اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3473
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی کسی مجلس سے اٹھتے تو اپنے اصحاب کے لئے اکثر دعاؤں کو پڑھا کرتے
تھے:
یا الٰہی! آپ ہمیں اپنی خشیت اس قدر نصیب فرمائیے جس کی وجہ سے آپ ہمارے اور
ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائیں۔ اور ہم کو اس قدر اطاعت نصیب فرمائیے جس کی وجہ
سے آپ ہم کو اپنی جنت میں پہنچا دیں۔ اور اس قدر یقین نصیب فرمائیے جس کی وجہ سے آپ ہم
پر دنیا کی مصیبتیں آسان فرما دیں اور ہماری سماعت کو اور ہماری بصارت کو اور ہماری قوت کو زندگی بھر
ہمارے لئے فائدہ مند بنا دیجئے اور اس (انعام) کو ہماری نسل میں جاری و ساری رکھے اور جنہوں
نے ہم پر ظلم کیا ہے آپ ہی ان سے ہمارا انتقام لے لیجئے۔ اور جنہوں نے ہم سے دشمنی کی ہے ان
کے مقابلہ میں آپ ہماری مدد فرمائیے۔ اور ہماری مصیبتوں کو ہمارے دین میں (کمی) یعنی
بدعقیدگی، حرام خوری اور عبادتوں میں کوتاہی کا سبب نہ بنائیے۔ اور آپ دنیا ہی کو ہماری فکر اور
ہمارے علم کا سب سے بڑا نصب العین نہ بنائیے اور ایسوں کو ہم پر مسلط نہ فرمائیے جو ہم پر رحم نہ
کریں۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور کہا ہے کہ: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3502 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2492 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 2492
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement "our greatest concern" indicates that a small amount of concern for necessary worldly matters is permitted, even recommended, and sometimes obligatory. As mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: أكبر همنا وفيه أن قليلا من الهم فيما لا بد منه في أمر المعاش، مرخص فيه، بل مستحب، بل واجب. قاله في «المرقاة».