اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3075
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھتے رہا کرو (یعنی قرآن کی تلاوت کو غنیمت جانو اور اس پر مداومت
رکھو) اس لئے کہ قرآن اپنے پڑھنے والوں کے لئے جو اس کے حقوق اور آداب ادا کرتے ہوں)
قیامت کے دن شفیع بن کر آئے گا خصوصاً دو چمکدار اور روشن سورتوں سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کو
زیادہ پڑھا کرو اس لئے کہ یہ سورتیں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے سروں پر اس طرح سایہ
فگن ہوں گی اور ایسے آئیں گی کہ گویا وہ ابر کے دو ٹکڑے ہیں (تو یہ اس شخص کے لئے ہوگا جو معنی
سمجھے بغیر ان کو پڑھے) یا اس طرح آئیں گی جیسے کہ کوئی دو سایہ کرنے والی چیزیں جس میں سایہ بھی
ہوا اور روشنی بھی آتی ہو (یہ اس شخص کے لئے ہوگا۔ جو معنی کے ساتھ ان کی تلاوت کرے) یا اس طرح
آئیں گی جیسے پرندوں کی دو ٹکڑیاں ہیں (جو پڑھنے والوں پر) صف بستہ سایہ فگن ہیں۔ (یہ اس شخص
کے لئے ہوگا جو ان کو خود پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے) اور یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والے کی
حمایت اور شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ سے جھگڑیں گی اور سورۂ بقرہ کو کثرت سے پڑھا کرو (اس لئے
کہ اس کی پابندی سے تلاوت اور اس کے معنی میں تدبر) برکت ہے اس لئے کہ پابندی کے بعد اس
کو چھوڑ دینا حسرت (اور ندامت) ہے۔ اور اہل باطل یعنی کسلمند ہی اس کی تلاوت سے محروم رہتے
ہیں (اور سورۂ بقرہ کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ اس کے پڑھنے والے پر جادو اثر نہیں کرتا)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 804a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2119 (unverified) 92% confidence
Mishkat (candidate) 2119
Confidence and text similarity are not editorial verification.