Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3120

Chapter: The Sermon on the Day of Sacrifice and Farewell

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: The Sermon on the Day of Sacrifice and Farewell

Zujajat al-Masabih 3120Volume 2

English

Salim reported from his father (Ibn Umar) that he would stone the nearest pillar with seven pebbles, saying Allahu Akbar after each, then move forward to an open area, face the Qiblah, stand for a long time raising his hands in supplication. Then he would stone the middle pillar similarly, then take the left path to stone the last pillar from the valley bottom without stopping there. Then he would depart saying: "This is how I saw the Prophet (ﷺ) do it."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٢٠ - وَعَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يُسْهِلَ ، فَيَقُومَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيَقُومُ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْيِي الْوُسْطَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَيَسْتَهِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، ثُمَّ وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، وَيَقُومُ طَوِيلًا ، ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُولُ : هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَفْعَلُهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3701
سالم رحمہ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کے دن مسجد خیف سے) قریبی جمرے (یعنی جمرہ اولیٰ) پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے مارنے کے بعد اللہ اکبر فرماتے پھر کچھ آگے بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کر دیر تک قبلہ رو کھڑے ہوتے اور (اتنی دیر) دعا مانگتے (کہ جتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے) اور (دعا میں) دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے، پھر جمرہ وسطیٰ پر تشریف لاکر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے پھینکنے وقت اللہ اکبر فرماتے، پھر بائیں جانب بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کر قبلہ رو کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعاء فرماتے اور دعاء میں دیر تک کھڑے رہتے۔ پھر جمرہ ذات الْعَقَبَة پر (جس کو جمرہ کبریٰ بھی کہتے ہیں) نالہ میں کھڑے ہو کر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر اللہ اکبر فرماتے (چونکہ اس کے بعد رمی نہیں ہے اس لئے) یہاں نہ تو ٹھہرتے (اور نہ دعاء مانگتے) پھر وہاں سے واپس ہو جاتے۔ (راوی کا بیان ہے کہ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1751 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.