Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Names of Allah the Exalted

Hadith 2899

Chapter: Various Supplications for Different Occasions

In this book

Current reading

the Names of Allah the Exalted

Chapter: Various Supplications for Different Occasions

Zujajat al-Masabih 2899Volume 2

English

Umar ibn al-Khattab and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them) narrated that Allah's Messenger (ﷺ) said: "No man sees an afflicted person and says: 'Praise be to Allah Who has saved me from what He has afflicted you with, and Who has favored me over many of His creation,' except that he will not be afflicted with that same affliction."

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۸۹۹ - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنهما) قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: «مَا مِنْ رَجُلٍ رَأَى مُبْتَلَى، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا ، إِلَّا لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ الْبَلَاءُ كَائِنَا مَا كَانَ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنِ ابْنِ عُمُرَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3414Noor 3415
امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب سے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص کسی کو (دینی، دنیوی یا جسمانی) بلاء میں گرفتار دیکھ کر یہ دعاء پڑھے تو وہ بلاء اور مصیبت اس کو نہ پہونچے گی خواہ وہ کوئی بلاء ہو (دعاء یہ ہے): تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جس نے مجھ کو اس بلاء سے محفوظ رکھا ہے جس میں تو گرفتار ہے اور مجھے بہت ساری مخلوقات پر بڑی فضیلت دی ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور ابن ماجہ نے اس کی روایت حضرت ابن عمر سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3892 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3431 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3432 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ بلاء عام ہے خواہ بدنی ہو جیسے برص، جذام اور اندھا پن وغیرہ خواہ بلائے دنیاوی ہو جیسے مال اور جاہ کا حصول وغیرہ اور خواہ بلائے دینی ہو جیسے فسق، ظلم، بدعت اور کفر وغیرہ مختصر یہ کہ ہر قسم کے مبتلائے بلاء کو دیکھ کر یہ دعاء پڑھنا چاہئے البتہ علماء نے کہا ہے کہ جو کوئی بیمار کو دیکھے تو آہستہ سے یہ دعاء پڑھے تاکہ وہ آزردہ نہ ہو اور اگر گناہ گار کو دیکھے تو پکار کر پڑھے تاکہ اس کو عبرت ہو اگر پکار کر پڑھنے میں فساد کا اندیشہ ہو تو ایسے موقع پر بھی آہستہ سے دعاء پڑھے۔ (حاشیہ مشکاۃ12)