Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے) · Chapter 12

(اس باب میں محرم کو شکار کرنے کی ممانعت کا بیان ہے)

9 narrations · In source reading order

Hadith 3145

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3731Noor 3732Noor 3733
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (حدیبیہ کے سال) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عمرہ کے لئے نکلے (راستہ میں قافلہ سے) اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ پیچھے رہ گئے جب ان کے ساتھی احرام باندھے ہوئے تھے اور یہ احرام میں نہ تھے، ان کے رفقاء نے (راستہ میں ایک گورخر دیکھا جب کہ ابو قتادہ کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی (چوں کہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے اس لئے) اس کو دیکھنے کے باوجود (اس کا شکار نہیں کیا اور) اس کو چھوڑ دیئے لیکن ابو قتادہؓ نے جب اس گورخر کو دیکھا تو (چونکہ وہ احرام میں نہ تھے اس لئے) اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور (شکار کے لئے) اپنے ساتھیوں سے اپنا چابک مانگا (چوں کہ یہ لوگ احرام میں تھے اور محرم کو شکار کرنے میں مدد نہ کرنی چاہئے اس لئے انھوں نے) چابک دینے سے انکار کردیا۔ ابو قتادہؓ خود (گھوڑے سے اترے اور) اپنا چابک لیا اور گورخر پر حملہ کیا اور اس کا شکار کرلیا اور (شکار کے گوشت کو) خود بھی کھائے اور ان کے (محرم) ساتھیوں نے بھی کھایا، پھر (اس خیال سے کہ شاید محرم کو شکار کا گوشت بھی نہیں کھانا چاہئے) پشیمان ہوئے۔ جب یہ سب حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچے تو حضور سے یہ مسئلہ دریافت کیا (کہ کیا محرم دوسرے کے شکار کا گوشت کھا سکتا ہے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دینے کی بجائے جواز بتانے کے لئے) یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس اس گوشت میں سے کچھ باقی ہے؟ تو انھوں نے عرض کیا کہ حضور اس کی ران باقی ہے! تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لیا اور اسے تناول فرمایا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور بخاری اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ جب یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے (وہ مسئلہ دریافت کیا) تو حضور نے استفسار فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ سے کہا تھا کہ وہ گورخر پر حملہ کریں۔ یا پھر کسی نے انھیں اشارہ سے شکار کو دکھایا تھا؟ تو انھوں نے عرض کیا کہ ہم میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا تو (ایسی صورت میں تم احرام کے باوجود بھی) اس کے باقی ماندہ گوشت کو کھالو۔ اور مسلم اور نسائی کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ (حضور نے ان لوگوں سے دریافت فرمایا) کیا تم نے شکار کی طرف اشارہ کیا تھا یا شکار کرنے میں ان کی مدد کی تھی تو ان لوگوں نے جواب دیا نہیں! تو آپ نے ارشاد فرمایا تم (شکار کے) گوشت کو کھالو!۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2854 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1196a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (10)

Note 1

while he was not in ihram

(1) The phrase "while he was not in ihram" indicates Abu Qatadah had not entered ihram either because he had not yet crossed the miqat or did not intend Umrah. This resolves the confusion some scholars had about how he could proceed beyond the miqat without being in ihram. Some narrations suggest he was sent by the Prophet (ﷺ) for another purpose, which permitted his delay in entering ihram.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله : وحرم عليكم صيد البر ما دمتم حرما وينبغي أن يعلم أن حرمة صيد البر عام في قول عمر لها وابن عباس ما، ومخصوص عند غيرهما، فعند أبي حنيفة جاز للمحرم ما صاده الحلال وإن صاد لأجله ما لم يَدُلُّ أو لم يُشر، وكذلك ما ذبحه قبل إحرامه، وهو قول أبي هريرة وعطاء ومجاهد وسعيد بن جبير الهما، وعند مالك والشافعي وأحمد لا يباح له ما صيد لأجله. كذا في التفسيرات الأحمدية»، ويأتي تمامه في هذا الباب.

Note 1

قوله

(۱) قوله : وهو غير محرم: وفي بذل المجهود : ولم يحرم هو ؛ لأنه إما لم يجاوز الميقات، وإما لم يقصد العمرة، وبهذا يرتفع الإشكال الذي ذكره أبو بكر الأثرم، قال: كنت أسمع أصحابنا يتعجبون من هذا الحديث، فيقولون: كيف جازلأبي قتادة أن يجاوز الميقات، وهو غير محرم، ولا يدرون ما وجهه؟ قال: حتى وجدته في رواية من حديث أبي سعيد فيها: وكان النبي الله يعثه في وجه الحديث قال: فإذا أبو قتادة، إنما جاز له ذلك؛ لأنه لميخرج يريد مكة، وهذه الراوية تتضمن أن أبا قتادة لم يخرج مع النبي ﷺ من المدينة، وليس كذلك، ثم وجدت في صحيح ابن حبان والبزار قال: بعث رسول الله ﷺ أبا قتادة على الصدقة، وخرج رسول الله ﷺ وأصحابه وهم محرمون حتى نزلوا بعسفان، فهذا سبب آخر، ويحتمل جميعهما، والذي يظهر أن أبا قتادة إنما أخر الإحرام؛ لأنه لم يتحقق أنه يدخل مكة فساغ له التأخير، وقيل: كانت هذه القصة قبل أن يوقت النبي ﷺ المواقيت.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فأخذها: أما حديث صعب بن جثامة فرده له حمار وحش؛ لأنه كان حيا، كما أشار إليه البخاري بعقد الباب إذا أهدي للمحرم حمارا وحشيا حيا لم يقبل، ويحتمل أنه الله علم أنه أعان في قتله محرم آخر من الإشارة والدلالة، وروى يحيى بن سعيد عن جعفر عن عمرو بن أمية الضمري عن أبيه عن الصعب أهدي للنبي ﷺ عجز حمار وحشي، وهو بالجحفة، فأكل منه وأكل القوم، قال البيهقي: وهذا إسناد صحيح، فإن كان فكأنه ردّ الحي وقبل اللحم. كذا في بذل المجهود».

Note 3

قوله

(٣) قوله : فأكلها وقال الطحاوي : قد علمنا أن أبا قتادة لم يصده في وقت ما صاده إرادة منه أن يكون له خاصة، وإنما أراد أن يكون له، ولأصحابه الذين كانوا معه.

Note 4

قوله

(٤)قوله : أمنكم أحد أمره إلخ : وقال في فتح القدير وليس فيه هل دللتم، بل قال : أمنكم أحد أمره أن يحمل عليها أو أشار إليها؟ قالوا : لا ، قال : فكلوا ما بقي من لحمها. وجه الاستدلال به على الدلالة أنه علق الحل على عدم الإشارة، وهي تحصيل الدلالة بغير اللسان، فأحرى أن لا يحل إذا دله باللفظ، فقال: هناك صيد ونحوه.

Note 5

قوله

(٥) قوله : في روايه إلخ كذا في «البناية» و«فتح القدير».

Note 6

قوله

(٦) قوله: هل أشرتم هل أعنتم إلخ : فدل ذلك أنه إنما يحرم عليهم إذا فعلوا شيئًا من هذا، ولا يحرم عليهم بما سوى ذلك، في ذلك دليل أن معنى قول رسول الله الله في حديث عمرو مولى المطلب أو يصاد لكم أنه على ما صيد لهم بأمرهم. قاله الطحاوي. وقال في العرف الشذي»: أو يحمل على الكراهة، ويقال: إن النهي لسد الذرائع، مسألة سد الذرائع من أهم مسائل أصول الفقه، وسد الذرائع أن لا يكون الشيء منهيا عنه في الشريعة إلا أن المكلف ينهى عنه؛ كيلا يكون مؤديا إلى ما هو منهي عنه.

Note 7

قوله

(٧) قوله : فكلوا: اعلم أن صيد الحرم ودلالته عليه وإشارته إليه وإعانة فيه حرام، وإذا فعل شيئًا من ذلك لزمه الجزاء، وأما أكل لحمه ففيه تفصيل، إن اصطاد بنفسه أو اصطاد محرم غيره فهو حرام بالاتفاق، وإن اصطاده غير محرم لنفسه أو للمحرم بإذنه ففيه مذاهب، فذهب بعض الصحابة والتابعين إلى أنه يحرم على المحرم أكل لحم الصيد مطلقا، بدليل حديث صعب ابن جثامة، وذهب مالك والشافعي وأحمد إلى أن المحرم إن اصطاد بنفسه أو اصطاده الغير لأجله بإذنه أو بغير إذنه فهو حرام، وإن اصطاد غير محرم لنفسه وأهدى منه شيئًا للمحرم فهو حلال. ومذهب الإمام أبي حنيفة وأصحابه حل أكل لحم الصيد ما لم يصد، ولم يأمر به ولم يدلَّ، ولم يعن عليه هو أو محرم آخر وإن صيد له، ويظهر هذا المعنى من هذا الحديث؛ لأنه سألهم: «هل منكم أحد أمره؟» أن يحمل عليه الحديث، ولم يسأل: هل اصطاد لنفسه أو لكم؟. كذا في «اللمعات».

Note 1

ف: واضح ہو کہ محرم کا شکار کرنا یا شکار کروانا یا شکار کو کھانا یا شکار کرنے میں مدد کرنا یہ سب حرام ہے اور اگر ان مذکورہ چیزوں میں سے اس نے کوئی ایک کام بھی کیا تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔ البتہ اس شکار کے گوشت کے کھانے کے بارے میں تفصیلات ہیں: (1) اگر محرم اپنے لئے کوئی شکار کرے یا کوئی اور محرم اپنے لئے یا کسی اور کے لئے شکار کرے تو ایسے شکار کا گوشت سب کے لئے حرام ہے۔ (2) اگر غیر محرم نے شکار کیا اور محرم کو بطور ہدیہ اس کا گوشت دیا ہو تو محرم ایسا گوشت کھا سکتا ہے۔ (3) محرم ایسے شکار کا گوشت بھی کھا سکتا ہے جس کا شکار کسی غیر محرم نے اس کے لئے کیا ہو مگر شرط یہ ہے کہ اس نے شکار کرنے میں کسی قسم کی اعانت نہ کی ہو۔ نہ اشارہ کیا ہو، اور نہ شکار کا حکم دیا ہو۔ (ماخوذ از: لمعات۔12)

Hadith 3146

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3734
عبدالرحمن بن عثمان تیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وہ حالت احرام میں تھے۔ آپ کے لئے پرندہ کا (پکا ہوا) گوشت (غیر محرم کی طرف سے) بطور ہدیہ آیا۔ اس وقت حضرت طلحہؓ آرام فرما رہے تھے تو ہم میں سے بعض نے وہ گوشت کھا لیا اور بعض رکے رہے۔ جب حضرت طلحہؓ بیدار ہوئے تو آپ نے گوشت کھانے والوں کی تائید کی اور یہ بھی فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں) ایسا ہی گوشت کھایا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1197 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱)قوله : فأكلناه . مع رسول الله ﷺ : وقال في رواية وسعيد بن جبير وأبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد وأحمد في رواية الله الصيد الذي اصطاده الحلال لا يحرم على المحرم، واحتجوا في ذلك بهذا الحديث كذا في عمدة القاري.

Note 1

ف: عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ حضرات عطاء، سعید بن جبیر اور امام احمد رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ ایسا شکار جس کو غیر محرم نے کیا ہو، محرم کے لئے حلال ہے اور یہی مذہب حنفی بھی ہے۔12

Hadith 3147

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3735
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ پانچ ایسے جانور ہیں جن کو حدود حرم میں حالت احرام میں مار ڈالنا گناہ نہیں۔ (وہ یہ ہیں)(1) چوہا (2) کوا (3) چیل (4) بچھو (5) کاٹ کھانے والا کتا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1199a (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1827 (unverified) 86% confidence · Validation similarity: 0.527

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3148

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3736
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتی ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ پانچ ایسے موذی جانور ہیں کہ جن کو (ہر حالت میں) ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ خواہ حدود حرم میں ہوں یا حرم سے باہر ہوں (خواہ مارنے والا احرام کی حالت میں ہو یا بغیر احرام کے ہو) وہ جانور یہ ہیں۔ (1) سانپ (2) چتکبرا کوا (3) چوہا (4) کاٹ کھانے والا کتا اور (5) چیل۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1829 (unverified) 92% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1198a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱)قوله: الغراب الأبقع والغراب عندنا المراد به الأبقع لصراحته في هذا الحديث، والغراب في كتبنا أنه على ثلاثة أقسام، أحدها: الذي يأكل الحبوب فقط، وهو حلال اتفاقا. والثاني: الذى يأكل الجيف فقط، وهو حرام اتفاقا. والثالث: هو الذي يخلط بين أكلهما، وهو مكروه عند أبي يوسف وحلال عندهما . كذا في العرف الشذي».

Note 1

ف: واضح ہو کہ خشکی کے شکار کی دو قسمیں ہیں: (1) ایسے جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ (2) ایسے جانور جن کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔ تو ایسے جانور جن کا گوشت حلال ہے محرم کو ان کا شکار کرنا جائز نہیں ہے جیسے ہرن، خرگوش اور ایسے پرندے بھی جن کا گوشت حلال ہے ان کا شکار بھی جائز نہیں۔ خواہ وہ خشکی پر رہنے والے ہوں یا سمندر پر، اس لئے تمام پرندوں کا شمار خشکی کے جانوروں میں ہوتا ہے اس لئے کہ ان کی پیدائش خشکی پر ہوتی ہے اور وہ صرف غذا کے لئے ضرورۃً سمندر میں جاتے ہیں۔ (1) ایسے جانور جو طبعاً موذی ہوں جیسے بھیڑیا، شیر وغیرہ تو محرم ان جانوروں کو ہر حالات میں، ہر مقام پر ہلاک کر سکتا ہے، اس لئے کہ بغیر کسی سبب کے اذیٰ کا دفع کرنا واجب ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ حدیثوں میں ایسے موذی جانور کو ہلاک کرنے کی اجازت دی ہے۔ (2) موذی جانوروں کی ایک قسم وہ ہے جو طبعاً موذی نہیں ہوتے بلکہ انسان کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں جیسے لومڑی، چوہا وغیرہ تو آیت شریفہ ” لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ“، میں ایسے ہی جانوروں کا شکار ممنوع ہے۔ بدائع، بذل المجہود۔12

Hadith 3149

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3737
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر عرض کئے امیر المؤمنین! میں نے احرام کی حالت میں اپنے کوڑے سے ٹڈوں کا شکار کیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ (بطور فدیہ) ایک مٹھی اناج کسی کو خیرات کر دو۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2707 (unverified) 35% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 791 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2707

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أطعم قبضة من طعام قال في الهداية»: ومن قتل جرادة تصدق بما شاء، ولأن الجراد من صيد البر؛ فإن الصيد ما لا يمكن أخذه إلا بحيلة ويقصده الآخذ، انتهى. وهو قول عمر وابن عباس وعطاء بن أبي رباح، وبه قال أبو حنيفة، وأما حديث أبي المهزم : إنما هو أي الجراد من صيد البحر، فضعيف ووهم لشدة ضعف أبي المهزم، وأما حديث ميمون بن جابان عن أبي رافع عن كعب فإنه قوله ليس بمرفوع، ثم إنه مخالف للروايات الصحيحة في أنه أوجب فيه درهما واحدا، وأما حديث ميمون بن جابان عن أبي رافع عن أبي هريرة فاختلف في رفعه ووقفه، وليس بمخالف لما حكم فيه عمر بن الخطاب الله بمحضر من الصحابة، فإنه يحتمل أن يقال: الجراد في حكم صيد البحر من حيث إنه يحل بلا ذكاة. قاله في بذل المجهود».

Hadith 3150

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3738
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے کہ احرام کی حالت میں اگر کوئی شخص ایک ٹڈے کو مار دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت عمر نے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے فرمایا آؤ تا کہ ہم اس مسئلہ پر حکم لگائیں تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا (ایک ٹڈے کو مارنے کا صدقہ) ایک درہم ہوگا۔ (یہ سن کر) حضرت عمر نے کعبؓ سے فرمایا تم کو درہم ہر وقت کہاں سے ملیں گے (حقیقت تو یہ ہے کہ) ایک کھجور ایک ٹڈے مارنے کے معاوضہ میں کافی ہے (یعنی ٹڈا اتنی حیثیت کا نہیں کہ احرام کی حالت میں مارنے پر درہم خیرات کیا جائے بلکہ ایک کھجور ایک ٹڈے کے معاوضہ میں بہت کافی ہے)۔ اس کی روایت امام مالک اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 936 (unverified) 30% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2707 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2707

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ احرام کی حالت میں جو کوئی ٹڈے کو مارے تو جو چاہے خیرات کر دے، اس لئے کہ اس کا شکار دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے اس لئے شکار کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر ضروری ہے اور ٹڈے کو مارنا یا پکڑنا بغیر کسی تدبیر کے ممکن ہے، اس لئے ٹڈے کا مارنا عام شکار کی تعریف میں داخل نہیں ہے اس لئے احرام کی حالت میں ٹڈے کو مارنے سے کچھ خیرات کر دینا کافی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر حضرت ابن عباس اور حضرت عطاء بن ابی رباح کا یہی قول ہے اور امام اعظم رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔12

Hadith 3151

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3739
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ محرم (حالت احرام میں) حملہ کرنے والے درندوں (جیسے شیر، بھیڑیا، ریچھ وغیرہ) کو ہلاک کر سکتا ہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 838 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3089 (unverified) 82% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱) قوله : يقتل المحرم إلخ قال في الدر المختار»: ولا شيء بقتل سبع أي حيوان صائل لا يمكن دفعه إلا بالقتل، فلو أمكن بغيره فقتله لزمه الجزاء.

Note 1

ف: درمختار میں لکھا ہے کہ محرم ایسے درندے کو ہلاک کر سکتا ہے جو حملہ آور ہوا اور جس کو ہلاک کئے بغیر دفع کرنا ممکن نہ ہو۔ اور ایسی صورت میں اس پر کوئی فدیہ واجب نہیں، البتہ ایسے حملہ آور درندہ کو محرم قتل کئے بغیر دفع کر سکتا تھا اور اس نے اس کو قتل کر دیا تو ایسی صورت میں اس پر فدیہ واجب ہوگا۔ اھ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے احرام کی حالت میں ایک دفعہ کسی درندہ کو ہلاک کر دیا، اور اس کے فدیہ میں ایک مینڈھا ذبح کیا۔ جیسا کہ کوکب دری میں مذکور ہے۔12

Hadith 3152

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3740
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (احرام کی حالت میں) بجّو کے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا وہ بھی شکار ہے (بلا ضرورت اس کو مارا جائے تو اس کے فدیہ میں) محرم کو ایک بکرا ذبح کرنا چاہئے۔ اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3801 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3085 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱) قوله : هو صيد وهو حلال عند الشافعي وأحمد، وكرهه مالك، والمكروه عنده ما يأثم أكله، ولا يقطع بتحريمه وقال أبو حنيفة وأصحابه هو حرام، وبه قال سعيد بن المسيب والثوري محتجين بأنه ذو ناب من السباع، وقد نهى رسول الله ﷺ عن أكل ذي ناب من السباع، كذا ذكر العلامة القاري في شرح الموطأ»، وقد ورد النهي عن أكله في روايات عديدة أخرجها الترمذي وابن أبي شيبة وأحمد وإسحاق وأبو يعلى وغيرهم، كما بسطه شيخ الإسلام العيني في البناية مع الجواب عما استدل به المخالفون، وقال في العرف الشذي: ويتمسك الشافعي بحديث ابن أبي عمار، وبهذا الحديث بلفظ الصيد، والصيد يطلق على ما يؤكل لحمه، ولا نسلم هذا فإنه يطلق الصيد على صيد الأسد أيضًا، ولنا استشهاد من الشعر صيد الملوك ثعالب وأرانب ..... وإذا ركبت فصيدي الابطال فليس هذه الأحاديث حجة علينا إذ لا تنافي بين كونه حراما أكله وبين كونه صيدا ويلزم اللكبيش في قتله ولأن للضيع نابا يقاتل به لا يؤكل لمه كالذئب فيكون حديث كل ذي ناب حجة على الشافعي في إباحته فإن قيل: يعارضه حدیث جابر الله أنه سئل عن الضبع أصيد هو فقال: نعم، فقيل : أيؤكل لحمه فقال: نعم فقيل أشيء سمعته من رسول فقال: نعم فلا يكون حجة أجيب بأن حديثنا مشهور لا يعارضه حديث جابر أن صح وقد قيل: إنه كان في الابتداء ثم نسخ بقوله تعالى: ويحرم عليهم الخبائث. أو ما روي مما يدل على إباحته فمحمول، على ما قبل تحريمه؛ فإن والأصل متى تعارض نصان غلب المحرم على المبيح، وقيل حديث جابر انفرد به عبد الرحمن بن أبي عمار، وليس بمشهور بنقل العلم، ولا هو حجة إذا انفرد، فكيف إذا خالف من هو أثبت منه العناية» و«رد المحتار» «عمدة القاري الملتقط منها.

Hadith 3153

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3741Noor 3742Noor 3743
خزیمہ بن جزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بجّو (کے گوشت) کو کھانے کے بارے میں دریافت کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حیرت سے ان سے) پوچھا کہ بجّو (کی طرح کوچلی والے جانور) کو کوئی کھائے گا؟ پھر میں نے بھیڑئے (کے گوشت) کو کھانے کے بارے میں دریافت کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تعجب سے پھر ویسا ہی) فرمایا کیا ایسا شخص جس میں بھلائی ہو (یعنی حلال و حرام سے واقف ہو) بھیڑئے کو کھا سکتا ہے؟ - اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور ابن ماجہ کی روایت میں اس طرح ہے کہ بھیڑئے کو کون کھائے گا۔ اور مسلم میں اس طرح ہے کہ بجّو کوچلی والا درندہ ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس درندہ کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے جس کے دانت کوچلی والے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1791 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) This indicates the prohibition of eating hyena meat, as held by Abu Hanifah and Malik, contrary to Shafi'i and Ahmad. The Prophet's (ﷺ) disapproval is evident in his rhetorical question. (Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أو يأكل الضبع أحد: دل على حرمة أكله، كما قال أبو حنيفة ومالك، خلافًا للشافعي وأحمد. كذا في «المرقاة».

Note 1

اور (بجّو کے حرام ہونے کی) ایک دلیل زیلعی کی وہ روایت بھی ہے جس کو انھوں نے مسند امام احمد سے بیان کیا ہے اور اس حدیث کی سند قوی ہے اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایک شیخ نے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کے سامنے بجّو کی حرمت کا فتوی دیا تو حضرت سعید بن المسیب نے اس پر انکار نہیں فرمایا۔