Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2416

Chapter on The Virtue of Charity

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Chapter on The Virtue of Charity

Zujajat al-Masabih 2416Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2825Noor 2826
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میری والدہ کا یکایک انتقال ہو گیا ہے اور اگر اس کو بات چیت کرنے کا موقع ملتا تو میرا خیال ہے کہ وہ ضرور خیرات کی وصیت کرتی، اب اگر میں اس کی جانب سے خیرات دوں تو کیا اس کو اس خیرات کا ثواب ملے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں (اس کو ضرور ثواب ملے گا)۔ اور دار قطنی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے ماں باپ جب زندہ تھے میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرتا تھا اب دونوں انتقال کر چلے ہیں تو میں ان کی موت کے بعد کس طرح ان کے ساتھ سلوک کروں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنی نمازوں کے ساتھ ساتھ ان کے لئے بھی نفل نماز پڑھ لیا کرو اور (اس کا ثواب ان کی ارواح کو ہدیہ دو) اسی طرح جب تم روزہ رکھتے ہو تو اپنے روزوں کے ساتھ ساتھ ان کے لئے بھی نفل روزہ رکھ لیا کرو (اور اس کا ثواب بھی ان کی ارواح کو ایصال کیا کرو)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1388 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1004a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Will she have a reward?

(1) The statement: "Will she have a reward?" Our scholars have clarified in the chapter of Hajj on behalf of others that a person can dedicate the reward of his deeds to someone else, whether it is prayer, fasting, charity, or other acts. This is mentioned in Al-Hidayah. What necessitates this is what Al-Daraqutni reported: A man asked the Prophet (ﷺ), "I had parents whom I honored during their lifetime. How can I honor them after their death?" He said, "Honoring them after death includes praying for them along with your prayers and fasting for them along with your fasts." This is the summary of what is in Rad Al-Muhtar and Fath Al-Qadir.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فهل لها أجر الخ: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها. كذا في الهداية». وقد ثبت ما يوجب المصير إلى ذلك، وهو ما رواه الدارقطني أن رجلا سأله فقال: كان لي أبوان أبرهما حال حياتهما، فكيف لي ببرهما بعد موتهما ؟ فقال له : إن من البر بعد الموت أن تصلي لهما مع صلاتك، وتصوم لهما مع صيامك . هذا حاصل ما في رد المحتار» و«فتح القدير».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ میت کو خیرات کا ثواب پہنچتا ہے بدایہ کے باب الحج عن الغیر میں لکھا ہے کہ ہمارے علماء نے صراحت کی ہے کہ انسان کے لئے یہ جائز ہے کہ اپنے نیک عمل کا ثواب دوسرے کو بخشے، خواہ وہ نماز ہو، یا روزہ یا خیرات۔ اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے کہ اہل السنۃ والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ فرائض کے علاوہ نوافل کا ثواب دوسروں کو پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ امام عبداللہ یافعی نے اپنی کتاب روضۃ الریاحین میں لکھا ہے کہ شیخ اجل علامہ عزالدین عبدالسلام کو وفات کے بعد خواب میں دیکھا گیا، فرما رہے تھے کہ ہم دنیا میں ایصال ثواب کے قائل نہ تھے، لیکن یہاں (یعنی عالم برزخ میں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ میت کو بھیجا ہوا ثواب پہنچتا ہے۔12