طرح مروی ہے کہ عمیر نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنے آقاؤں کے مال سے کچھ خیرات کر سکتا ہوں؟ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: ہاں! (خیرات کر سکتے ہو) اور اس کا ثواب تم کو اور تمہارے
مالکوں کو برابر برابر ملے گا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1025a (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1025b (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کے مال میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے بلکہ غلام کو مارنے سے منع فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ مالک کو اس بات کی تسلی دی جائے کہ اس قسم کی خیرات سے دونوں کو ثواب ملتا ہے اور اس ثواب کو جو غلام کی خیرات سے مالک کو مل رہا ہے غنیمت سمجھنا چاہئے)(جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)