Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3139a

Chapter: Gifts

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Gifts

Zujajat al-Masabih 3139aVolume 2

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The wife of Bashir said, “Give my son your slave and have the Messenger of Allah (ﷺ) witness it.” Bashir came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said, “The daughter of so-and-so asked me to give her son my slave and said, ‘Have the Messenger of Allah witness it.’” He said, “Does he have siblings?” He said, “Yes.” He said, “Did you give each of them the same as you gave him?” He said, “No.” He said, “This is not appropriate, and I only witness what is just.” [Narrated by Muslim] In another narration by Muslim: “Have someone else witness this.”

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۳۹ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه)، قَالَ: قَالَتْ امْرَأَةُ بَشِيرٍ الْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ، وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللهِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي، وَقَالَتْ: أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللهِ ، فَقَالَ: «أَلَهُ إِخْوَةٌ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟ قَالَ: لَا ، قَالَ: «فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا ، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٌّ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «فَأَشْهِدْ1 عَلَى هَذَا غَيْرِي».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4126Noor 4127
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کی بیوی (عمرۃ بنت رواحہ) نے (اپنے شوہر سے) کہا کہ آپ میرے بیٹے کو اپنا غلام (بطور عطیہ) دیدیں اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے لئے گواہ بھی بنائیے (یہ سن کر) بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا فلاں کی بیٹی (یعنی عمرۃ بنت رواحہ میری بیوی) نے مجھ سے درخواست کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام بطور عطیہ دے دی اور یہ بھی کہا ہے کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس لڑکے کے اور بھائیاں ہیں تو بشیر بن سعد نے جواب دیا ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کیا تم نے اس لڑکے کی طرح سب کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے تو انہوں نے جواب دیا نہیں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ بات مناسب نہیں اور میں حق پر ہی گواہ ہوتا ہوں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ تم میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1624 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I do not witness injustice,

(1) The statement: Have someone else witness this—An-Nawawi said: It indicates that one should equalize among children in gifts. If some are favored or given to some and not others, Shafi’i, Malik, and Abu Hanifah said it is disliked but not prohibited, and the gift is valid. Tawus, Urwah, Mujahid, Ath-Thawri, Ahmad, Ishaq, and Dawud said it is prohibited. They cited the narration, “I do not witness injustice,” and other wordings of the narration. Shafi’i and his supporters cited, Have someone else witness this, saying: If it were prohibited or invalid, he would not have said this.

Note 1

قوله

(۱)قوله: فأشهد على هذا غيري وقال النووي: وفيه أنه ينبغي أن يسوي بين أولاده في الهبة، فلو فضل بعضهم أو وهب لبعضهم دون بعض، فمذهب الشافعي ومالك وأبي حنيفة أنه مكروه، وليس بحرام، والهبة صحيحة. وقال طاوس وعروة ومجاهد والثوري وأحمد وإسحاق وداود: هو حرام. واحتجوابرواية لا أشهد على جور وبغيرها من ألفاظ الحديث. واحتج الشافعي وموافقوه بقوله : فأشهد على هذا غيري ، قالوا : ولو كان حراما أو باطلا لما قال هذا الكلام.

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ عطیہ اور ہبہ میں اپنی اولاد میں یکسانیت قائم رکھنا چاہئے اور کسی کو کسی پر ترجیح دیں تو یہ مکروہ ہے حرام نہیں ہے اور ہبہ درست ہوگا ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہ نہ فرماتے کہ کسی دوسرے کو اس معاملہ میں تم گواہ بنالو۔ شرح مسلم۔