اردو
وبرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے
دریافت کیا کہ (گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو جمرات پر) میں کب کنکریاں ماروں؟ تو آپ نے جواب دیا
کہ تمہارا امام (یعنی جو شخص تم سے زیادہ مسائل سے واقف ہو) جب رمی کرے تو تم اس وقت رمی کرو
(راوی کا بیان ہے کہ مجھے تشفی نہیں ہوئی) میں نے دوبارہ اس مسئلہ کو دریافت کیا تو حضرت ابن عمرؓ
نے فرمایا کہ (گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو) ہم رمی کے لئے (سورج کے ڈھلنے کا) انتظار کرتے۔ پس
جب سورج ڈھل جاتا ہے تو ہم (ان دنوں تینوں جمرات پر) رمی کرتے۔ اس کی روایت بخاری نے
کی ہے۔
اور بیہقی کی ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مروی ہے
کہ یوم النفر الثانی یعنی تیرہویں ذوالحجہ کو جب سورج بلند ہوجائے تو (قبل زوال) رمی کرنا درست
ہے اور رمی کے بعد واپس بھی ہوسکتے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1746 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) "When the day has advanced" means when the sun is high. The Prophet's (ﷺ) action is understood as the optimal practice, while the permissibility is established by the Qur'anic verse. Comparing it to the second and third days is weak because stoning cannot be omitted those days. (Al-Binayah)
Note 1
(۱) قوله : إذا انتفخ الانتفاخ الارتفاع. وفعل النبي ﷺ محمول على الأفضل بدلالة جواز النفر الحكم الآية، وقياسهما على اليوم الثاني والثالث ضعيف؛ لأنه لا يجوز ترك الرمي فيهما أصلا، فجاز التقديم أيضًا على الزوال. كذا في «البناية».