Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 2984

Opening narrations

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2984Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3519
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر سے حرم میں داخل ہونے والوں کے لئے ان مقامات کو بطور میقات مقرر فرمایا ہے کہ وہ ان مقامات سے بغیر احرام کے حدود حرم میں داخل نہیں ہو سکتے اس کی تفصیل یہ ہے) اہل مدینہ (یعنی مدینہ منورہ کی طرف سے آنے والوں) کے لئے ذوالحلیفہ (جس کو آج کل بئر علی کہتے ہیں (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) یہ مقام مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ہے) اہل شام (یعنی ملک شام کی طرف سے آنے والوں) کے لئے جُحْفَہ (جو مکہ معظمہ سے تین منزل پر ہے) اور اہل نجد (یعنی نجد کی طرف سے آنے والوں) کے لئے قرن المنازل (جو مکہ معظمہ سے دو منزل پر ہے اور یہ تمام میقاتوں میں قریب ترین میقات ہے) اور وہ اہل یمن (یعنی یمن کی طرف سے آنے والوں) کے لئے یلملم (جو کہ مکہ معظمہ سے دو منزل کے فاصلہ پر ایک پہاڑ ہے اور اسی کے محاذی اہل ہند بھی احرام باندھتے ہیں) پس یہ مقامات ان شہروں سے آنے والوں کے لئے میقات ہیں اور یہ مقامات ان لوگوں کے لئے بھی میقات ہیں جو ان مقامات پر سے گزریں، اگرچہ کہ وہ ان شہروں کے رہنے والے نہ ہوں اور وہ حج یا عمرہ کی نیت سے ان مقامات پر سے گزر رہے ہوں، اور جو لوگ ان مقامات (یعنی مذکورہ مواقیت) کے اندر رہتے ہوں وہ بھی (جب حج کا ارادہ کریں تو) اپنے گھروں سے احرام باندھیں اور اہل مکہ بھی (جب حج کا ارادہ کریں تو) وہ بھی مکہ معظمہ سے یعنی اپنے گھروں ہی سے) احرام باندھیں (البتہ میقات کے اندر رہنے والے عمرہ کرنا چاہیں تو وہ مکہ معظمہ سے باہر جا کر (جیسے تَنْعِیْم یا جعرانہ جا کر وہاں سے عمرہ کا احرام باندھیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1524 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1181a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

These are for their residents...

(1) The statement: "These are for their residents..." – These locations are designated for pilgrims from these regions, whether residents or travelers. Those passing through must not exceed them without Ihram. Residents of these locations may pass them without Ihram unless intending Hajj/‘Umrah. Most scholars equate residents with outsiders regarding Ihram, contrary to At-Tahawi’s view. Al-Mirqat and Al-‘Alamgiriyyah cite this.

Note 2

Even Meccans...

(2) The statement: "Even Meccans..." – The Hanafi view is that ‘Umrah requires exiting Mecca’s boundaries, as Aisha (may Allah be pleased with her) was instructed. This Hadith specifically refers to Hajj.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فهن لهن إلخ أي فهذه المواضع مواقيت لهذه البلدان أي لأهلهن الموجودين، سواء المقيمون والمسافرون، ولمن أتى عليهن، أي مر على هذه المواقيت من غير أهل البلدان بأن لا يتجاوزا عنها وجوبا من غير إحرام تعظيما للحرم الذي يريدون داخله، وأما أهل المواقيت نفسها فحكمهم كمن داخلها من أرض الحل في أن ميقاتهم الحل، ولهم تجاوز ميقاتهم من غير إحرام إذا لم يريدوا النسك، فإن أرادوه فليس لهم ذلك إلا محرمين، ولم يذكر النبي ﷺ حكم أهل المواقيت نفسها، والجمهور على أن حكمها حكم داخل المواقيت خلافا للطحاوي حيث جعل حكمها حكم الآفاقي. قاله في المرقاة»، وذكر في العالمكيرية» قول الجمهور ناقلا عن المحيط».

Note 2

قوله

(۲) قوله: حتى أهل مكة يهلون منها، والمذهب أن المعتمر يخرج إلى الحل؛ لأنه أمر عائشة له بالخروج، فهذا الحديث مخصوص بالحج.

Note 1

ف: واضح ہو کہ غایۃ الاوطار میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ اللہ شریف کو بزرگی عطا فرمائی ہے اور اس کو بارگاہ قدس قرار دیا ہے اور مسجد حرام کو اپنی جلوہ گاہ قرار دیا اور شہر مکہ کو مسجد حرام کا احاطہ بنایا اور حرم کو اس شہر مبارک کا پیشگاہ ٹھہرایا اور مواقیت کو حرم میں داخلہ کے وقت سلام اور مجرا کا مقام قرار دیا اس لئے ہر اس شخص پر جو حرم مبارک میں داخل ہونا چاہے وہ درباری پیرہن یعنی احرام باندھ کر داخل بارگاہ ہو، چاہے اس کی نیت حج کی ہو یا عمرہ کی یا سکونت کی یا ہجرت کی یا تجارت کی، بہر صورت اس پر احرام واجب ہے جو کعبۃ اللہ کے طواف اور سعی بین الصفا والمروہ کے بعد کھول دیا جاتا ہے، البتہ وہ لوگ جو میقات کے اندر رہتے ہوں ان پر احرام کی یہ پابندی اس لئے نہیں کہ وہ اپنے کاروبار کے لئے بار بار مکہ معظمہ آتے جاتے رہتے ہیں تاکہ ان کو حرج نہ ہو۔12