English
And from Talq ibn Ali: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man touching his private part after performing ablution. He said: "Is it not just a part of him?" [Narrated by Abu Dawood, Tirmidhi, Nasai, Ibn Hibban in his Sahih, and Muhammad in Al-Muwatta]
Tirmidhi said: "This is the best narration in this chapter." Al-Tahawi narrated similarly and said: "This narration has a straight chain of transmission, without any inconsistencies in its chain or content." Ibn Madini stated: "The narration of Mulazim ibn Amr is better than the narration of Busra." Amr ibn Ali Al-Fallas said: "The narration of Talq is more reliable than that of Busra bint Safwan." And the scholar Muhi al-Sunnah and others said: "The narration of Busra is abrogated, for Talq arrived in the early years of Hijrah, while the narration of Busra was narrated by Abu Huraira, who embraced Islam later."
Imam Ibn al-Humam said: "It is correct only if they can prove that Talq passed away before the Islam of Abu Huraira or returned to his land, and had no companionship with him after that. But they are not able to do so, since they also narrated a weak Hadith from him: 'Whoever touches his private part should perform ablution.' They claimed he heard both the abrogating and the abrogated narration, even though Abu Huraira's Hadith is also weak due to the inclusion of Yazid ibn Abd al-Malik in its chain."
Then the Hadith of Talq is preferred based on what has been mentioned from Ibn al-Madini and others, and because the Hadith of men is stronger; they are more reliable and accurate, which is why the testimony of two women is equivalent to the testimony of one man. Additionally, matters concerning the nullifiers of wudu' are things that both the private and public need to be aware of. It has been established from Ali, Ammar ibn Yasir, Abdullah ibn Masud, Ibn Abbas, Hudhayfah ibn al-Yaman, Imran ibn Husayn, Abu Darda, and Saad ibn Abi Waqqas that they do not see the act of touching the private part as a nullifier of wudu'. Therefore, its concealment from them, despite their need for it, and its appearance to a woman who does not need it, is highly unlikely. Furthermore, there is a contradiction with analogy, as it involves a break in reasoning.
العربية
Typed, pending editorial approval
۳۱۸ - وَعَنْ طَلْقٍ ابْنِ عَلِي (رضي الله عنه) قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنْ مَسَّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ، قَالَ: وَهَلْ هُوَ إِلَّا بُضْعَةٌ مِنْهُ؟». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ في صَحِيحِهِ وَمُحَمَّدُ فِي الْمُوَطَّأَ».
وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ أَحْسَنُ شَيْءٍ يُرْوَى فِي هَذَا الْبَابِ.
وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ مِثْلَهُ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ مُسْتَقِيمُ الْإِسْنَادِ، غَيْرُ مُضْطَرَبٍ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ. وَأَسْنَدَ إِلَى ابْنِ الْمَدِينِي أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثُ مُلَازِمِ بْنِ عَمْرٍو أَحْسَنُ مِنْ حَدِيْثِ بُسْرَةَ. وَعَنْ عَمْرِو بنِ عَلِيَّ الْفَلَّاسِ أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثُ طَلْقٍ عِنْدَنَا أَثْبَتُ مِنْ حَدِيْثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ. وَقَوْلُ مُحْيِي السُّنَّةِ وَغَيْرِهِ: حَدِيثُ بُسْرَة نَاسِخُ؛ لِأَنَّ طَلْقًا قَدِمَ فِي أَوَّلِ سِنِي الْهِجْرَةِ، وَمَتْنُ حَدِيْثِ بُسْرَةَ رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَهُوَ مُتَأَخِّرُ الْإِسْلَامِ.
قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ ابْنُ الْهُمَّامِ: إِنَّمَا يَصِحُ أَنْ لَوْ أَثْبَتُوْا أَنَّ طَلْقًا تُوُفِّيَ قَبْلَ إِسْلَامِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ رَجَعَ إِلَى أَرْضِهِ، وَلَمْ تَبْقَ لَهُ صُحْبَةٌ بَعْدَ ذَلِكَ، وَلَيْسُوْا بِقَادِرِينَ عَلَى ذَلِكَ، كَيْفَ! وَهُمْ قَدْ رَوَوْا عَنْهُ حَدِيثًا ضَعِيفًا: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ»، وَقَالُوا: سَمِعَ مِنْهُ عَلَيْهِ النَّاسِخَ وَالْمَنْسُوْنَ، عَلَى أَنَّ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ ضَعِيفٌ أَيْضًا؛ لِأَنَّ فِي سَنَدِهِ يَزِيدَ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ.
ثُمَّ حَدِيثُ طَلْقٍ الله مُرَجَّحٌ بِمَا تَقَدَّمَ عَنِ ابْنِ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرِهِ، وَبِأَنَّ حَدِيثَ الرِّجَالِ أَقْوَى؛ لِأَنَّهُمْ أَحْفَظُ وَأَضْبَطُ، وَلِذَا جُعِلَتْ شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجَلٍ، وَبِأَنَّ أَمْرَ النَّوَاقِضِ مِمَّا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْخَاصُّ وَالْعَامُ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ عَلِيَّ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُمْ لَا يَرَوْنَ النَّقْضَ مِنْهُ، فَخِفَاؤُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ مَعَ احْتِيَاجِهِمْ إِلَيْهِ وَظُهُورُهُ لِامْرَأَةٍ غَيْرِ مُحْتَاجَةٍ إِلَيْهِ فِي غَايَةِ الْبُعْدِ، مَعَ مَا فِيْهِ مِنْ مُخَالَفَةِ الْقِيَاسِ، فَفِيْهِ الانْقِطَاعُ الْبَاطِنُ مِنْ وُجُوهِ انْتَهَى مُلَخَّصًا، هَكَذَا فِي الْخَلْبِي».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 349
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
سے دریافت کیا گیا کہ آدمی وضوء کرلینے کے بعد اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگادے تو (کیا وضوء ٹوٹ جاتا
ہے؟) اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ بھی آدمی کے جسم کا ایک حصہ ہے (یعنی اس کو
ہاتھ لگ جانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا، جیسے اور عضو کو ہاتھ لگ جانے سے وضوء نہیں جاتا) (اس کی
روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور امام محمد نے اپنی موطا میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 182 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 85 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 165 (unverified) 88% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 319 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 319
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور ترمذی نے صراحت کی ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان تمام حدیثوں میں جو اس مسئلہ کے متعلق سے بیان کی گئی ہیں، ان سب میں زیادہ صحیح ہے۔ اور طحاوی کی روایت بھی اسی طرح ہے اور طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث کی سند نہایت مستقیم ہے، جس کے اسناد اور متن دونوں میں کسی قسم کا اضطراب نہیں ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے ابن مدینی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس کی سند میں ملازم بن عمرو ہیں، بسرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث (جس میں شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضو کا ٹوٹنا ثابت ہوتا ہے) سے زیادہ قوی ہے۔ امام محی السنۃ وغیرہ کا یہ قول ہے کہ بُسرہ کی حدیث منسوخ ہے اور انہوں نے منسوخ ہونے کی یہ وجہ بتلائی ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ ہجرت کے پہلے سال آئے ہیں اور حدیث بُسرہ کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں، جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا ہے اس وجہ سے طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث جو اسلام لانے میں پہلے ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو اسلام لانے میں بعد ہیں منسوخ قرار پاتی ہے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ناسخ ہوتی ہے۔ امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضو کا باقی رہنا ثابت ہوتا ہے، اس وقت منسوخ قرار پاتی جبکہ طلق رضی اللہ عنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے قبل وفات پاتے یا اس بات کا ثبوت مل جاتا کہ وہ اپنے وطن واپس گئے جس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا موقع ان کو پھر حاصل نہ ہوسکا اور طلق رضی اللہ عنہ کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام سے قبل وفات پا جانا یا وطن واپس ہو کر پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو نہ پانا، ان دونوں باتوں کو طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث کو منسوخ ماننے والے ثابت نہیں کر سکتے اور یہ کس طرح ثابت کر سکتے ہیں کہ خود انہوں نے طلق رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف حدیث ”مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ“ (جس نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تو وہ وضو کرلے) کی روایت کی ہے اور یہ قول بھی ان ہی کا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ناسخ و منسوخ کو سنا ہے تو ظاہر ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کا وفات پانا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا نہ ملنا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا۔ علاوہ بریں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف ہے اس لئے کہ ان کی سند میں یزید بن عبدالملک ہیں جو ضعیف ہیں اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس دلیل کی وجہ سے مرجح ہے جس کو ابن مدینی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے صدر میں نقل کیا گیا ہے اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے بھی مرجح ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ مرد ہیں اور بُسرہ رضی اللہ عنہا عورت ہیں، اور مردوں کی حدیث قوی تر ہوتی ہے کہ وہ زیادہ حافظ اور ضابط ہوتے ہیں، اسی وجہ سے دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے مساوی قرار دی گئی ہے، نیز ناقض وضو کا حکم خاص و عام سے متعلق ہے بُسرہ رضی اللہ عنہا پر وضو ٹوٹنے کا حکم تو ظاہر ہو جائے اور ان حضرات سے پوشیدہ رہے جن کا ذکر ذیل میں آتا ہے۔ چنانچہ حضرت علی، عمار بن یاسر، عبداللہ بن مسعود، ابن عباس، حذیفہ بن یمان، عمران بن حصین، ابوالدرداء اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نزدیک شرمگاہ کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا ان حضرات سے اس مسئلہ کا حکم باوجود یہ کہ اس کی ان کو زیادہ ضرورت ہے پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور صرف بُسرہ رضی اللہ عنہا پر ظاہر ہونا کہ جس حکم کی ان کو ضرورت نہیں قیاس کے خلاف ہے، پس حدیث بُسرہ رضی اللہ عنہا میں کئی وجوہ سے انقطاع باطن ہے، یہ تمام تفصیل محلی میں مذکور ہے۔