English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When supplicating, do not say, ‘O Allah, forgive me if You will. O Allah, have mercy on me if You will.’ Rather, be decisive in your request, for Allah does what He wills and none can compel Him"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٦٨٣ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا1 يَقُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، ارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ، وَلِيَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ وَلَا مُكْرِهَ لَهُ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3168
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اس طرح نہ کہے کہ اے اللہ اگر آپ
چاہیں تو مجھے بخش دیجئے! اگر آپ چاہیں تو مجھ پر رحم فرما دیجئے۔ اگر آپ چاہیں تو مجھے روزی دیجئے
۔ چونکہ یہ شک کے کلمات ہیں اس لئے ان الفاظ سے دعاء نہ کرے بلکہ عزم بالجزم یعنی پختہ ارادہ کے
ساتھ (اللہ تعالیٰ سے اپنے مقاصد کو) طلب کرے (اور ان کی قبولیت پر یقین رکھے) اس لئے کہ اللہ
تعالیٰ جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ اور ان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں (وہ جو کرتے ہیں اپنی خوشی اور
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 7477 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Do not say..."—An-Nawawi said: The hadith encourages decisiveness in requests and discourages conditioning them on Allah’s will.
Note 1
(۱) قوله: فلا يقل إلخ : وقال النووي: ومعنى الحديث استحباب الجزم في الطلب وكراهة التعليق على المشيئة.
Note 1
مرضی سے ہی کرتے ہیں۔ دعا کرتے وقت شک کے الفاظ کو استعمال کرنا بے پرواہی کو ظاہر کرتا ہے۔ غلام کو تو یہ چاہئے کہ اپنے آقا سے گڑگڑا کر مانگے۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔12