Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3001

Opening narrations

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 3001Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3552Noor 3553
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب یمن پر عامل بنا کر روانہ فرمایا تھا تو میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا حضرت براء رضی اللہ عنہ نے پوری حدیث بیان فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (یمن سے حجۃ الوداع کے موقع پر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور نے آپ سے دریافت فرمایا تم نے کونسا احرام باندھا ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احرام کی طرح (قران کا) احرام باندھا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے قربانی کے جانور لائے ہیں اور قران کی نیت کی ہے.......الى آخر الحديث. اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور امام احمد نے اپنی ایک روایت میں سراقہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے اور اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور حضرت سراقہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج قران ادا فرمایا تھا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1797 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Unnumbered commentary

Its chain is authentic.

It is mentioned in Al-Jawhar al-Naqi: Its chain is authentic. Al-Hakim recorded it in his Mustadrak and said: “Its chain is authentic.” In its chain is Dawud ibn ‘Abd al-Rahman al-‘Attar, and he is trustworthy, with narrations in the Sahihayn (Bukhari and Muslim) and the remaining six books. In a narration by Ahmad from the hadith of Suraqah with a fully trustworthy chain, it states: “The Messenger of Allah (ﷺ) combined Hajj and Umrah (Qiran) during the Farewell Pilgrimage.”

Note 1

اور جو ہرقی میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حاکم نے اس کی تخریج مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور ان کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالرحمن عطار ہیں اور وہ ثقہ ہیں اور بخاری اور مسلم اور بقیہ چاروں اصحاب صحاح یعنی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ اور ترمذی نے بھی داؤد بن عبدالرحمن سے اپنی اپنی کتابوں میں حدیثوں کی تخریج کی ہے۔