اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3015
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کی ایک جماعت کو
لے کر (زمین پر) اترتے ہیں اور ہر اس بندہ پر جو کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اللہ کی یاد (اور عبادت) میں
مشغول رہتا ہو، دعائے مغفرت کرتے ہیں، پھر جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو
اللہ تعالیٰ اپنے ان (عبادت گزار بندوں کی وجہ) سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں اور فرماتے
ہیں اے میرے فرشتو! اس مزدور کی کیا اجرت ہے جو اپنا کام پورا کر دے؟ تو فرشتے عرض کرتے
ہیں: اے ہمارے پروردگار اس کی اجرت یہ ہے کہ اس کا پورا پورا معاوضہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں: اے میرے فرشتو! (سنو!) میرے غلاموں اور میری لونڈیوں نے اس فریضہ کو پورا کیا
ہے جس کو میں ان پر فرض کیا تھا، پھر جب مسلمان دعا کرتے ہوئے (عیدگاہ کی طرف) جاتے ہیں
تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میری عزت کی اور عظمت کی، بخشش کی اور عظمت اور بلندی کی قسم، میں ان
کی دعاؤں کو ضرور قبول کرونگا۔ پھر اللہ تعالیٰ (اپنے ان بندوں سے) فرماتے ہیں: (اے میرے
بندو! اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا (یہ
کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ وہ (مسلمان) ایسی حالت میں (عیدگاہ سے
اپنے گھروں کو) لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2096 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 2096
Confidence and text similarity are not editorial verification.