English
Ibn Abbas and Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported that the Prophet (ﷺ) said, "Whoever stands at Arafah at night has caught Hajj. Whoever misses Arafah at night has missed Hajj and should exit ihram with Umrah, then perform Hajj the following year."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣١٥٨ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ بِلَيْلٍ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ فَاتَهُ عَرَفَاتٌ بِلَيْلٍ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ، فَلْيُحِلَّ1 بِعُمْرَةٍ، وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلِ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ فِي سُنَنِهِ وَابْنُ عَدِيٍّ فِي «الْكَامِلِ».
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُحَمَّدٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الَّذِي يَفُوْتُهُ حَجٌّ قَالَ: يَحِلُّ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ2 هَدْيًا، ثُمَّ قَالَ: سَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ حَارِثٍ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ.
اردو
ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص عرفات میں (کم از کم) رات میں (تھوڑی دیر کے لئے بھی) ٹھہر
جائے تو اس کو حج مل گیا (اگرچہ وقوف عرفہ کا وقت نویں ذوالحجہ کے زوال سے لے کر دسویں
ذوالحجہ کی فجر سے پہلے تک ہے) اور جس کسی کو رات میں بھی وقوف عرفات کا موقع نہ ملے تو اس
کا حج فوت ہو گیا، تو اس کو چاہئے کہ (حج کے بقیہ مناسک چھوڑ دے (اور صرف) عمرہ کے
افعال ادا کر کے (یعنی طواف اور سعی بین الصفا والمروۃ کے بعد سر مونڈھوا کر) احرام کھول دے
اور (اس فوت شدہ حج کی) آئندہ سال قضاء کر لے۔ (اور اس پر محصر کی طرح قربانی ادا کرنا
واجب نہیں ہے)۔
اس کو دار قطنی نے اپنی سنن میں اور ابن عدی نے الکامل میں روایت کیا ہے۔
اور امام محمد رحمہ اللہ کی ایک روایت میں اسود بن یزید رحمہ اللہ سے اس
طرح مروی ہے، اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ
عنہ سے دریافت کیا کہ جس شخص کا حج فوت ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا وہ عمرہ ادا
کر کے احرام کھول دے اور اس پر آئندہ سال (فوت شدہ) حج کی قضاء واجب ہوگی۔ اور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کا ذکر نہیں فرمایا (یعنی حج کے فوت ہونے کی صورت میں محرم
پر قربانی دینا واجب نہیں۔ جیسا کہ احصار کی صورت میں قربانی دینا واجب ہے) اسود بن یزید
کہتے ہیں کہ میں نے یہی مسئلہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو حضرت زید
بن ثابت نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح جواب دیا۔ (چنانچہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ جو حج
کا احرام باندھے اور اس سے وقوف عرفہ فوت ہو جائے تو اس کا حج فوت ہو گیا، تو اس کو چاہئے
کہ طواف کرے، سعی کرے اور احرام کھول دے آئندہ سال فوت شدہ حج کی قضاء کرے اور
اس پر قربانی دینا واجب نہیں ہے اور یہی مذہب حنفی ہے)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱) قوله: فليحل بعمرة بعمرة إلخ : ولم يذكر النبي الهدي، ولو كان واجبا لذكره، وقال مالك والشافعي: عليه هدي؛ لما في الموطأ» عن سليمان بن يسار: أن ابن الأسود جاء يوم النحر وعمر بن الخطاب ينحر هديه، فقال: يا أمير المؤمنين! أخطأنا العدة كنا نرى أن هذا اليوم يوم عرفة، فقال عمر : اذهب إلى مكة فطف أنت ومن معك، وانحروا هديا إن كان معكم، ثم احلقوا وقصروا، وارجعوا إن شئتم، فإن جاء عام قابل - اي قضاء - فحجوا وأهدوا قياسا على المحصر - فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام في الحج وسبعة إذا رجعتم. وقال محمد وبهذا نأخذ وهو قول أبي حنيفة والعامة من فقهائنا إلا خصلة واحدة ل هدي عليهم في قابل ولا صوم، ولنا حديث الدارقطني ومحمد، وما استدل الشافعي محمول عندنا على الاستحباب، «شرح النقاية» و«موطأ محمد» ملتقط منها.
Note 2
(۲) قوله: ولم يذكر هديا: قال محمد وبهذا نأخذ، وكيف يكون عليه هدي، فإن لم يجد فالصيام، وهو لم يتمتع في أشهر الحج، ولذلك قال في «الهداية»: ومن أحرم بالحج وفاته الوقوف بعرفة حتى طلع الفجر من يوم النحر فقد فاته الحج، وعليه أن يطوف ويسعى ويتحلل ويقضي بحج من قابل، ولا دم عليه، انتهى. وقال في «التعليق الممجد»: ليس الهدي بواجب عليهم، وأما الاستحباب فلا ينكر، وعليه يحمل ما ورد بأمره.