اردو
خزیمہ بن جزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بجّو (کے گوشت) کو کھانے کے بارے میں دریافت کیا حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے (حیرت سے ان سے) پوچھا کہ بجّو (کی طرح کوچلی والے جانور) کو کوئی کھائے
گا؟ پھر میں نے بھیڑئے (کے گوشت) کو کھانے کے بارے میں دریافت کیا تو حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے (تعجب سے پھر ویسا ہی) فرمایا کیا ایسا شخص جس میں بھلائی ہو (یعنی حلال و حرام سے
واقف ہو) بھیڑئے کو کھا سکتا ہے؟ - اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور ابن ماجہ کی روایت میں اس طرح ہے کہ بھیڑئے کو کون کھائے گا۔
اور مسلم میں اس طرح ہے کہ بجّو کوچلی والا درندہ ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس درندہ کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے جس کے دانت کوچلی والے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1791 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) This indicates the prohibition of eating hyena meat, as held by Abu Hanifah and Malik, contrary to Shafi'i and Ahmad. The Prophet's (ﷺ) disapproval is evident in his rhetorical question. (Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: أو يأكل الضبع أحد: دل على حرمة أكله، كما قال أبو حنيفة ومالك، خلافًا للشافعي وأحمد. كذا في «المرقاة».
Note 1
اور (بجّو کے حرام ہونے کی) ایک دلیل زیلعی کی وہ روایت بھی ہے جس کو انھوں نے مسند امام احمد سے بیان کیا ہے اور اس حدیث کی سند قوی ہے اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایک شیخ نے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کے سامنے بجّو کی حرمت کا فتوی دیا تو حضرت سعید بن المسیب نے اس پر انکار نہیں فرمایا۔