Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3162

(اس باب میں حرم مکہ کی حرمت اور فضیلت کا بیان ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(اس باب میں حرم مکہ کی حرمت اور فضیلت کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 3162Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3756Noor 3757Noor 3758
معاذہ عدویہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ مجھے حرم میں کسی کی ایک گم شدہ چیز ملی ہے اور میں اس کا برابر اعلان کرتی رہی ہوں لیکن اب تک مجھے اس کا مالک نہیں ملا تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم اس کو استعمال کرلو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔ اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہاں (مکہ مکرمہ) کی گھاس نہ اکھاڑی جائے، تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ”اِذْخِرْ“ (جو ایک قسم کی گھاس ہے) کی اجازت عطا فرمائیے، چونکہ وہ سناروں کے پاس اور گھروں میں کام آتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے کاٹنے کی اجازت ہے۔ بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہاں ”مکہ مکرمہ“ کا درخت نہ کاٹا جائے۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

Except idhkhir

(1) The statement: "Except idhkhir"—This exception was either preempted by Al-Abbas or revealed to the Prophet (ﷺ) to permit it. This is mentioned in (Al-‘Inayah).

Note 1

قوله

(۱) قوله : فقال: إلا الإذخر وتأويله أنه كان من قصده أن يستثنى إلا أن العباس سبقه بذلك أو كان أوحى الله إليه أن يرخص فيما يستثنيه العباس. كذا في «العناية».