Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے) · Chapter 10

Chapter: The Sermon on the Day of Sacrifice and Farewell

14 narrations · In source reading order

Hadith 3118

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3698
سرّاء بنت نبھان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو (حجۃ الوداع کے موقع پر) یوم الرؤوس یعنی گیارہویں ذوالحجہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا (دورانِ خطبہ میں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی دریافت فرمایا یہ کونسا دن ہے؟ تو ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول، بہتر جانتے ہیں، آپ نے پھر ارشاد فرمایا کیا یہ یعنی گیارہویں ذوالحجہ ایام تشریق میں سب سے زیادہ فضیلت والا دن نہیں ہے؟۔ اس کی روایت ابوداؤد نے سند حسن کے ساتھ کی ہے۔ اور مجمع الزوائد نے کہا ہے کہ اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1953 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

(1) Regarding the Day of Sacrifice sermons: According to our school, there are three sermons - on the 7th of Dhul-Hijjah, at Arafah, and at Mina on the 11th. Shafi'i adds a fourth on the Day of Sacrifice. At-Tahawi objected that these sermons didn't teach Hajj rituals but general advice, unlike the Arafah sermon which specifically taught Hajj rites. The Mina sermon was for conveying messages to the large gathering. (Summarized from Umdat al-Qari)

Chapter-heading commentary

قوله

(۱)قوله: خطبة إلخ : يوم التروية هو يوم الثامن واليوم التاسع هو يوم عرفة، واليوم العاشر يوم النحر، والحادي عشر يوم القرّ بفتح القاف وتشديد الراء؛ لأنهم يقرون فيه بمنى، وهو يوم الرؤوس هو ثاني يوم النحر، سمي بذلك لا كلهم، فيه رؤس الهدي، وهو أول أيام التشريق والثاني عشر يوم النفر الأول والثالث عشر النفر الثاني، «منحة الخالق» و عمدة القاري ملتقط منهما. وقال في تاج العروس: وأهل مكة يسمون يوم القرَّ يوم الرؤوس لأكلهم فيه رؤوس الأضاحي.

Note 2

قوله

(۲) قوله: خطبنا النبي يوم الرؤس : الخطبة عند أصحابنا في الحج في ثلاثة أيام الأولى: في اليوم السابع من ذي الحجة،والثانية بعرفات يوم عرفة، والثالثة بمنى في اليوم الحادي عشر. ووافقهم الشافعي إلا أنه قال: بدل ثاني النحر ثالثه؛ لأنه أول النفر، وزاد خطبة رابعة، وهي يوم النحر. وقال: إن بالناس حاجة إليها؛ ليتعلم أعمال ذلك اليوم من الرمي والذبح والحلق والطواف. وتعقبه الطحاوي بأن الخطبة المذكورة ليست من متعلقات الحج؛ لأنه لم يذكر فيها شيء من أمور الحج، وإنما ذكر فيها وصايا عامة، ولم ينقل أحد أنه علمهم فيها شيئًا من الذي يتعلق بيوم النحر، فعرفنا أنها لم تقصد لأجل الحج، وقال ابن القصار : إنما فعل ذلك من أجل تبليغ ما ذكره لكثرة الجمع التي اجتمع من أقاصي الدنيا، فظن الذي رآه أنه خطب. وقال: وأما ما ذكره الشافعي أن بالناس حاجة إلى تعليمهم أسباب التحلل المذكورة، فليس بمتعين؛ لأن الإمام يمكنه أن يعلمهم يوم عرفة، انتهى. والخطبة الحقيقية في حديث ابن عباس ما رواه جابر بن زيد عنه قال: سمعت النبي ﷺ يخطب بعرفات. فهذه الخطبة الحقيقية؛ لأن فيها تعليم الناس الوقوف بعرفة والمزدلفة والإفاضة منها ورمي جمرة العقبة يوم النحر والذبحوالحلق وطواف الزيارة، وليس في خطبة يوم النحر شيء من ذلك، وإنما هي سؤالات وأجوبة، وكذلك في حديث صل الله الهرماس بن زياد وأبي أمامة عند أبي داود. وحديث جابر بن عبد الله عند أحمد: خطبنا رسول الله ﷺ يوم النحر، فقال : أي يوم أعظم حرمة ؟ الحديث، وحديث أبي بكرة عند البخاري ومسلم خطبنا النبي يوم النحر قال: إن الزمان قد استدار كهيئة يوم خلق الله السماوات والأرض، الحديث. وإطلاق الخطبة في كل ذلك ليس على حقيقته عمدة القاري» ملخصا. وقال في الجوهر النقي: قلت: ذكر الطحاوي في اختلاف العلماء أن خطبته عليه في يوم النحر لم تكن؛ لأجل الحج، بل ذكر فيهما أحكامًا أخر. ثم إن خطبته عليه كانت وقت الضحى، كما ذكر البيهقي من طريق أبي داود، وكذا ذكر ابن حزم وغيره. ومذهب الشافعي على ما حكاه البيهبقي أن الخطبة بعد الظهر.

Note 3

قوله

(۳)قوله : أوسط أيام التشريق: أي أفضلها وخيارها، كذا يفهم من «تاج العروس».

Note 1

ف: واضح ہو کہ حج کے موقع پر احناف کے پاس تین خطبے ہیں۔ پہلا خطبہ ساتویں ذوالحجہ کے دن، دوسرا خطبہ عرفات میں نویں ذوالحجہ جس میں وقوف عرفات، رمی، قربانی، حلق اور طواف زیارت کے احکام بیان کئے جاتے ہیں اور تیسرا خطبہ منیٰ میں گیارہویں ذوالحجہ کے دن۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ مگر ان کے پاس ان تین خطبوں کے علاوہ چوتھا خطبہ بھی ہے اور یہ منیٰ میں دسویں ذوالحجہ کو دیا جاتا ہے۔ عمدۃ القاری۔12

Hadith 3119

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3699Noor 3700
وبرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ (گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو جمرات پر) میں کب کنکریاں ماروں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ تمہارا امام (یعنی جو شخص تم سے زیادہ مسائل سے واقف ہو) جب رمی کرے تو تم اس وقت رمی کرو (راوی کا بیان ہے کہ مجھے تشفی نہیں ہوئی) میں نے دوبارہ اس مسئلہ کو دریافت کیا تو حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ (گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو) ہم رمی کے لئے (سورج کے ڈھلنے کا) انتظار کرتے۔ پس جب سورج ڈھل جاتا ہے تو ہم (ان دنوں تینوں جمرات پر) رمی کرتے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔ اور بیہقی کی ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مروی ہے کہ یوم النفر الثانی یعنی تیرہویں ذوالحجہ کو جب سورج بلند ہوجائے تو (قبل زوال) رمی کرنا درست ہے اور رمی کے بعد واپس بھی ہوسکتے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1746 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

When the day has advanced

(1) "When the day has advanced" means when the sun is high. The Prophet's (ﷺ) action is understood as the optimal practice, while the permissibility is established by the Qur'anic verse. Comparing it to the second and third days is weak because stoning cannot be omitted those days. (Al-Binayah)

Note 1

قوله

(۱) قوله : إذا انتفخ الانتفاخ الارتفاع. وفعل النبي ﷺ محمول على الأفضل بدلالة جواز النفر الحكم الآية، وقياسهما على اليوم الثاني والثالث ضعيف؛ لأنه لا يجوز ترك الرمي فيهما أصلا، فجاز التقديم أيضًا على الزوال. كذا في «البناية».

Hadith 3120

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3701
سالم رحمہ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کے دن مسجد خیف سے) قریبی جمرے (یعنی جمرہ اولیٰ) پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے مارنے کے بعد اللہ اکبر فرماتے پھر کچھ آگے بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کر دیر تک قبلہ رو کھڑے ہوتے اور (اتنی دیر) دعا مانگتے (کہ جتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے) اور (دعا میں) دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے، پھر جمرہ وسطیٰ پر تشریف لاکر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے پھینکنے وقت اللہ اکبر فرماتے، پھر بائیں جانب بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کر قبلہ رو کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعاء فرماتے اور دعاء میں دیر تک کھڑے رہتے۔ پھر جمرہ ذات الْعَقَبَة پر (جس کو جمرہ کبریٰ بھی کہتے ہیں) نالہ میں کھڑے ہو کر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر اللہ اکبر فرماتے (چونکہ اس کے بعد رمی نہیں ہے اس لئے) یہاں نہ تو ٹھہرتے (اور نہ دعاء مانگتے) پھر وہاں سے واپس ہو جاتے۔ (راوی کا بیان ہے کہ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1751 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3121

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3702Noor 3703
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی درخواست کی کہ منیٰ کے قیام کے دوران اُنھیں راتوں کو مکہ معظمہ میں قیام کی اجازت دی جائے تاکہ وہ لوگوں کو زمزم پلائیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اجازت دیدی۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی اس طرح مروی ہے کہ وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ کوئی شخص منیٰ کے قیام کے دنوں میں مکہ معظمہ میں رات گزارے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1634 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1315a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He permitted him

(1) "He permitted him" - Scholars differ about staying in Makkah during Mina nights. Malik requires blood sacrifice, Shafi'i recommends feeding a poor person for each night (with blood sacrifice if all nights are missed). Abu Hanifa and his students say nothing is required if one comes to Mina for stoning, following Hasan al-Basri's view that it is Sunnah. (Umdat al-Qari and Fath al-Qadir)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فأذن له: واختلف الفقهاء فيمن بات ليلة منى بمكة من غير من رخص له، فقال مالك: عليه دم، وقال الشافعي: إن بات ليلة أطعم عنها مسكينا، وإن بات ليالي منى كلها أحببت أن يهريق دما. وجعل أبو حنيفة وأصحابه لا شيء عليه إن كان يأتي منى ويرمي الجمار، وهو قول الحسن البصري؛ إذ هو سنة عندنا، يلزم بتركه الإساءة، على ما يفيده لفظ «الكافي» حيث استدل بأن العباس الله استأذن النبي الله في أن يبيت بمكة ليالي منى من أجل سقايته، فأذن له، ثم قال: ولو كان واجبًا لما رخص في تركها لأجل السقاية. فعلم أنه سنة، وتبعه صاحب «النهاية»، «عمدة القاري» و«فتح القدير ملخصا. لذلك قال في رد المحتار: ثم أتى منى فيبيت بها للرمي، أي ليالي أيام الرمي هو السنة، فلو بات بغيرها كره، ولا يلزمه شيء. «اللباب».

Note 1

ف: صاحب ردالمحتار نے لباب کے حوالے سے لکھا ہے کہ حاجی رمی جمار کے دنوں میں منیٰ کے لئے منیٰ میں رات گزارے اور یہ مسنون ہے اور اگر منیٰ میں شب نہ گزار سکے تو یہ مکروہ ہے اور اس پر کوئی کفارہ بھی لازم نہیں آتا۔12

Hadith 3122

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3704
ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے والد عاصم بن عدی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ چرانے والوں کو اجازت دی تھی تھی کہ (اونٹوں کے گم ہوجانے کے اندیشے سے منیٰ میں) رات نہ گزاریں اور اس کی بھی اجازت دی تھی کہ وہ قربانی کے دن (جمرۂ عقبہ پر) کنکریاں ماریں اور گیارھویں اور بارھویں ذوالحجہ کے کنکریاں مارنے کو کسی ایک دن میں جمع کرلیں یعنی گیارہ ذوالحجہ کو گیارہ اور بارہ کی ایک ساتھ کنکریاں ماریں یا پھر بارہ ذوالحجہ کو گیارہ کی فوت شدہ کنکریاں اور بارہ کی ایک ساتھ کنکریاں ماریں، اس کی روایت امام مالک، ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 955 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Combine two days' stoning

(1) "Combine two days' stoning" - According to Muhammad, if someone combines stoning due to need or otherwise, there is no penalty though it is disliked without reason. Abu Hanifa said if delayed until the next day, blood is required. Most scholars (Malik, Ahmad, Shafi'i, Abu Yusuf) allow combining two days' stoning in one day. (Muwatta Muhammad and At-Ta'liq al-Mumajjad)

Note 2

قوله

(۲) قوله: ثم يجمعوا رمي يومين قال محمد من جمع رمي يومين في يوم من علة وغير علة فلا كفارة عليه، إلا أنه يكره له أن يدفع ذلك من غير علة حتى الغد؛ لأنه خلاف السنة. وقال أبو حنيفة: إذا ترك ذلك حتى الغد فعليه دم؛ لأن رمي كل يوم في ذلك اليوم واجب عنده خلافا لهما. كذا في موطأ» محمد و التعليق الممجد». وقال في العرف الشذي»: الرعاة مرخصون في رمي الجمار جمعا في يوم واحد رمي يومين، ولا جناية عند مالك وأحمد والشافعي ومحمد وأبي يوسف ، وقال أبو حنيفة: إن التأخير عن الوقت الذي ذكرنا أولا يوجب الجزاء والجناية، وأما الجمهور فيجوزون جمع رمي يومين في يوم واحد، ثم الجمع جمع تقديم وتأخير، ولم يذهب أحد . من الأئمة إلى جمع التقديم إلا ما توهم إليه رواية مالك. وأما كتب الموالك ففيها نفي الجمع تقديما. وأما جواب حديث الباب من جانب أبي حنيفة فأقول: إن الرعاة مرخصون في جمع رمي يومين، ولكنه عند العذر، وأما ما نقل محمد في موطئه عن أبي حنيفة، فمراده أن الرخصة للرعاة ليست بناءً على رعي الإبل بهذا القدر فقط، بل مقدار الرخصة هو ضياع المال، فالعذر هو ضياع المال، ولا دم في هذاالعذر لا رعي الإبل فقط، فإنه إذا كانوا كثيرا فالعذر يسير، فإنه يمكن لهم أن يرعي بعضهم ويرمي بعضهم، فيقال: إن الحديث يرخص لعذر ضياع المال لا لعذر رعي الإبل، فيصدق أن أبا حنيفة لا يجعل الرعي عذرا، ويجعله عذرا غيره من الأئمة، أو يقال: إن التأخير عنده أن يؤخر رمي الحادي عشر مثلا إلى طلوع الفجر الثاني عشر، ويرمي له بعد طلوع الفجر؛ لأنه وقت جواز على ما روى حسن بن زياد رواية عن أبي حنيفة، والشريعة تعتبر الأيام اللاحقة مع الليالي الماضية إلا في أيام الرمي.

Note 1

ف: واضح ہو کہ حدیث شریف میں اونٹوں کے چرانے والوں کے لئے رمی جمار میں تقدیم یا تاخیر کی جو اجازت ہے وہ مال کے ضائع ہونے کے اندیشے سے ہے اس لئے اگر کوئی بلا عذر رمی جمار میں تقدیم یا تاخیر کرے تو اس پر دم واجب ہوگا جیسا کہ امام اعظم رحمہ اللہ کا قول ہے۔ ہدایہ۔12

Hadith 3123

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3705
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم کی سبیل پر تشریف لائے اور زمزم طلب فرمائے تو حضرت عباسؓ (اپنے صاحبزادے) فضلؓ سے فرمایے تم اپنی ماں کے پاس جاؤ اور ان کے پاس سے حضورؐ کے پینے کے لئے (صاف) پانی لے آؤ (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے یہی زمزم پلا دو تو حضرت عباس نے فرمایا یا رسول اللہ! لوگ اس میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ اس پر بھی حضور نے پھر فرمایا مجھے یہی زمزم پلادو (تو آپ کو زمزم پیش کیا گیا آپ نے اس کو پی لیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم کے کنویں پر تشریف لائے، اس وقت لوگ (یعنی اولاد عبدالمطلب) لوگوں کو زمزم پلا رہے تھے۔ اور اس کام میں مشقت اٹھا رہے تھے حضور نے ان کو دیکھ کر فرمایا تم اپنے کام میں مشغول رہو، تم ایک نیک کام کر رہے ہو۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میرے ہاتھ لگاتے ہی لوگ ٹوٹ پڑیں گے (اور پانی پلانا تمہارے لئے مشکل ہو جائے گا) تو میں (اونٹنی پر سے) اترتا اور رسی کو کندھے پر رکھتا (اور پانی کھینچتا اور تمہارے اس نیک کام شریک ہوتا)۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1635 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3124

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3706
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ سے مکہ مکرمہ) واپس ہوتے وقت (مقام محصّب میں ٹھہر کر) نماز ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (اپنے اپنے وقت پر اسی مقام میں) ادا فرمائے اور یہیں محصّب میں کچھ دیر آرام فرمائے۔ پھر (اونٹنی پر) سوار ہو کر مکہ معظمہ پہنچ کر طواف وداع فرمائے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1756 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Prayed Dhuhr...

(1) "Prayed Dhuhr..." - It is recommended to pray Dhuhr on the 8th at Mina and stay until the morning of Arafah. When departing to Makkah, one should stop briefly at Al-Muhassab as the Prophet (ﷺ) did. The complete practice is to pray the four prayers there, rest briefly, then enter Makkah. (Ad-Durr al-Mukhtar)

Note 1

قوله

(۱)قوله : صلى الظهر إلخ: وفي المبسوط»: يستحب أن يصلي الظهر يوم التروية بمنى، ويقيم بها إلى صبيحة عرفة، انتهى. ثم إذا نفر إلى مكة نزل استنانا - ولو ساعة - بالمحصب يقف فيه على راحلته يدعو، فيحصل بذلك أصل النسة، وأما الكمال فما ذكره الكمال من أنه يصلي فيه الظهر والعصر والمغرب والعشاء، ويهجع هجعة، ثم يدخل مكة الدر المختار» ورد المحتار ملتقط منهما.

Hadith 3125

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3707
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ہم حجۃ الوداع کے موقع پر) منیٰ میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (منیٰ سے مکہ مکرمہ واپس ہوتے وقت) ہم سے ارشاد فرمایا کہ ہم کل خیف بنی کنانہ یعنی محصّب میں قیام کریں گے (اور یہ وہی مقام ہے) جہاں مشرکین نے اپنے کفر پر قسمیں کھائی تھیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ قریش اور بنو کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو المطلب کے خلاف باہم عہد کیا تھا کہ یہ لوگ ان سے (یعنی بنو ہاشم اور بنو المطلب سے) نہ تو شادی بیاہ کریں گے اور نہ خرید و فروخت کریں گے جب تک کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام محصّب میں ان کے حوالے نہ کر دیں (اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اسی مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر فاتحانہ قیام فرما رہے ہیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1590 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

We will stop at Khayf...

(1) "We will stop at Khayf..." - This shows he intentionally stopped there to reflect on Allah's favor in changing his situation from being besieged to being victorious. This remembrance is part of worship, making it Sunnah for the ummah to emulate this reflection on Allah's blessings. (Fath al-Qadir)

Note 2

قوله

(۲) قوله: نحن نازلون غدا إلخ فثبت بهذا أنه نزله قصدا، ليرى لطيف صنع الله به، وليتذكر فيه نعتمه سبحانه عليه عند مقايسة نزوله به الآن إلى حاله قبل ذلك، أعني حال انحصاره من الكفار في ذات الله تعالى، وهذا أمر يرجع إلى معنى العبادة، ثم هذه النعمة التي شملته الله من النصر والاقتدار على إقامة التوحيد، وتقرير قواعد الوضع الإلهي الذي دعا الله تعالى إليه عباد، ولينتفعوا به في دنياهم ومعادهم، لا شك في أنها النعمة العظمى على أمته؛ لأنهم مظاهرالمقصود من ذلك المؤزر، فكل واحد منهم جدير بتفكرها، والشكر التام عليها؛ لأنها عليه أيضًا، فصار سنة كالرمل في الطواف في حقهم؛ لأن معنى العبادة في ذلك بتحقق في حقهم أيضًا. كذا في فتح القدير».

Note 1

ف: صاحب فتح القدیر نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مناسک حج سے فراغت کے بعد منی سے مکہ معظمہ کو جاتے ہوئے بالارادہ مقام محصب قیام فرمایا۔ اس کی وجہ یہ تھی مشرکین مکہ نے اسی مقام میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور بنو ہاشم اور بنو المطلب سے اسی وجہ سے مقاطعہ بھی کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو کو خاک میں ملا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مبین عطا فرمائی۔ اسی شکرانہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی مقام محصب میں اپنے اس مبارک سفر حج کے اختتام کے موقع پر یہاں قیام فرمایا اور چاروں نمازیں یہاں ادا فرمائیں اور محصّب میں قیام کی مثال ایسی ہے جیسے طواف قدوم میں رمل کیا جاتا ہے جس سے مقصود کفر پر اسلام کے غلبہ کا اظہار تھا اور یہ عمل آج بھی مسنون ہے۔ اسی لئے محصّب میں قیام حجاج کرام کے لئے امام اعظم رحمہ اللہ کے پاس مسنون ہے۔12

Hadith 3126

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3708
نافع رحمہ اللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں حضرت ابن عمر (مناسک حج سے فارغ ہونے کے بعد منی سے مکہ معظمہ کو واپسی کے وقت) مقام محصّب میں ٹھہرنے کو سنت قرار دیتے تھے اور منی سے روانگی کے دن محصّب میں نماز ظہر ادا فرماتے تھے۔ نافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء راشدین نے (منی سے واپسی کے وقت) مقام محصّب میں قیام فرمایا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1310c (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3127

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3709
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی (منی سے واپسی کے وقت) ابطح یعنی مقام محصّب میں قیام فرمایا کرتے تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1310a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3128

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3710
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ لوگ مناسک حج سے فارغ ہونے کے بعد منی سے طواف وداع کئے بغیر (اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو جاتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص (جو مکہ کا باشندہ نہ ہو) اس وقت تک ہرگز واپس نہ ہو جب تک کہ وہ بیت اللہ سے اپنے آخری عہد کو پورا نہ کرلے یعنی طواف وداع نہ کرلے۔ البتہ حیض (یا نفاس) والی عورت کے لئے یہ (یعنی طواف وداع) معاف کر دیا گیا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1755 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1327 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

No one should depart...

(1) "No one should depart..." - The Farewell Tawaf is obligatory according to our school, contrary to Shafi'i, based on the Prophet's (ﷺ) command. The prohibition with emphatic "la yanfiran" confirms its obligation. (Fath al-Qadir)

Note 2

Until his last act is at the House

(2) "Until his last act is at the House" - The ruling applies equally to locals and visitors except Makkans, as the reason is bidding farewell which doesn't apply to locals. (Al-Inayah)

Note 3

Exempted menstruating women

(3) "Exempted menstruating women" - This also proves the obligation; otherwise the exemption would be meaningless. (Al-Inayah)

Note 1

قوله

(۱)قوله: لا ينفرن إلخ : طواف الوداع واجب عندنا خلافا للشافعي؛ لقوله : من حج هذا البيت فليكن آخر عهده بالبيت الطواف مما يفيد أن الأمر على حقيقته من الوجوب ما وقع في هذا الحديث لا ينفرن أحدكم حتى يكون آخر عهده بالبيت، فهذا النهي وقع مؤكدًا بالنون الثقيلة، وهو يؤكد موضوع اللفظ، هذا حاصل ما في «فتح القدير».

Note 2

قوله

(۲) قوله: حتى يكون آخر عهده بالبيت وقال في العناية»: المكي والآفاقي في واجبات الحج سواء فيما إذا كانت العلة مشتركة وههنا ليست كذلك؛ لأن علة هذا الطواف التوديع، وليس بموجود في المكي، انتهى. لذلك قال في الهداية»: طواف الوداع واجب عندنا إلا على أهل مكة.

Note 3

قوله

(۳) قوله: إلا أنه خفف عن الحائض: ذلك أيضًا دليل الوجوب، وإلا لم يكن لتخصيص الرخصة بالحيض فائدة. كذا في «العناية». وقال في رد المحتار: أفاد وجوبه على كل حاج آفاقي مفرد أو متمتع أو قارن بشرط كونه مدركا مكلفا غير معذور، فلا يجب على المكي ولا على المعتمر مطلقا وفائت الحج والمحصر والمجنون والصبي والحائض والنفساء، كما في اللباب» وغيره.

Note 1

ف: صاحب فتح القدیر نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا يَنْفِرَنَّ اَحَدُكُمْ (یعنی تم میں سے ہرگز کوئی طواف وداع کے بغیر نہ نکلے) اس لفظ کو نون تاکید سے مؤکد فرمایا ہے جس سے طواف وداع کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور عنایہ میں لکھا ہے کہ یہ طواف ہر آفاقی (یعنی غیر مکی) پر واجب ہے واجب خواہ وہ مفرد ہو (متمتع ہو یا قارن اور طوف وداع ترک کر دے تو قربانی واجب ہوگی اور یہی مذہب حنفی ہے۔ 12

Hadith 3129

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3711
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو (حجۃ الوداع کے موقع پر منی سے واپسی کے وقت) رات میں حیض آ گیا (جب کہ ام المؤمنین حضرت صفیہ نے طواف وداع نہیں کیا تھا اس لئے آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا میرا ایسا خیال ہے کہ میری وجہ سے آپ حضرات رک جائیں گے (اس لئے کہ میرا طواف وداع باقی ہے اور مجھے حیض آ گیا ہے یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خدا تمہارا بھلا کرے کیا انھوں نے دسویں ذوالحجہ کو طواف زیارۃ (جو فرض ہے) ادا کر لیا ہے تو عرض کیا گیا ہاں! تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (طواف زیارت ادا کرنے سے تمہارا حج پورا ہو گیا اور طواف وداع حائضہ کے لئے معاف ہے۔ اس لئے) مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہو جاؤ۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1772 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ طواف وداع، حیض یا نفاس والی عورت کے لئے معاف ہے، البتہ طواف زیارت جو فرض ہے اس کی ادائی کے بغیر حیض یا نفاس والی عورت وطن واپس نہیں ہو سکتی۔12

Hadith 3130

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3712
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف زیارت کے ساتوں پھیروں میں سے کسی میں رمل نہیں فرمایا (اس لئے کہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر طواف عمرہ میں رمل فرما لیا تھا)۔ اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2001 (unverified) 94% confidence · Validation similarity: 0.740
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3060 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Did not perform Ramal

(1) "Did not perform Ramal" - The Ramal showing strength was done during Umrat al-Qada after the Treaty of Hudaybiyah. In Hajjat al-Wida after conquering Makkah, the Prophet (ﷺ) performed Ramal showing it is Sunnah in every Tawaf followed by Sa'i. For Qarin, there are two Tawafs with Ramal. (Ad-Durr al-Mukhtar and Rad al-Muhtar)

Note 1

قوله

(۱)قوله : لم يرمل : ونقول: إن واقعة إظهار الجلادة كانت واقعة عمرة القضاء، وقد رمل النبي ﷺ في حجة الوداع بعد فتح مكة، فعلم أن الرمل سنة، والرمل سنة في كل طواف بعده سعي، وللقارن عندنا طوافان والرمل مرتين. وصفة القرآن: أن يهل بالعمرة والحج معا من الميقات، فإذا دخل مكة ابتدأ فطاف بالبيت سبعة أشواط، يرمل في الثلاث الأول منها، ويسعى بعدها بين الصفا والمرة، وهذه أفعال العمرة، ثم يبدأ بأفعال الحج فيطوف للقدوم، ويسعى بعده إن شاء، وإن شاء يسعى بعد طواف الإفاضة، والأول أفضل للقارن أو يسن، أفاد أنه يضطبع ويرمل في طواف القدوم إن تقدم السعي، كما صرح به في اللباب». قال شارحه القاري وهذا ما عليه الجمهور من أن كل طواف بعده سعي، فالرمل فيه سنة، وقد نص عليه الكرماني حيث قال في باب القران يطوف طواف القدوم، ويرمل فيه أيضًا؛ لأنه طواف بعده سعي، وكذا في «خزانة» الأكمل. وإنما يرمل في طواف العمرة وطواف القدوم مفردا كان أو قارنا. وأما ما نقله الزيلعي عن «العناية» للسروجي من أنه إذا كان قارنا لم يرمل في طواف القدوم، إن كان رمل في طواف العمرة فخلاف ما عليه الأكثر، «الدر المختار» و«رد المحتار» و «فتح القدير ملتقط منها. وقال في بذل المجهود»: أما النبي ﷺ فلم يرمل في طواف الإفاضة. قال القاري: لتقدم السعي عليه. قلت: والذي عندي أنه الله لم يرمل فيه؛ لأنه كان راكبا، والرمل لا يتحقق إلا في المشي.

Note 1

ف: واضح ہو کہ رمل اس طواف میں مسنون ہے جس کے بعد سعی ہو۔ اس لئے اگر کسی ایک طواف میں جس کے بعد سعی ہو، رمل کر لیا گیا ہو تو سنت کی ادائی ہو جاتی ہے۔ طواف زیارت میں دوبارہ رمل کی ضرورت نہیں۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف زیارت کے پھیروں میں رمل نہیں فرمایا کیوں کہ آپ نے طواف عمرہ کے پھیروں میں رمل فرما لیا تھا۔ درمختار، ردالمحتار، فتح القدیر۔12

Hadith 3131

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3713
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم نے رمی کر لی اور (قربانی کے بعد) سر مونڈھ لیا تو تم پر بیویوں کے سوا خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا جائز ہے، مگر بیویوں کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتے (البتہ طواف زیارت کے بعد عورتیں بھی حلال ہو جاتی ہیں۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور دارقطنی نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Everything becomes permissible

(1) "Everything becomes permissible" - This indicates that stoning alone doesn't lift all ihram restrictions according to our school, contrary to Malik and Shafi'i. (Sharh al-Lubab)

Note 2

قوله

(۲) قوله : إذا رميتم وحلقتم وأفاد أنه لا يحل له بالرمي قبل الحلق شيء، وهو المذهب عندنا، كما في شرح اللباب» للقاري عن الفارسي، وفي شرحه على النقاية»: والرمي غير محلل من الإحرام عندنا في المشهور، ومحلل عند مالك والشافعي، كما في رد المحتار».

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ صرف رمی کر لینے سے احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوتیں بلکہ قربانی کے بعد سر مونڈھانے سے احرام کی پابندیاں اٹھ جاتی ہیں سوائے بیوی سے صحبت کے جو طواف زیارت کے بعد جائز ہو جاتی ہے۔ ردالمحتار۔12