English
Malik reported that it reached him that Ibn Umar (may Allah be pleased with him) was asked: “Can someone fast or pray on behalf of another?” He replied: “No one can fast or pray on behalf of another.” [Narrated in Al-Muwatta’]
Malik said: “I have not heard 1 from any of the Companions or the Successors in Madinah that anyone ordered someone to fast or pray on behalf of another.”
Abd al-Razzaq narrated in his Musannaf in the book of wills from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: “No one should pray or fast on behalf of another.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٤٩٨ - وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ (رضي الله عنهما) كَانَ يُسْأَلُ: هَلْ يَصُوْمُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ؟ فَيَقُولُ: لَا يَصُوْمُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ. رَوَاهُ فِي الْمُوْطَا». وَقَالَ: وَلَمْ أَسْمَعْ1 عَنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَلَا مِنَ التَّابِعِيْنَ بِالْمَدِينَةِ أَنَّ أَحَدًا مِنْهُمْ أَمر أَحَدًا أَنْ يَصُوْمَ عَنْ أَحَدٍ، وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ.
وَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي مُصَنَّفِهِ فِي كِتَابِ الوَصَايَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ الله قَالَ: لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ وَلَا يَصُوْمُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ.
اردو
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت ابن
عمر رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ کیا کوئی شخص دوسرے کی جانب سے (فرض) روزہ رکھ سکتا
ہے یا کوئی شخص کسی دوسرے کی جانب سے (فرض) نماز ادا کر سکتا ہے؟ تو حضرت ابن عمرؓ جواب دیا
کرتے تھے کہ کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے نہ تو (فرض) روزے رکھ سکتا ہے اور نہ (فرض) نماز ادا
کر سکتا ہے۔ اس کی روایت امام مالک نے موطا میں کی ہے، اور امام مالک نے کہا ہے کہ میں نے
کسی صحابی سے اور کسی تابعی سے مدینہ میں یہ نہیں سنا کہ جو یہ کہتا ہو کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ
رکھے یا کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے۔
اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف کے کتاب الوصایا میں حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ کوئی شخص نہ تو کسی کی طرف سے روزہ رکھے اور نہ کسی کی
طرف سے نماز پڑھے (چنانچہ فتح القدیر میں مذکور ہے کہ اس بارے میں یہی آخری حکم ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Muwatta Malik 677 (unverified) 35% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “I have not heard…” This supports the view of abrogation, as it reflects the final ruling established by the Shariah. This is mentioned in Fath al-Qadir.
Note 1
(۱) قوله: لم أسمع إلخ : هذا مما يُؤيد النسخ، وإنه الأمر الذي استقر عليه الشرع آخر. قاله في «فتح القدير».