اردو
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
مزدلفہ میں نماز مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک ہی اقامت سے ادا فرمائی (اور یہی مذہب حنفی
ہے)۔ اس کی روایت ابو الشیخ نے کی ہے۔
اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں جس کو مسلم نے روایت کی ہے
(مزدلفہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مغرب اور عشاء کی نماز) ایک اذان اور ایک
اقامت سے ادا فرمائیں اور ذکر و دعا میں رات گزاری (صاحب نہر نے فتوٰی دیا ہے کہ مزدلفہ میں
قیام کی رات شب قدر سے افضل ہے اس لئے حاج کو چاہیئے کہ اس رات کو ذکر اور دعاء میں
گزاریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں یہیں قبول ہوئی تھیں۔12)
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تھوڑی دیر) آرام فرمائے اور ذکر و دعا میں رات طلوع
ہوئی تو آپ نے تاریکی میں ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ فجر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر آپ
اونٹنی پر سوار ہوئے اور مشعر حرام کے پاس تشریف لائے (جو مزدلفہ میں ایک پہاڑی ہے) (مزدلفہ
میں نماز فجر اول وقت ادا کرنا مذہب حنفی ہے۔12) آپ یہاں قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوئے اور دعاء
الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ کا ورد فرماتے رہے، یہاں تک کہ صبح کی
روشنی خوب پھیل گئی پھر آپ آفتاب نکلنے سے پہلے یہاں سے روانہ ہوئے اور فضل بن عباس رضی
اللہ عنہما کو (سواری پر پیچھے بٹھا لیا اور وادی مُحَسِّر میں داخل ہوئے اور وادی مُحَسِّر سے تیزی سے گذر
گئے۔ (اس لئے کہ اسی وادی میں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہوا تھا اور وہ ہلاک کر دیئے گئے) پھر
آپ بیچ کے راستہ سے (جو عرفات کو جاتے وقت کے راستے سے سوا تھا) جمرہ کبریٰ پر تشریف لائے
جہاں اس وقت ایک درخت تھا اور آپ نے اس جمرہ پر سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر
کہا۔ یہ کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں کہ ان کو انگوٹھے پر رکھ کر شہادت کی انگلی سے مارا جا سکتا تھا (گویا وہ
مٹر کے دانہ کے برابر تھیں) آپ نے ان کنکریوں کو وادی کے نشیبی حصہ میں (کھڑے رہ کر) پھینکا۔
اس کے بعد آپ قربانی کی جگہ تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے (من جملہ ایک سو اونٹ
کے) 63 اونٹ کو (جو آپ کی عمر شریف کی تعداد میں تھے) ذبح فرمایا۔ پھر بقیہ (37 اونٹ) کو
آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ذبح کروایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (قربانی کے ثواب
میں) شریک فرمایا (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلق فرمایا جس کا ذکر آگے مستقل باب میں
آ رہا ہے۔) پھر آپ نے حکم دیا کہ قربانی کے ہر جانور سے تھوڑا سا گوشت لے لیا جائے۔ چنانچہ
گوشت لایا گیا اور اس کو ہانڈی میں ڈال کر پکایا گیا تو آپ نے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس
گوشت کو تناول فرمایا اور اس کا شوربہ بھی پیا (اس لئے کہ یہ قربانی شکرانہ کی ہے) اس کے بعد رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف افاضہ کے لئے کعبۃ اللہ کی طرف روانہ ہوئے اور (بیت اللہ میں
داخل ہوئے اور طواف فرض ادا فرمایا اور حج کی واجب سعی ادا فرمائی) پھر نماز ظہر کعبۃ اللہ میں ادا
فرمائی پھر حضرت عبدالمطلب کی اولاد یعنی بنوعباس کے پاس تشریف لائے جو لوگوں کو زمزم پلا رہے
تھے، آپ نے ان سے فرمایا اے بنی عبدالمطلب (چاہ زمزم سے) پانی کھینچو اور لوگوں کو پلاؤ۔ اگر
مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ (میرے پانی کھینچنے کی وجہ سے) تم پر ٹوٹ پڑیں گے تو میں بھی تمہارے
ساتھ پانی کھینچنے میں شریک ہو جاتا۔ پھر ان حضرات نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی (سے بھرا
ہوا) ایک ڈول دیا آپ نے اس کو نوش فرمایا (پھر فرمایا (پھر آپ نے اس ڈول سے تھوڑا پانی نوش
فرمایا اور ڈول میں کلی کی تو باقی بچے ہوئے پانی کو ان لوگوں نے کنویں میں لوٹا دیا۔ جیسا کہ مسند امام
احمد میں مروی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2555 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 2555
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (10)
Note 1
(1) His statement: "He rested until dawn"—this refers to resting after ‘Isha (Al-Muhit).
Note 2
(2) His statement: "He slaughtered sixty-three camels"—this is a sacrifice of gratitude, so eating from it is permitted (Ad-Durr al-Mukhtar).
Note 3
(3) His statement: "They ate from the meat"—this is permissible as it is a sacrifice of gratitude (Ad-Durr al-Mukhtar).
Note 4
(4) His statement: "He prayed Dhuhr in Makkah"—Muslim’s narration from Ibn ‘Umar states the Prophet (ﷺ) performed Tawaf al-Ifadah before Dhuhr and prayed Dhuhr in Mina. The reconciliation is that he prayed in Makkah first, then in Mina (Badhl al-Majhud).
Note 5
(5) His statement: "He came upon Banu ‘Abd al-Muttalib"—this indicates drinking from Zamzam is recommended (Al-Hidayah).
Note 1
(۱) قوله: ثم اضطجع : أي إذا فرغ من العشاء يبيت ثمه كذا في المحيط»، وينبغي أن يحيي هذه الليلة بالصلاة والقراءة والذكر والدعاء والتضرع. كذا في التبيين». قاله في العالمكيرية». وقال في بذل المجهود»: وما في الحديثأنه اضطجع حتى طلع الفجر مبني على علم الراوي، انتهى. فَيُحْيِيهَا يعني ليلة العيد؛ فإنه أشرف من ليلة القدر، كما أفتى به صاحب «النهر» وغيره، وجزم شراح البخاري سيما القسطلاني أن عشر ذي الحجة أفضل من العشر الأخير من رمضان، أي في حد ذاتها، لا في حق من كان بمزدلفة، الدر المختار» و«رد المحتار» ملخصا.
Note 2
(۲) قوله: فنحر : قلت: لم يذكر في هذا الحديث الحلق. قاله في بذل المجهود».
Note 3
(۳) قوله: فأكلا وفي الدر المختار: وهو دم شكر، فيأكل منه.
Note 4
(٤)قوله: فصلى بمكة الظهر وقد ذكر مسلم بعد هذا في حديث ابن عمر لها أن النبي ﷺ طاف للإفاضة قبل الزوال، ثم صلى الظهر بمنى ووجه الجمع بينهما أنه صلى بمكة ركعتي الطواف وقت الظهر، ورجع إلى منى فصلى الظهر بأصحابه، أو يقال: الروايتان حيث تعارضتا فقد تساقطتا، فترجح صلاته بمكة وكونها فيها أفضل لثبوت مضاعفة الفرائض فيه، ويؤيده ضيق الوقت؛ لأنه لا رجع قبيل طلوع الشمس من المشعر ورمى بمنى، ونحر مائة من الإبل، وطبخ لحمها، وأكل منها. ثم ذهب إلى مكة وطاف وسعى، فلا شك أنه أدركه الوقت بمكة وما كان يؤخرها عن الوقت المختار لغير ضرورة، ومال إليه في «الفتح»، وقال في شرح اللباب»: إنه أظهر نقلا وعقلا، ولو تجشمنا أجمع حملنا فعله بمنى على الإعادة بسبب اطلع عليه يوجب نقصان المؤدى أولا، بذل المجهود» و«فتحالقدير» ورد المحتارة ملتقط منها.
Note 5
(٥) قوله: فأتى إلخ: وقال في «الهداية»: ثم يأتي زمزم فيشرب من مائها؛ لما روي أن النبي ﷺ استقى دلوا بنفسه فشرب منه، ثم أفرغ باقي الدلو في البئر، وقال في فتح القدير تحت هذا القول الذي في حديث جابر الطويل: يفيد أنهم نزعوا له. كذا في مسند أحمد ومعجم الطبراني عن ابن عباس الله قال: جاء النبي ﷺ إلى زمزم، فنزعنا له دلوا فشرب، ثم مج فيها، ثم أفرغناها في زمزم، ثم قال: لولا أن تغلبوا عليها لنزعت بيدي، وما رواه المصنف من أنه استقى بنفسه دلوا، رواه في كتاب الطبقات مرسلا : أخبرنا عبد الوهاب عن ابن جريج عن عطاء أن النبي ﷺلما أفاض نزع بالدلو، يعني من زمزم لم ينزع معه أحد فشرب، ثم أفرغ باقي الدلو في البئر، وقال: لولا أن يغلبكم الناس على سقايتكم لم ينزع منها أحد غيري قال: فنزع هو بنفسه الدلو ، فشرب منها لم يُعنه على نزعها أحد، وقد يجمع بأن ما في هذا كان بعقب طواف الوداع، وما في حديث جابر الله وما معه كان عقيب طواف الإفاضة، ولفظه ظاهر فيه حيث قال: فأفاض إلى البيت، فصلى بمكة الظهر، فأتى بني عبد المطلب يسقون على زمزم، فقال: انزعوا، الحديث. وطوافه للوداع كان ليلا، كما رواه البخاري عن أنس بن مالك أن النبي صلى بمكة الظهر والعصر والمغرب والعشاء، ورقد رقدة بالمحصب، ثم ركب إلى البيت فطاف به.