Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Names of Allah the Exalted

Hadith 2894

Chapter: Various Supplications for Different Occasions

In this book

Current reading

the Names of Allah the Exalted

Chapter: Various Supplications for Different Occasions

Zujajat al-Masabih 2894Volume 2

English

Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: On the Day of the Trench we said: "O Messenger of Allah, is there anything we should say as our hearts have reached our throats (out of fear)?" He said: "Yes. Say: 'O Allah, cover our weaknesses and calm our fears.'" He said: So Allah struck the faces of their enemies with wind, and Allah defeated them with the wind.

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٨٩٤ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ؟ قَالَ: «نَعَمْ ، اللهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا»، قَالَ: فَضَرَبَ اللهُ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ، فَهَزَمَ اللهُ بِالرِّيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3407
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ غزوۂ خندق کے دن ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کوئی ایسی دعا ہے کہ ہم اس کو پڑھیں (اس لئے کہ خوف و دہشت کی وجہ سے) کلیجے مونہوں کو آگئے ہیں۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں (یہ دعا پڑھو) یا الٰہی! ہمارے عیبوں کو چھپا دے اور ہمارے خوف اور دہشت کو امن سے بدل دے۔ حضرت ابوسعید خدری نے فرمایا کہ (ہم نے یہ دعا پڑھی اور اس کا اثر یہ ہوا کہ) اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے چہروں کو تیز ہوا سے مارا اور اس آندھی سے ان کو شکست دی۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2466 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 2466

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ غزوۂ خندق جس کو احزاب بھی کہتے ہیں اس کا ذکر سورہ احزاب میں مذکور ہے۔ یہاں مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔ ہجرت کے چھٹے سال یہود بنی نضیر جن کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ہر قبیلہ میں پھرے اور قریش، فزارہ، غطفان اور بنی قریظہ کے بارہ ہزار آدمیوں کو جمع کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کیا مسلمان صرف تین ہزار تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق کھدوائی۔ ایک مہینہ تک مشرکین نے محاصرہ کیا لیکن حملہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایک رات اللہ تعالیٰ نے ایک آندھی بھیجی جس کی وجہ سے (دشمنوں کے خیمے اکھڑ گئے، آگ بجھ گئی، گھوڑے بھاگ کھڑے ہوئے لشکر برباد ہو گیا۔ ناچار سارے قبائل واپس ہو گئے۔ حاشیہ مشکاۃ۔12