Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

Hadith 3077

Chapter: Stoning at Jamrah

In this book

Current reading

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ

Chapter: Stoning at Jamrah

Zujajat al-Masabih 3077Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۰۷۷ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ الله يُقَدِّمُ ضُعَفَاءَ أَهْلِهِ بِغَلَسٍ وَيَأْمُرُهُمْ، يَعْنِي لَا يَرْمُوْنَ الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَصْحَابُ السُّنَنِ، وَرَوَى الْبُخَارِيُّ نَحْوَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1940 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ دسویں ذوالحجہ کو رمی کے چار اوقات ہیں: (1) مکروہ (2) مسنون (3) مباح (4) ممنوع صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک کنکریاں مارنا مکروہ ہے، اور طلوع آفتاب کے بعد سے زوال تک مسنون ہے اور زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مباح یعنی جائز ہے اور اگر کسی نے رات میں یعنی صبح صادق سے پہلے کنکریاں ماریں تو درست نہیں اس کو دن میں لوٹانا پڑے گا۔ اب رہا گیارہ اور بارہ ذوالحجہ تو رمی کے اوقات تین ہیں: (1) مسنون (2) مکروہ (3) ممنوع۔ (1) زوال کے بعد سے غروب آفتاب تک مسنون ہے۔ (2) غروب آفتاب سے صبح صادق تک مکروہ ہے۔ (3) طلوع آفتاب سے زوال تک ممنوع ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ دسویں ذوالحجہ کو صرف جمرۂ کبریٰ پر سات سات کنکریاں مارنا واجب ہے اور بقیہ دو دنوں یعنی گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو تینوں جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے۔