اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3685
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ
الوداع کے موقع پر) منیٰ تشریف لائے اور جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچے اور کنکریاں ماریں، پھر وہاں
سے منیٰ میں اپنی قیام گاہ پر (جہاں اب مسجد خیف ہے) تشریف لائے اور اپنی قربانی کے جانوروں کو
ذبح فرمایا (منجملہ ایک سو کے 63، اونٹوں کو خود حضور نے اپنے دست مبارک سے نحر فرمایا اور بقیہ کو
حضرت علیؓ نے حضور کی طرف سے نحر فرمایا) پھر آپ ﷺ نے سر مونڈنے والے کو بلایا اور اپنے سر
مبارک کا داہنا جانب آگے بڑھایا تو اس نے اس کو مونڈھ دیا، تو آپ نے ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ
کو مونڈھے ہوئے بال عطا فرمائے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر مبارک کے بائیں حصہ کو
آگے کیا اور فرمایا اس کو بھی مونڈھ دو تو اس نے بایاں حصہ بھی مونڈھ دیا اور ان مبارک بالوں کو بھی
آپ نے ابوطلحہ انصاری کو دے دیا اور ارشاد فرمایا کہ ان بالوں کو لوگوں میں تقسیم کردو۔ (تاکہ وہ بطور
تبرک رکھ لیں)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1305c (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) "The right side": Indicates starting with the right is recommended. Some scholars preferred the left (initially held by Abu Hanifah, who later retracted this view after realizing the Sunnah prioritizes the right side of the person being shaved, not the barber). As stated in Al-Mirqat: "If the barber stands behind, both rights can be accommodated."
Note 2
(2) "Distribute it among the people": Proves the permissibility of keeping human hair and seeking blessings from the Prophet's relics. As mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله : شقه الأيمن: دل على أن المستحب الابتداء بالأيمن، وذهب بعضهم إلى أن المستحب الأيسر؛ ليكون أيمن الحالق ونسب إلى أبي حنيفة إلا أنه رجع عن هذا، وسبب ذلك أنه قاس أولا يمين الفاعل، كما هو المتبادر من التيامن، ولما بلغه أنه اعتبر يمين المفعول رجع عن ذلك القول المبني على المعقول إلى صريح المنقول؛ إذ الحق بالاتباع أحق. قاله في المرقاة» كذا في رد المحتار». قال في اللباب»: هو المختار، قال شارحه : كما فيمنسك ابن العجمي و«البحر»، وقال «النخبة»: وهو الصحيح، انتهى. وفي المرقاة»: ولو وقف الحالق خلف المحلوق أمكن الجمع بين الأيمنين.
Note 2
(۲) قوله : أقسمه بين الناس : دل على طهارة شعر الآدمي وأن يتبرك بأشعاره وباقي آثاره. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبارک بالوں کے ساتھ ساتھ ناخن مبارک کو بھی ترشوا کر حاضرین میں تقسیم فرما دیا، تاکہ یہ برکات امت میں باقی رہیں۔ چنانچہ آج تک یہ آثار مبارک باقی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مبارک کی یاد تازہ کرتے ہیں۔12