Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3134a

Chapter: Gifts

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Gifts

Zujajat al-Masabih 3134aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4118Noor 4119Noor 4120Noor 4121
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہبہ دینے والا شخص اپنے ہبہ (کو واپس لینے) کا زیادہ مستحق ہے جب تک کہ وہ ہبہ دی ہوئی چیز کو (ہبہ لینے والے کے) قبضہ میں (پوری طور پر) نہ دیدے۔ اس کی روایت ابن ماجہ، دارقطنی اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔ اور طبرانی نے اس کی روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کی ہے۔ اور حاکم نے اس کی روایت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مستدرک میں اسی طرح کی ہے۔ اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ہبہ کو لوٹانے والا کتے کی طرح ہے کہ جو اپنی قے کو خود چاٹ لیتا ہے۔ ہمارے لئے بری مثال کی نقل کرنا درست نہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2622 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2387 (unverified) 75% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

(1) The statement: A man has the right, etc.—If someone gives a gift to a non-relative, according to us, they may revoke it after acceptance. Before acceptance, the gift is not complete without a preventing factor, though revoking is disliked, either prohibitively or preferably. Shafi’i said there is no revocation, and this narration supports us. As stated in Al-Hidayah and Ad-Durr Al-Mukhtar.

Note 1

قوله

(۱)قوله: الرجل أحق إلخ إذا وهب هبة لأجنبي، فعندنا له الرجوع فيها بعد القبض. أما قبله فلم تتم الهبة مع انتفاء مانعه، وإن كره الرجوع تحريمها، وقيل: تنزيها، «النهاية». وقال الشافعي : لا روجوع فيها، وهذا الحديث يؤيدنا، أخذته من الهداية» و«الدر المختار».

Note 1

اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شروط کے مطابق صحیح ہے اگرچہ کہ ان دونوں حضرات نے اس کی تخریج نہیں کی ہے اور علامہ عبدالحق نے الاحکام میں کہا ہے کہ حضرت ابن عمر کی حدیث صحیح اور مرفوع ہے اور اس کی راوی ثقہ ہیں اور ابن حزم نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

Note 2

ف: واضح ہو کہ اگر کوئی شخص کسی اجنبی کو کوئی چیز بطور ہبہ دیدے تو احناف کے پاس قبضہ کے بعد بھی رجوع درست ہے اگرچہ رجوع مکروہ تحریمی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ رجوع مکروہ تنزیہی ہے جیسا کہ نہایہ میں مذکور ہے۔