العربية
Typed, pending editorial approval
٣١٤١ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه)عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَانَ كَلَابِسِ تَوْبَيْ زُورٍ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2034 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4813 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ”وَمَنْ تَحَلّٰى بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ“ (جو شخص کسی چیز کے نہ ملنے پر یہ ظاہر کرے کہ وہ چیز مل گئی تو وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن لیے) اس سے مراد وہ شخص ہے جو زاہدین اور صالحین کا لباس پہنے اور حقیقت میں ایسا نہ ہو۔ عرب میں شرفاء کا لباس یہ ہوتا کہ وہ دو کپڑے پہنتے تھے اور لوگ ان کی باتوں پر اعتماد کرتے اور معاشرہ میں وہ باوقار اور قابل احترام سمجھے جاتے تھے۔ بعض جھوٹے لوگ لباس میں شرفاء کی نقل کرتے اور خود کو قابل احترام ظاہر کرنے کے لئے اپنی آستین میں ایک زائد آستین جوڑ دیتے تاکہ یہ معلوم ہو کہ انہوں نے دو کپڑے پہنے ہیں اور ان کا بھی شمار شرفاء میں ہے اس طرح لوگ ان کی باتوں اور جھوٹی گواہی پر اعتماد کرتے۔ حدیث شریف میں ایسی ریاکاری اور دکھاوے کی مذمت کی ہے اور اس سے روکا گیا ہے۔ (لمعات اور مرقات)۔