Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3012

Chapter: The Story of the Farewell Pilgrimage

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: The Story of the Farewell Pilgrimage

Zujajat al-Masabih 3012Volume 2

English

Ibn ‘Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Prophet (ﷺ) prayed Maghrib and ‘Isha at Muzdalifah with one Iqamah. [Narrated by Abu ash-Shaykh] In Jabir’s lengthy Hadith in Muslim: "The Prophet (ﷺ) rested until dawn, then prayed Fajr at clear dawn with one Adhan and Iqamah. He rode Al-Qaswa’ until reaching Al-Mash‘ar al-Haram, faced the Qiblah, supplicated, and remained there until full daylight. He departed before sunrise, placing Al-Fadl ibn ‘Abbas behind him until reaching Muhassir. He hastened slightly, then took the middle road leading to Al-Jamrah al-Kubra, where he stoned it with seven pebbles, saying Takbir with each. He then went to the sacrifice area and slaughtered sixty-three camels with his own hand, giving the rest to ‘Ali to slaughter. He ordered pieces from each camel to be cooked, and they ate from the meat and drank the broth. He then rode to the Ka‘bah and prayed Dhuhr in Makkah. He came upon Banu ‘Abd al-Muttalib drawing water from Zamzam and said, "Draw, O Banu ‘Abd al-Muttalib! Were it not that people would compete with you, I would draw with you." They handed him a bucket, and he drank from it."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠١٢ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما)أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ. رَوَاهُ أَبُو الشَّيْخِ. وَفِي حَدِيْثِ جَابِرٍ الطَّوِيلِ عِنْدَ مُسْلِمٍ: ثُمَّ اضْطَجَعَ1 رَسُولِ اللهِ ﷺ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَدَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًا، فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَتَّى أَتَى بَطْنَ مُحَسَّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الْجُمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي. ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ2 ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا3 مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ، فَصَلَّى4 بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، فَأَتَى5 عَلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُوْنَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: «انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ،فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ». فَنَاوَلُوهُ دَلْوا، فَشَرِبَ مِنْهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3568Noor 3569
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں نماز مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک ہی اقامت سے ادا فرمائی (اور یہی مذہب حنفی ہے)۔ اس کی روایت ابو الشیخ نے کی ہے۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں جس کو مسلم نے روایت کی ہے (مزدلفہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مغرب اور عشاء کی نماز) ایک اذان اور ایک اقامت سے ادا فرمائیں اور ذکر و دعا میں رات گزاری (صاحب نہر نے فتوٰی دیا ہے کہ مزدلفہ میں قیام کی رات شب قدر سے افضل ہے اس لئے حاج کو چاہیئے کہ اس رات کو ذکر اور دعاء میں گزاریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں یہیں قبول ہوئی تھیں۔12) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تھوڑی دیر) آرام فرمائے اور ذکر و دعا میں رات طلوع ہوئی تو آپ نے تاریکی میں ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ فجر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر آپ اونٹنی پر سوار ہوئے اور مشعر حرام کے پاس تشریف لائے (جو مزدلفہ میں ایک پہاڑی ہے) (مزدلفہ میں نماز فجر اول وقت ادا کرنا مذہب حنفی ہے۔12) آپ یہاں قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوئے اور دعاء الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ کا ورد فرماتے رہے، یہاں تک کہ صبح کی روشنی خوب پھیل گئی پھر آپ آفتاب نکلنے سے پہلے یہاں سے روانہ ہوئے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو (سواری پر پیچھے بٹھا لیا اور وادی مُحَسِّر میں داخل ہوئے اور وادی مُحَسِّر سے تیزی سے گذر گئے۔ (اس لئے کہ اسی وادی میں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہوا تھا اور وہ ہلاک کر دیئے گئے) پھر آپ بیچ کے راستہ سے (جو عرفات کو جاتے وقت کے راستے سے سوا تھا) جمرہ کبریٰ پر تشریف لائے جہاں اس وقت ایک درخت تھا اور آپ نے اس جمرہ پر سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہا۔ یہ کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں کہ ان کو انگوٹھے پر رکھ کر شہادت کی انگلی سے مارا جا سکتا تھا (گویا وہ مٹر کے دانہ کے برابر تھیں) آپ نے ان کنکریوں کو وادی کے نشیبی حصہ میں (کھڑے رہ کر) پھینکا۔ اس کے بعد آپ قربانی کی جگہ تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے (من جملہ ایک سو اونٹ کے) 63 اونٹ کو (جو آپ کی عمر شریف کی تعداد میں تھے) ذبح فرمایا۔ پھر بقیہ (37 اونٹ) کو آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ذبح کروایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (قربانی کے ثواب میں) شریک فرمایا (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلق فرمایا جس کا ذکر آگے مستقل باب میں آ رہا ہے۔) پھر آپ نے حکم دیا کہ قربانی کے ہر جانور سے تھوڑا سا گوشت لے لیا جائے۔ چنانچہ گوشت لایا گیا اور اس کو ہانڈی میں ڈال کر پکایا گیا تو آپ نے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس گوشت کو تناول فرمایا اور اس کا شوربہ بھی پیا (اس لئے کہ یہ قربانی شکرانہ کی ہے) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف افاضہ کے لئے کعبۃ اللہ کی طرف روانہ ہوئے اور (بیت اللہ میں داخل ہوئے اور طواف فرض ادا فرمایا اور حج کی واجب سعی ادا فرمائی) پھر نماز ظہر کعبۃ اللہ میں ادا فرمائی پھر حضرت عبدالمطلب کی اولاد یعنی بنوعباس کے پاس تشریف لائے جو لوگوں کو زمزم پلا رہے تھے، آپ نے ان سے فرمایا اے بنی عبدالمطلب (چاہ زمزم سے) پانی کھینچو اور لوگوں کو پلاؤ۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ (میرے پانی کھینچنے کی وجہ سے) تم پر ٹوٹ پڑیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچنے میں شریک ہو جاتا۔ پھر ان حضرات نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی (سے بھرا ہوا) ایک ڈول دیا آپ نے اس کو نوش فرمایا (پھر فرمایا (پھر آپ نے اس ڈول سے تھوڑا پانی نوش فرمایا اور ڈول میں کلی کی تو باقی بچے ہوئے پانی کو ان لوگوں نے کنویں میں لوٹا دیا۔ جیسا کہ مسند امام احمد میں مروی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2555 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 2555

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (10)

Note 1

He rested until dawn

(1) His statement: "He rested until dawn"—this refers to resting after ‘Isha (Al-Muhit).

Note 2

He slaughtered sixty-three camels

(2) His statement: "He slaughtered sixty-three camels"—this is a sacrifice of gratitude, so eating from it is permitted (Ad-Durr al-Mukhtar).

Note 3

They ate from the meat

(3) His statement: "They ate from the meat"—this is permissible as it is a sacrifice of gratitude (Ad-Durr al-Mukhtar).

Note 4

He prayed Dhuhr in Makkah

(4) His statement: "He prayed Dhuhr in Makkah"—Muslim’s narration from Ibn ‘Umar states the Prophet (ﷺ) performed Tawaf al-Ifadah before Dhuhr and prayed Dhuhr in Mina. The reconciliation is that he prayed in Makkah first, then in Mina (Badhl al-Majhud).

Note 5

He came upon Banu ‘Abd al-Muttalib

(5) His statement: "He came upon Banu ‘Abd al-Muttalib"—this indicates drinking from Zamzam is recommended (Al-Hidayah).

Note 1

قوله

(۱) قوله: ثم اضطجع : أي إذا فرغ من العشاء يبيت ثمه كذا في المحيط»، وينبغي أن يحيي هذه الليلة بالصلاة والقراءة والذكر والدعاء والتضرع. كذا في التبيين». قاله في العالمكيرية». وقال في بذل المجهود»: وما في الحديثأنه اضطجع حتى طلع الفجر مبني على علم الراوي، انتهى. فَيُحْيِيهَا يعني ليلة العيد؛ فإنه أشرف من ليلة القدر، كما أفتى به صاحب «النهر» وغيره، وجزم شراح البخاري سيما القسطلاني أن عشر ذي الحجة أفضل من العشر الأخير من رمضان، أي في حد ذاتها، لا في حق من كان بمزدلفة، الدر المختار» و«رد المحتار» ملخصا.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فنحر : قلت: لم يذكر في هذا الحديث الحلق. قاله في بذل المجهود».

Note 3

قوله

(۳) قوله: فأكلا وفي الدر المختار: وهو دم شكر، فيأكل منه.

Note 4

قوله

(٤)قوله: فصلى بمكة الظهر وقد ذكر مسلم بعد هذا في حديث ابن عمر لها أن النبي ﷺ طاف للإفاضة قبل الزوال، ثم صلى الظهر بمنى ووجه الجمع بينهما أنه صلى بمكة ركعتي الطواف وقت الظهر، ورجع إلى منى فصلى الظهر بأصحابه، أو يقال: الروايتان حيث تعارضتا فقد تساقطتا، فترجح صلاته بمكة وكونها فيها أفضل لثبوت مضاعفة الفرائض فيه، ويؤيده ضيق الوقت؛ لأنه لا رجع قبيل طلوع الشمس من المشعر ورمى بمنى، ونحر مائة من الإبل، وطبخ لحمها، وأكل منها. ثم ذهب إلى مكة وطاف وسعى، فلا شك أنه أدركه الوقت بمكة وما كان يؤخرها عن الوقت المختار لغير ضرورة، ومال إليه في «الفتح»، وقال في شرح اللباب»: إنه أظهر نقلا وعقلا، ولو تجشمنا أجمع حملنا فعله بمنى على الإعادة بسبب اطلع عليه يوجب نقصان المؤدى أولا، بذل المجهود» و«فتحالقدير» ورد المحتارة ملتقط منها.

Note 5

قوله

(٥) قوله: فأتى إلخ: وقال في «الهداية»: ثم يأتي زمزم فيشرب من مائها؛ لما روي أن النبي ﷺ استقى دلوا بنفسه فشرب منه، ثم أفرغ باقي الدلو في البئر، وقال في فتح القدير تحت هذا القول الذي في حديث جابر الطويل: يفيد أنهم نزعوا له. كذا في مسند أحمد ومعجم الطبراني عن ابن عباس الله قال: جاء النبي ﷺ إلى زمزم، فنزعنا له دلوا فشرب، ثم مج فيها، ثم أفرغناها في زمزم، ثم قال: لولا أن تغلبوا عليها لنزعت بيدي، وما رواه المصنف من أنه استقى بنفسه دلوا، رواه في كتاب الطبقات مرسلا : أخبرنا عبد الوهاب عن ابن جريج عن عطاء أن النبي ﷺلما أفاض نزع بالدلو، يعني من زمزم لم ينزع معه أحد فشرب، ثم أفرغ باقي الدلو في البئر، وقال: لولا أن يغلبكم الناس على سقايتكم لم ينزع منها أحد غيري قال: فنزع هو بنفسه الدلو ، فشرب منها لم يُعنه على نزعها أحد، وقد يجمع بأن ما في هذا كان بعقب طواف الوداع، وما في حديث جابر الله وما معه كان عقيب طواف الإفاضة، ولفظه ظاهر فيه حيث قال: فأفاض إلى البيت، فصلى بمكة الظهر، فأتى بني عبد المطلب يسقون على زمزم، فقال: انزعوا، الحديث. وطوافه للوداع كان ليلا، كما رواه البخاري عن أنس بن مالك أن النبي صلى بمكة الظهر والعصر والمغرب والعشاء، ورقد رقدة بالمحصب، ثم ركب إلى البيت فطاف به.