Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3095a

Chapter on Musaqah and Muzara‘ah

In this book

Current reading

Sales

Chapter on Musaqah and Muzara‘ah

Zujajat al-Masabih 3095aVolume 2

English

Hanzalah ibn Qays narrated from Rafi‘ ibn Khadij that his uncles said they leased land in the Prophet’s (ﷺ) time for what grows on the channels or what the owner stipulates. The Prophet (ﷺ) forbade this. I asked Rafi‘, “What about dirhams and dinars?” He said, “No harm in that.” The prohibition was for what the knowledgeable in halal and haram would not permit due to risk. .

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠٩٥ - وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ (رضي الله عنه) قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمَّايَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُوْنَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَا يَنْبُتُ1 عَلَى الْأَرْبِعَاءِ، أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَانَا النَّبِيُّﷺ عَنْ ذَلِكَ. فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيْرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسُ، وَكَانَ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4072
حنظلہ بن قیس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، حضرت رافع نے کہا مجھے میرے دو چچاؤں نے خبر دی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اپنی زمین اس شرط پر دوسروں کو کرایہ پر دیتے تھے کہ پانی کی نالیوں پر جو چیز پیدا ہوگی (وہ مالک زمین کی ہوگی اور باقی پیداوار کرایہ پر لینے والے کی ہوگی) یا مالک زمین کسی قطعہ زمین کو (بٹائی کے لئے) الگ کر دے (اس طرح سے کہ زمین کے اس ٹکڑے پر جو پیداوار ہوگی وہ مالک زمین کی ہوگی اور فلاں ٹکڑے پر جو پیدا ہوگا وہ کرایہ دار کا ہوگا) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو ایسی بٹائی (کے معاملہ) سے منع فرمایا (اس وجہ سے کہ اس میں یہ اندیشہ ہے کہ ایک کی زمین میں پیداوار ہوا اور دوسرے کے حصہ میں کچھ پیدا نہ ہو تو یہ مجہول معاملہ ہوا جو جھگڑے اور فساد کا موجب ہو سکتا ہے) راوی کہتے ہیں کہ میں حضرت رافع سے دریافت کیا کہ اگر بٹائی کا معاملہ درہم اور دینار کے بدلہ میں ہو تو کیا یہ درست ہے؟ تو حضرت رافع نے جواب دیا اس میں کوئی حرج نہیں تو جس معاملہ سے روکا گیا ہے وہ ایسا معاملہ ہے کہ حلال اور حرام میں تمیز رکھنے والے اگر اس میں غور کریں تو خطرہ اور اندیشہ ہے (اور جس بٹائی میں خطرہ نہ ہو وہ جائز ہے)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2346 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

What grows on the channels…

(1) “What grows on the channels…”: They leased land for the worker to sow, with channel crops as rent, or a specific plot’s yield for the lessor, the rest for the lessee. This was forbidden due to risk, the basis for prohibition by those allowing muzara‘ah. [From Al-Luma‘at].

Note 1

قوله

(۱) قوله: بما ينبت على الأربعاء والمعنى: أنهم كانوا يكرون الأرض على أن يزرعه العامل ببذره، ويكون ما ينبت على أطراف الجداول السواقي للمكري أجرة لأرضه، وما عدا ذلك للمكتري، أو ما كان ينبت في هذه القطعة بعينها فهو للمكري، وما ينبت بغيرها فهو للمكتري فنهاهم عن ذلك لما فيه من الخطر، وهذه الصورة محمل النهي عند المجوزين. كذا في «اللمعات».