Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْبُيُوعِ

Hadith 3098a

بَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْبُيُوعِ

بَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ

Zujajat al-Masabih 3098aVolume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۰۹۸ - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ (رضي الله عنه) وَرَأَى سِكَةً وَشَيْئًا مِنَ الةِ الْحَرْثِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ هَذَا بَيْتَ قَوْمٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ الذُّلَّ».1 رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2321 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Brings humiliation…

(1) “Brings humiliation…”: Some scholars say this implies farming causes humiliation, but it is recommended for its benefit. It was said to prevent Companions from farming and neglecting jihad, risking defeat. Alternatively, it applies near enemies, where farming over jihad leads to humiliation. [From Al-Marqah].

Note 1

قوله

(۱) قوله : أدخله الذل : قال بعض علمائنا من الشراح: ظاهر هذا الحديث أن الزراعة تورث المذلة، وليس كذلك؛ لأن الزراعة مستحبة؛ لأن فيها نفعا للناس، والخبر اطلبوا الأرض من جثاياها، إنما قال ذلك؛ لئلا يشتغل الصحابة بالعمارات وبترك الجهاد، فيغلب عليهم الكفار، وأي ذل أشد من ذلك. وقيل: هذا في حق من بقرب العدو؛ لأنه لو اشتغل بالحرث وترك الجهاد لأدى إلى الإذلال بغلبة العدو عليه. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گھر میں ذلّت داخل کرتے ہیں جس گھر میں کھیتی کے آلات داخل ہوتے ہیں یعنی جو قوم جہاد چھوڑ دیتی ہے اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاتی ہے تو وہ ذلیل اور خوار ہو جاتے ہیں کہ حاکم ان کو محصول کے واسطے پکڑتا ہے اور ذلیل کرتا ہے۔ حدیث شریف میں اس بات کا ارشاد ہے کہ مسلمان جہاد نہ چھوڑیں اور دنیا کمانے میں مشغول نہ ہوں ورنہ وہ ذلیل و خوار ہوں گے اور کافر غالب ہو جائیں گے جیسا کہ اس زمانے میں ہو رہا ہے۔ صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ حدیث شریف میں زراعت کرنے کی جو وعید وارد ہے وہ ایسی قوم سے متعلق ہے جن کی سرحدیں دشمن سے قریب ہیں اور وہ صرف کھیتی باڑی میں مشغول رہتے ہیں اور جہاد کو چھوڑ دیا ہے اور اسی صورت میں دشمن ان پر غالب آ جائے گا اور وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وجہ سے بھی صرف زراعت میں مشغول ہو جانے کی وعید ارشاد فرمائی تا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھیتی باڑی اور گھروں کی تعمیر میں مشغول ہو کر جہاد نہ چھوڑ بیٹھیں جس کے نتیجہ میں کفار غالب ہو جائیں اس سے بڑھ کر مسلمان کے لئے اور کیا ذلت ہو سکتی ہے، ورنہ زراعت تو مستحب ہے اس لئے کہ زراعت کرنے میں انسانوں کا نفع ہے۔