Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 2977

Opening narrations

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2977Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "One ‘Umrah to the next is expiation for the sins between them, and Hajj Mabroor (accepted Hajj) has no reward except Paradise." [Agreed upon] In a narration by Bayhaqi from Aisha (may Allah be pleased with her): "‘Umrah is permissible all year except four days: the Day of Arafah, the Day of Sacrifice, and the two following days." Shaykh Taqiuddin in Al-Imam cited Nafi’ from Tawus, who said Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) stated: "Five days are excluded: the Day of Arafah, the Day of Sacrifice, and the three Days of Tashreeq. Perform ‘Umrah before or after them as you wish."

العربية

Typed, pending editorial approval
۲۹۷۷ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ : «الْعُمْرَةُ2 إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةُ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءً إِلَّا الْجَنَّةُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيَّ عَنْ عَائِشَة (رضي الله عنها)قَالَتْ: حَلَّتِ3 الْعُمْرَةُ فِي السَّنَةِ كُلَّهَا إِلَّا أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَيَوْمَانِ بَعْدَ ذَلِكَ. وَقَالَ الشَّيْخُ تَقِيُّ الدِّيْنِ فِي «الْإِمَامِ»: رَوَى نَافِعُ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: قَالَ الْحَبْرُ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - : خَمْسَةُ أَيَّامٍ يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامِ التَّشْرِيْقِ اعْتَمِرْ قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا مَا شِئْتَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3509Noor 3510Noor 3511
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک عمرہ سے دوسرا عمرہ کرنے کے درمیان جتنے (صغیرہ) گناہ ہوئے ہوں وہ معاف ہو جاتے ہیں اور حج مقبول کا بدلہ جنت ہی ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور بیہقی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت اس طرح کی ہے۔ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ عمرہ سال تمام میں ہر وقت ادا کیا جا سکتا ہے سوائے ان چار دنوں کے جو یہ ہیں۔ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں ذوالحجہ (ان چار دنوں میں حاجی کے لئے عمرہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ ایسا حاجی جس کا حج فوت ہو چکا ہو، وہ ان دنوں میں عمرہ بھی ادا کر سکتا ہے۔ اور علامہ شیخ تقی الدین نے امام میں کہا ہے کہ حضرت نافع اپنے استاد حضرت طاؤس سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ (حاجی کے لئے ان پانچ دنوں میں عمرہ ادا کرنا جائز نہیں ہے) وہ پانچ دن یہ ہیں: نویں، دسویں اور ایام تشریق کے تین دن یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذوالحجہ اور اگر تم عمرہ ادا کرنا چاہو تو ان پانچ دنوں سے پہلے یعنی آٹھویں ذوالحجہ تک یا ان پانچ دنوں کے بعد یعنی تیرہویں ذوالحجہ کے بعد عمرہ ادا کر سکتے ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1773 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1349 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2508 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 2508

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 2

One ‘Umrah to the next...

(2) The statement: "One ‘Umrah to the next..." – Imam Nawawi said this highlights the virtue of ‘Umrah. Some use it to support performing multiple ‘Umrahs yearly (Shafi’i’s view). Malik and most of his followers disliked performing more than one ‘Umrah per year. Ad-Durr al-Mukhtar states: ‘Umrah is valid all year but disliked (makruh tahrimi) if initiated on the Day of Arafah and the four following days. However, if one is already in Ihram (e.g., a Qiran pilgrim who missed Hajj), performing ‘Umrah during these days is not disliked.

Note 3

‘Umrah is permissible all year...

(3) The statement: "‘Umrah is permissible all year..." – This indicates the prohibition is for initiating ‘Umrah during these days, not for completing a previously started ‘Umrah. Fath al-Qadir explains this.

Note 2

قوله

(۲) قوله: العمرة إلى العمرة إلخ : وقال النووي: هذا ظاهرفي فضيلة العمرة، واحتج بعضهم في نصرة مذهب الشافعي والجمهور في استحباب تكرار العمرة في السنة الواحدة مرارًا، وقال مالك وأكثر أصحابه: يكره أن يعتمر في السنة أكثر من عمرة. قال القاضي : وقال آخرون: لا يعتمر في شهر أكثر من عمرة. واعلم أن جميع السنة وقت العمرة، فتصح في كل وقت منها إلا في حق من مر متلبس بالحج، فلا يصح اعتماده حتى يفرغ من الحج، ولا تكره العمرة عندنا لغير الحاج في يوم عرفة والأضحى والتشريق وسائر السنة انتهى. وفي الدر المختار: وجازت في كل السنة وندبت في رمضان، وكرهت تحريمها يوم عرفة وأربعة بعدها ، أي كره إنشاؤها بالإحرام حتى يلزمه دم وإن رفضها، لا أداؤها فيها بالإحرام السابق كقارن فاته الحج فاعتمر فيها لم يكره، «سراج» انتهى. لما روي البيهقي عن عائشة قالت: حلت العمرة الحديث. قاله في فتح القدير».

Note 3

قوله

(۳) قوله: حلت العمرة إلخ وهو يشير إلى أن الكراهة كراهة تحريم. قاله في فتح القدير».

Note 1

ف(1): حدیث شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمرہ سال تمام میں کسی وقت بھی ادا کیا جا سکتا ہے سوائے ایام حج کے یعنی نویں سے تیرہویں ذوالحجہ تک ان پانچ دنوں میں عمرہ ادا کرنا مکروہ ہے، اس لئے کہ یہ مناسک حج کے ایام ہیں۔ ف(2): صدر کی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عمر میں کئی عمرے ادا کرنا چاہئے تاکہ گناہوں سے مسلمان پاک و صاف ہوتا رہے، اسی وجہ سے حدیث شریف میں عمرے ادا کرنے کی فضیلت ارشاد فرمائی گئی ہے کہ دو عمروں کے درمیان تمام صغائر معاف ہو جاتے ہیں۔ اور رمضان المبارک میں عمرہ ادا کرنا بڑی فضیلت اور ثواب کا باعث ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ رمضان میں عمرہ ادا کرنے والے کا رتبہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے میرے ساتھ حج ادا کیا۔12