اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3462
عطاء بن سائب رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے
ہیں کہ: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں (ایک مرتبہ) نماز پڑھائی اور آپ نے بہت مختصر
نماز پڑھی (یعنی قرأت اور تسبیحات زیادہ نہیں پڑھیں) تو (حاضرین میں سے) بعض لوگوں نے
(اعتراضاً) کہا کہ: آپ نے نماز میں تخفیف کی اور نماز کو بہت مختصر کیا! حضرت عمار نے جواب دیا:
اس تخفیف کا مجھے کچھ افسوس نہیں! اس لئے کہ میں نے اس نماز میں ایسی دعائیں کی ہیں جن کو میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے جب حضرت عمار وہاں سے چلے تو ایک شخص آپ کے
ساتھ ہو گیا اور وہ میرے والد (حضرت سائب) تھے لیکن انہوں نے (بطور تواضع) اپنے آپ کو
ظاہر کئے بغیر اپنے کو شخص کہا اور اس دعاء کو ان سے پوچھا اور واپس آ کر سب کو وہ دعاء بتائی (اور وہ
دعاء یہ ہے):
یا الٰہی! آپ کے علم غیب اور مخلوقات پر آپ کی قدرت کا واسطہ آپ مجھے اس وقت تک زندہ
رکھئے جب تک آپ زندگی کو میرے لئے بہتر جانتے ہیں اور آپ مجھے اس وقت موت دے دیجئے
جب آپ موت کو میرے لئے بہتر جانتے ہوں۔ یا الٰہی باطن اور ظاہر میں آپ کا ڈر مانگتا ہوں اور
خوشی اور غصہ کی حالت میں حق بولنے کی درخواست کرتا ہوں۔ اور محتاجی و تونگری میں اعتدال مانگتا
ہوں۔ اور آپ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو (یعنی جنت مانگتا ہوں) اور آنکھوں کی ایسی
ٹھنڈک مانگتا ہوں جو زائل نہ ہو۔ اور تقدیر پر رضامندی مانگتا ہوں اور مرنے کے بعد زندگی کی ٹھنڈک
مانگتا ہوں۔ اور آپ کے چہرہ کی طرف دیکھنے کی لذت اور آپ سے ملاقات کا شوق مانگتا ہوں
(یعنی دیدار کی لذت اور ملاقات کا شوق مانگتا ہوں) جو نقصان پہنچانے والا اور گمراہی کے فتنہ میں
مبتلا کرنے والا نہ ہو۔ یا الٰہی! ہم کو زینت ایمانی سے سنوار دیجئے اور ہم کو راہ راست پر بنا دیجئے۔
اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1305 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.