اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3236
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء کے لئے مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ایک صاحب بلند
آواز سے قرآن پڑھ رہے ہیں (میں نے اس طرح بلند آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے دیکھ کر)
عرض کیا کہ یارسول اللہ! کیا آپ ان صاحب کو ریاکار سمجھتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: نہیں بلکہ یہ پکے مومن ہیں اور ان میں پوری طرح رجوع الی اللہ اور انابت الٰہی ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ بلند آواز سے اس طرح قرآن پڑھنے والے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی قراءت کو نہایت توجہ سے سن رہے تھے۔ جب حضرت ابو
موسیٰ تلاوت ختم کئے تو پھر بیٹھ کر دعا کرنے لگے:
اے اللہ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ آپ ہی ایسے معبود حقیقی ہیں کہ آپ کے سوا کوئی معبود
نہیں جو یکتا اور بے نیاز ہیں نہ آپ نے کسی کو اولاد بنایا اور نہ آپ کسی سے پیدا ہوئے اور نہ کوئی
آپ کا ہمسر ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری کی یہ دعا سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے
اس اسم اعظم کو وسیلہ بنا کر دعا مانگی ہے کہ جب کوئی اس نام کو وسیلہ بنا کر دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس
کی دعا کو قبول فرما لیتے ہیں اور جو مانگتا ہے اس کو دے دیتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ: یارسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں ان کے لئے جو خوشخبری آپ سے سنی ہے ان کو سنا دوں؟ تو حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سنا دو۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خوشخبری حضرت ابوموسیٰ کو
سنا دی تو انہوں نے کہا کہ آج سے تم میرے بھائی ہو کہ تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
حدیث سنائی (جس میں قبولیت دعا کی خوشخبری ہے)۔
اس کی روایت رزین نے کی ہے۔