العربية
Typed, pending editorial approval
٢٤١٤ - وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ (رضي الله عنهما) قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: «لِمَ ضَرَبْتَهُ؟ فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ. فَقَالَ: «الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا».
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوْمًا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ : أَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَالْأَجْرُ نِصْفَانِ بَيْنَكُمَا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1025a (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1025b (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کے مال میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے بلکہ غلام کو مارنے سے منع فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ مالک کو اس بات کی تسلی دی جائے کہ اس قسم کی خیرات سے دونوں کو ثواب ملتا ہے اور اس ثواب کو جو غلام کی خیرات سے مالک کو مل رہا ہے غنیمت سمجھنا چاہئے)(جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)