Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3077

(اس باب میں جمرات پر کنکریاں مارنے کا بیان ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(اس باب میں جمرات پر کنکریاں مارنے کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 3077Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3647
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل بیت کے ضعیف لوگوں کو (جن میں بچے اور عورتیں تھے حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ سے منیٰ کو) اندھیرے میں روانہ فرما دیئے اور ان کو یہ حکم دیئے کہ سورج نکلنے تک جمرات پر کنکریاں نہ ماریں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور اصحاب سنن نے کی ہے اور بخاری نے بھی ایسی ہی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1940 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ دسویں ذوالحجہ کو رمی کے چار اوقات ہیں: (1) مکروہ (2) مسنون (3) مباح (4) ممنوع صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک کنکریاں مارنا مکروہ ہے، اور طلوع آفتاب کے بعد سے زوال تک مسنون ہے اور زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مباح یعنی جائز ہے اور اگر کسی نے رات میں یعنی صبح صادق سے پہلے کنکریاں ماریں تو درست نہیں اس کو دن میں لوٹانا پڑے گا۔ اب رہا گیارہ اور بارہ ذوالحجہ تو رمی کے اوقات تین ہیں: (1) مسنون (2) مکروہ (3) ممنوع۔ (1) زوال کے بعد سے غروب آفتاب تک مسنون ہے۔ (2) غروب آفتاب سے صبح صادق تک مکروہ ہے۔ (3) طلوع آفتاب سے زوال تک ممنوع ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ دسویں ذوالحجہ کو صرف جمرۂ کبریٰ پر سات سات کنکریاں مارنا واجب ہے اور بقیہ دو دنوں یعنی گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو تینوں جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے۔