English
Ubaidah al-Mulayki (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O people of the Qur'an, do not make the Qur'an your pillow. Recite it properly night and day. Spread it, chant it, and reflect upon its meanings that you may succeed. Do not hasten its reward, for indeed it has great reward."
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٦٦٣ - وَعَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِي (رضي الله عنه) وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِﷺ: «يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوْهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ مِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَفْشُوْهُ وَتَغَنَّوْهُ وَتَدَبَّرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ، وَلَا تَعَجَّلُوْا ثَوَابَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3146
حضرت عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ جو صحابی رسول تھے۔ وہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اے قرآن والو! قرآن کو تکیہ مت بناؤ
(یعنی قرآن پڑھ کر اسی کو تکیہ بنا کر مت سو جاؤ کیونکہ قرآن کو تکیہ بنانا، اس کی طرف پیر پھیلانا، اس پر
کسی چیز کا رکھنا، اس کی طرف پیٹھ کرنا، یہ سب حرام ہیں۔ جیسا کہ ابن حجر نے فرمایا ہے)12 قرآن
کو رات دن اس کے پورے حقوق اور آداب کے ساتھ پڑھا کرو (یعنی اس کے الفاظ کی صحیح ادائی،
اس کے معانی میں غور و تدبر اور اس کے احکام پر عمل کرنے میں اخلاص پیدا کرو اور سستی اور غفلت نہ
کرو) اور قرآن کی اشاعت کرو (یعنی جہر سے پڑھو، اس کو پڑھاؤ اور تفسیر بیان کرو۔ اس کی تعظیم کرو
اور اس پر عمل کرو) اور قرآن کو (قواعد تجوید کا لحاظ کرکے خوش آوازی سے پڑھا کرو اور قرآن میں جو
(کھلی نشانیاں ہیں، اور جو وعدے اور وعیدیں ہیں اور جو اسرار) ہیں ان میں غور و فکر کیا کرو۔ تاکہ تم کو
فلاح اور کامیابی حاصل ہو اور دنیا میں اس کا بدلہ طلب کرنے میں عجلت نہ کرو اس لئے کہ آخرت میں
قرآن کے حقوق ادا کرنے والوں کو بہت بڑا بدلہ ملنے والا ہے۔
اس حدیث کی روایت امام بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔