Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The prayer of a person who breaks his wudu (i.e., becomes impure) will not be accepted until he performs wudu."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز جس کو وضوء نہ ہو بغیر وضوء کے قبول نہیں ہوتی۔ (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said, "A prayer without purification is not accepted, and neither is charity from stolen goods."
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: بغیر طہارت اور وضوء کے نماز قبول نہیں کی جاتی اور مال حرام سے خیرات بھی قبول نہیں ہوتی۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Narrated by Mundhir Abu Ya'la al-Qauri from Muhammad ibn al-Hanafiyyah: I heard him narrate from his father that he said, "I used to experience wet dreams, so I instructed Al-Miqdad to ask the Prophet (ﷺ) about it, and I was too shy to ask him myself because his daughter was present with me. So Al-Miqdad asked him, and the Prophet (ﷺ) said, 'Whenever semen is discharged, a ghusl (ritual bath) is obligatory, and when pre-ejaculate (madhiy) is discharged, wudu (ablution) is required.'" 1
منذر ابو یعلیٰ ثوری رحمہ اللہ محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، منذر
کہتے ہیں: میں محمد بن الحنفیہ کو ان کے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ ان
کے والد یعنی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا: مجھے مذی کثرت سے آیا کرتی تھی تو میں نے مقداد رضی
اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کریں اور مجھے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے میں شرم محسوس ہوتی تھی کیوں کہ آپ کی صاحبزادی میرے
نکاح میں تھیں۔
And if it is pre-ejaculate, then wudu is required.
(1) The saying: "And if it is pre-ejaculate, then wudu is required." Al-Tahawi said: Some scholars are of the view that it is obligatory for a man to wash his private parts (the penis) when he experiences pre-ejaculate (madhiy) or after urination. However, others disagreed with them, stating that the Prophet (ﷺ) did not mandate washing the private parts in such cases, but rather to prevent the pre-ejaculate from flowing. Do you not see that when Ali (may Allah be pleased with him) narrated what the Prophet (ﷺ) prescribed for him in such situations, he mentioned performing wudu for prayer? Therefore, it is established that anything other than the wudu for prayer prescribed by the Prophet (ﷺ) was for a different reason and not for the same cause that requires wudu for prayer. This is the view of Abu Hanifa, Abu Yusuf, and Muhammad ibn al-Hasan (may Allah have mercy on them).
Note 1
قوله
(۱) قوله : وإذا كان المذي ففيه الوضوء: قال الطحاوي: ذهب قوم إلى أن غسل المذاكير واجب على الرجل إذا أَمْذَى وإذا بال. وخالفهم في ذلك آخرون، فقالوا: لم يكن ذلك من رسول الله ﷺ على إيجاب غسل المذاكير، ولكنه ليتقلص المذي فلا يخرج. أفلا ترى أن عَليًّا لما ذكر عن النبي ﷺ ما أوجبه عليه في ذلك ذكر وضوء الصلاة، فثبت بذلك أن ما كان سوى وضوء الصلاة مما أمر به فإنما كان ذلك لغير المعنى الذي وجب له وضوء الصلاة. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن (رحمهم الله).
Note 1
مذی اس رقیق پانی کو کہتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ مذاق کرنے یا ان کو شہوت کے ساتھ دیکھنے
سے نکلتا ہے۔
مقداد رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو ارشاد ہوا کہ ہر جوان مرد کو
مذی آتی ہے، اگر منی خارج ہو تو غسل واجب ہے اور اگر مذی نکلے تو اس پر صرف وضوء واجب ہے،
غسل واجب نہیں ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اور بخاری اور مسلم سے بھی اسی طرح
روایت کی ہے۔)
ف: مرد سے جب مذی نکلے تو اس پر وضوء ضروری ہے، اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ
علیہ نے اولاً ایک جماعت کے مسلک کو نقل کیا ہے جو حنفیوں کے خلاف ہے جن کا قول یہ ہے کہ مرد کو
جب مذی نکلے تو اس پر شرمگاہ کا دھونا واجب ہے، جس طرح پیشاب کرنے کے بعد شرمگاہ کا دھونا
ضروری ہے لیکن احناف نے ان کی مخالفت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ بعض حدیثوں سے مذی نکلنے پر شرمگاہ کا جو
دھونا معلوم ہوتا ہے اس سے شرمگاہ کے دھونے کا واجب کرنا مقصود نہیں بلکہ اس کی غرض مذی کی آمد کا بند کرنا
ہے، اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف وضوء
کرنے کا ذکر ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں، امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف
اور محمد بن الحسن رحمہم اللہ کا یہی ارشاد ہے۔
From Aisha bint Anas, she said: I heard Ali on the pulpit saying: "I was a man who experienced pre-ejaculate (madhiy), and I wanted to ask the Prophet (ﷺ), but I felt shy because his daughter was married to me. So, I instructed Ammar to ask him, and he replied: 'Wudu is sufficient for it.'"
عائش بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے علی
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ میں ایسا شخص تھا کہ مجھ سے مذی بکثرت خارج ہوا کرتی
تھی تو میں اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا چاہا مگر آپ کی صاحبزادی
میرے نکاح میں ہونے کی وجہ سے مجھے شرم محسوس ہوئی تو میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو دریافت کرنے کے
لئے کہا، عمار رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا:
اس کے لئے وضوء کافی ہے۔ (امام طحاوی نے اس کی روایت کی ہے۔)
From Ali (may Allah be pleased with him), he said: I asked the Prophet (ﷺ) about semen, and he said: "For pre-ejaculate (madhiy), wudu is required, and for semen (mani), ghusl is required."
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
مذی کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: مذی کے نکلنے سے وضوء لازم آتا ہے اور منی کے نکلنے سے
غسل۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب مرد سے
مذی خارج ہو جائے تو حشفہ یعنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور نماز کے وضوء کی طرح وضوء کر لے۔ (اس کی
روایت طحاوی نے کی ہے۔)
From Ibn Abbas (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah (ﷺ) ate some meat, then prayed without performing wudu. This is agreed upon
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے بکری کا دست تناول فرمایا اور اس کے بعد نماز پڑھی اور وضوء نہیں فرمایا۔ (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
From Ibn Abbas (may Allah be pleased with him), he said: The Messenger of Allah (ﷺ) ate a piece of shoulder meat, then wiped his hands with a cloth that was under it, and then stood up and prayed.
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت تناول فرمایا پھر اس ٹاٹ سے ہاتھ صاف فرمایا جس پر آپ
تشریف فرما تھے، پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا فرمائی، (گوشت تناول فرمانے کی وجہ سے وضوء نہیں
فرمایا)۔ (ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اس کی روایت کی ہے۔)
From Umm Salama (may Allah be pleased with him), she said: I presented a roasted side of meat to the Prophet (ﷺ), and he ate from it. Then he got up for prayer and did not perform wudu.
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنے ہوئے پہلو کا گوشت پیش کیا تو آپ نے اس میں سے کچھ تناول
فرمایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور وضوء نہیں فرمایا۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
From Muhammad ibn al-Munkadir, he said: I entered upon one of the wives of the Prophet (ﷺ) and said: "Tell me about something that was changed by fire?" She said: "Very rarely did the Messenger of Allah (ﷺ) come to us except when we had a certain type of grain available in Madinah. He would eat from it, then pray without performing wudu."
محمد بن منکدر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات (رضی اللہ عنہن) میں سے ایک کی خدمت میں حاضر ہوا اور
عرض کیا کہ اس چیز کے متعلق کوئی حدیث بیان فرمائیے جو آگ سے پکائی گئی ہو، انہوں نے کہا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی ہمارے پاس تشریف لاتے تو اکثر ہم آپ کے لئے ایک غلہ کی
دانہ دار قسم کی چیز جو مدینہ میں پائی جاتی ہے تل دیا کرتے تو آپ اس کو تناول فرماتے اور نماز پڑھتے
اور (تازہ) وضو نہیں فرماتے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
From Abu Rafi (may Allah be pleased with him), he said: I bear witness that I used to roast the stomach of a sheep for the Messenger of Allah (ﷺ). Then he prayed without performing wudu.
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ
میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری کا دل اور کلیجی بھونتا اور آپ اس کو تناول فرما کر نماز ادا
فرماتے اور (تازہ) وضو نہیں فرماتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور طحاوی کی روایت بھی
اسی طرح ہے۔)
From Abu Rafi (may Allah be pleased with him), he said: A sheep was gifted to the Messenger of Allah (ﷺ), and he placed it in the pot. The Messenger of Allah (ﷺ) entered and asked, "What is this, O Abu Rafi?" He replied, "A sheep was gifted to us, O Messenger of Allah, and I cooked it in the pot." The Prophet (ﷺ) said, "Hand me the shoulder, O Abu Rafi." So I handed him the shoulder. Then he said, "Hand me the other shoulder," and I gave him the other shoulder. Then he said, "Hand me the other shoulder," to which I replied, "O Messenger of Allah, the sheep only has two shoulders." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If you had remained silent and kept handing me shoulder after shoulder, you would not have stopped."
Then he called for water, rinsed his mouth, washed his fingers, got up, prayed, then returned to them, finding the food had cooled down. He ate, then went to the mosque, prayed, and did not touch any water. [Narrated by Ahmad, and al-Darimi narrated it from Abu Ubayd, except that he did not mention the part: "Then he called for water... until the end."
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابو رافع کے پاس بکری کا
گوشت بطور ہدیہ بھیجا گیا تو انہوں نے اس کا گوشت پکانے کے لئے ہانڈی میں چڑھایا تو
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: اے ابو رافع! یہ کیا ہے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم یہ بکری کا گوشت ہے جو ہمارے یہاں تحفۃً آیا ہے جس کو میں نے ہانڈی میں پکا لیا
ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابو رافع! اس کا ایک دست مجھے دو، پس میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت میں دست پیش کر دیا، ارشاد ہوا مجھے دوسرا دست دو، میں نے دوسرا دست پیش کر دیا، پھر
ارشاد فرمایا: ایک اور دست لا دو، ابو رافع نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے دو ہی
دست ہوتے ہیں، آپ نے فرمایا: اے ابو رافع! تم اگر خاموش رہتے تو تم دست پر دست دیتے جاتے
جب تک تم خاموش رہتے، پھر آپ نے پانی منگوا کر کلی فرمائی اور انگلیوں کے سروں کو دھو ڈالا، پھر
کھڑے ہو کر نماز ادا فرمائی، پھر آپ دوبارہ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے ہاں ٹھنڈا گوشت
موجود پایا پھر اس کو تناول فرمایا اور پھر مسجد میں جا کر نماز ادا فرمائی اور پانی استعمال نہیں کیا۔ (اس کی
روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور دارمی نے اس کو ابو عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس میں پانی منگوانے
سے لے کر آخر تک کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔
From Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him), he said: I, Ubayy, and Abu Talha were sitting and eating meat and bread. Then I asked for water to perform wudu, and they said: "Why are you performing wudu?" I replied: "Because of this food we ate." They said: "Do you perform wudu after eating good food? No one better than you has ever done that."
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور اُبی بن
کعب اور ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روٹی کھائی، پھر میں
نے وضوء کے لئے پانی منگوایا تو دونوں نے کہا: وضوء کیوں کرتے ہو، میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ
سے جس کو ہم نے کھایا ہے، تو ان دونوں نے کہا: کیا پاکیزہ چیزیں کھا کر وضوء کرتے ہو، حالانکہ جو تم
سے بہتر۔ (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم) تھے انہوں نے تو پکی ہوئی چیز کھا کر وضوء نہیں فرمایا۔ (امام
احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
From Suwayd ibn Nu’man (may Allah be pleased with him), he said: He went out with the Messenger of Allah (ﷺ) during the year of Khaybar. When they reached the area of Sahlbah, which is one of the lowest parts of Khaybar, the Prophet (ﷺ) prayed the Asr prayer, then asked for food. But they were only given sawiq (a type of flour). He ordered it to be mixed, and the Messenger of Allah (ﷺ) ate, and we ate as well. Then he stood up for Maghrib prayer, rinsed his mouth, and we also rinsed our mouths. He then prayed without performing wudu.
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فتح خیبر کے سال حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور جب مقام صہباء پر پہنچے جو خیبر سے قریب تر ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے عصر کی نماز ادا فرمائی، پھر آپ نے توشہ طلب فرمایا تو صرف ستو حاضر کیا گیا تو ستو کے متعلق
فرمایا کہ بھگویا جائے تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تناول فرمایا اور ہم بھی کھائے، پھر آپ نماز
مغرب کے لئے اٹھے اور آپ نے کلی کی ہم نے بھی کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضوء نہیں
فرمایا۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور امام طحاوی اور امام محمد نے بھی اسی کے مثل روایت کی
ہے۔)
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
شوربا گوشت کے ساتھ تناول فرمایا پھر نماز پڑھی۔ (اس کو ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے
روایت کی ہے)۔
From Wahb ibn Kaysan (may Allah be pleased with him), he said: I heard Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) say: "I saw Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be pleased with him) eat meat, then pray without performing wudu."
وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر
بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے گوشت
تناول فرمایا، پھر نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے۔)
From Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him), he said: He had dinner with Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), then prayed without performing wudu.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن
خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شام کا کھانا کھایا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور وضوء نہیں
کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے۔)
From Aban ibn Uthman, he said: Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) ate meat and bread, then rinsed his mouth, washed his hands, and wiped them on his face. He then prayed without performing wudu.
ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے
گوشت اور روٹی تناول فرمائی، پھر کلی کی اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں کو چہرے پر مل دیا، اس
کے بعد نماز فرمائی اور وضوء نہیں کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے)۔
From Sa'id ibn Abi Burda, from his father (may Allah be pleased with him), he said: Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said to Abu Huraira (may Allah be pleased with him): "What do you say about wudu from what has been changed by fire?" He replied: "Perform wudu from it." Ibn Umar (may Allah be pleased with him) asked: "What do you say about oil and heated water—should one perform wudu from it?" Abu Huraira (may Allah be pleased with him) replied: "You are a man from Quraysh, and I am a man from Daws." Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "O Abu Huraira, perhaps you refer to this verse: ‘But they are a contentious people’ (Az-Zukhruf 43:58)." [Narrated by al-Tahawi.
سعید بن ابی بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ اپنے والد ابو بردہ رضی
اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ وہ چیز
کھا کر وضوء کرنے سے متعلق کیا کہتے ہیں جس کو آگ نے پکایا ہے؟ فرمایا: وضوء کیجئے۔ ابن عمر رضی
اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: آپ چکنی چیز اور گرم پانی کی نسبت کیا فرماتے ہیں کہ آیا ان کے استعمال سے
وضوء کیا جائے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم قریشی ہو اور میں قبیلہ دوس کا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ
عنہما نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) شائد آپ (سورہ زخرف، پ:25، ع:6، آیت
نمبر:58، کی) اس آیت سے استدلال کر رہے ہیں ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ (بلکہ یہ جھگڑالو
قوم ہے)۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
From Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him), he said: The last of the actions of the Messenger of Allah (ﷺ) was to leave wudu from what had touched fire. [Narrated by al-Tahawi and Al-Nasa’i. Imam Nawawi said in his explanation of Sahih Muslim: "And this is an authentic hadith."
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کا آخری عمل آگ سے پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضوء نہ کرنا تھا۔ (طحاوی اور نسائی نے اس کی
روایت کی ہے اور شرح مسلم میں امام نووی نے کہا ہے کہ یہ صحیح حدیث ہے۔)
From Jabir ibn Samura (may Allah be pleased with him), he said: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ): "Should I perform wudu 1 from the urine of sheep?" The Prophet (ﷺ) replied: "If you wish, perform wudu, and if you wish, do not." The man then asked: "Should I perform wudu from camel meat?" The Prophet (ﷺ) replied: "Yes, perform wudu from camel meat." The man asked: "Should I pray in the places where sheep rest?" The Prophet (ﷺ) replied: "Yes." The man asked: "Should I pray in the places where camels rest?" The Prophet (ﷺ) replied: "No."
جابر بن سَمُرَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ: آیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد ہم وضوء کریں؟
ارشاد ہوا: اگر تم چاہو تو وضوء کر لو اور اگر نہیں چاہتے ہو تو مت کرو، کیا اونٹ کا گوشت کھائیں تو وضوء
کر لیں؟ فرمایا: ہاں اونٹ کا گوشت کھانے سے (یعنی کھانے کے بعد) وضوء کر لیا کرو (اونٹ کا
گوشت کھا کر وضوء کرنے کا حکم بطورِ استحباب ہے واجب نہیں، علامہ شامی رحمت اللہ علیہ نے اس کی
صراحت کی ہے) میں نے عرض کیا کہ بکریوں کے باندھنے کی جگہ نماز ادا کر سکتا ہوں؟ ارشاد ہوا:
ہاں، عرض کیا کہ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ نماز پڑھ سکتا ہوں؟ فرمایا: نہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی
ہے۔)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پینے کے بعد کلی کی اور فرمایا اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
Narrated by Buraidah: The Prophet ﷺ performed the prayers on the Day of the Conquest with one wudu and wiped over his shoes. Umar said to him: "You did something today that you never did before." He replied: "I did it deliberately, O Umar."
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ
والتسلیم نے فتح مکہ کے روز کئی نمازیں ایک ہی وضوء سے ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح کیا، عمر رضی اللہ
عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے آج ایسا کام کیا ہے جس کو آپ نے اس سے قبل نہیں کیا ہے (یعنی ایک
ہی وضوء سے جملہ نمازیں ادا کیں) ارشاد ہوا: اے عمر! (رضی اللہ عنہ) میں نے قصداً ایسا کیا ہے
،(تا کہ اس کا جواز معلوم ہو)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Narrated by Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ said: "If any of you feels something in his stomach and is unsure whether anything has been released or not, he should not leave the mosque until he hears 2 a sound or detects a smell."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ (حرکت) پائے اور اس پر شبہ ہو کہ اس سے کچھ
ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں تو وہ ہرگز مسجد سے نہ نکلے جب تک کہ آواز نہ سن لے یا ہوا نہ محسوس کر لے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 362 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
until he hears
(2) The statement "until he hears" – In "Al-Durr Al-Mukhtar" with "Radd al-Muhtar," it is mentioned: "Even if he is certain of purity and doubts about the state of impurity, or vice versa, he should act according to certainty."
Note 2
قوله
(۲) قوله: حتى يسمع: وفي الدر المختار مع رد المحتار: ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس، أخذ باليقين.
Note 1
ف: درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر وضوء رہنے پر یقین ہو اور وضوء کے ٹوٹنے پر شک ہو یا
اس کے برعکس ہو یعنی وضوء ٹوٹنے پر یقین ہو اور وضوء قائم رہنے پر شک ہو تو جس پر یقین ہو اس پر عمل
کرے۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: آواز سے ہوا خارج ہو، یا بدبو (ظاہر ہونے) سے وضوء کرنا لازم ہو جاتا ہے البتہ صرف
شک کی وجہ سے وضوء لازم نہیں ہوتا۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
And from Ali ibn Talq: The Messenger of Allah ﷺ said, "If one of you passes wind, let him perform ablution. And do not approach the women in their behinds."
علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں سے کسی شخص سے (بلا آواز کے) ہوا خارج ہو تو وضوء کرلے اور تم اپنی عورتوں سے
لواطت مت کرو۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ دونوں آنکھیں سرین کی بندش ہیں جب آنکھیں نیند سے بند ہو جائیں تو سرین کی گرہ کھل
جاتی ہے۔ (یعنی نیند میں اعصاب ڈھیلے ہو جاتے اور ہوا خارج ہو جاتی ہے تو وضوء ٹوٹ جاتا ہے)۔
(اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔)
And from Ali (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said, "The seal of sleep is the eyes, so if anyone sleeps, let him perform ablution." [Narrated by Abu Dawood]
The Sheikh Imam Muhi al-Sunnah said: "This applies to one who is not sitting, as confirmed."
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ سرین کا بند دونوں
آنکھیں ہیں تو جو شخص سو جائے تو اسے چاہئے کہ وہ وضوء کرلے۔ (ابوداؤد نے اس کی روایت کی
ہے۔)
And from Anas: The companions of the Messenger of Allah ﷺ would wait for the Isha prayer until their heads would droop, then they would pray without performing ablution. [Narrated by Abu Dawood and Tirmidhi, except that in it, he mentioned "they would sleep" instead of "they would wait for Isha until their heads would droop." Sheikh Imam Ibn al-Humam said: "This applies to those who are neither standing nor prostrating nor bowing, as confirmed."
انس رضی اللہ عنہ سے حدیث صحیح میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
اصحاب کے سر نیند کی وجہ سے نماز عشاء کے انتظار میں جھک جاتے تھے پھر وہ نماز ادا فرماتے اور دوبارہ
وضو نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے اپنی روایت میں ”يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ حَتّٰى تَخْفِقَ رُؤُسُهُمْ“ کے بجائے
”يَنَامُونَ“ (یعنی بیٹھے ہوئے بغیر کسی چیز کے سہارے کے) سو جایا کرتے تھے، نقل کیا ہے۔
And from the Prophet ﷺ: "Ablution is not obligatory on one who sleeps while sitting, standing, or prostrating, until he lays down on his side; for when he lies down, his joints become relaxed." [Narrated by Al-Bayhaqi]
In another narration from Abu Huraira, it is mentioned similarly, and its chain is good.
جیسا کہ صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوبارہ وضو کرنا اس شخص پر واجب نہیں جو بیٹھنے کی حالت میں یا کھڑے
ہوئے یا سجدے میں سو جائے بشرطیکہ اس نے کروٹ نہ سویا ہو، کیوں کہ زمین پر کروٹ لیٹ جائے تو
اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ (اور ہوا نکلنے کا شبہ ہو جاتا ہے) اور ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا
ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
اور بیہقی نے دوسری روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کی ہے جس کی
سند جید ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The saying: "And if it is pre-ejaculate, then wudu is required." Al-Tahawi said: Some scholars are of the view that it is obligatory for a man to wash his private parts (the penis) when he experiences pre-ejaculate (madhiy) or after urination. However, others disagreed with them, stating that the Prophet (ﷺ) did not mandate washing the private parts in such cases, but rather to prevent the pre-ejaculate from flowing. Do you not see that when Ali (may Allah be pleased with him) narrated what the Prophet (ﷺ) prescribed for him in such situations, he mentioned performing wudu for prayer? Therefore, it is established that anything other than the wudu for prayer prescribed by the Prophet (ﷺ) was for a different reason and not for the same cause that requires wudu for prayer. This is the view of Abu Hanifa, Abu Yusuf, and Muhammad ibn al-Hasan (may Allah have mercy on them).
Note 1
(۱) قوله : وإذا كان المذي ففيه الوضوء: قال الطحاوي: ذهب قوم إلى أن غسل المذاكير واجب على الرجل إذا أَمْذَى وإذا بال. وخالفهم في ذلك آخرون، فقالوا: لم يكن ذلك من رسول الله ﷺ على إيجاب غسل المذاكير، ولكنه ليتقلص المذي فلا يخرج. أفلا ترى أن عَليًّا لما ذكر عن النبي ﷺ ما أوجبه عليه في ذلك ذكر وضوء الصلاة، فثبت بذلك أن ما كان سوى وضوء الصلاة مما أمر به فإنما كان ذلك لغير المعنى الذي وجب له وضوء الصلاة. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن (رحمهم الله).
Note 1
مذی اس رقیق پانی کو کہتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ مذاق کرنے یا ان کو شہوت کے ساتھ دیکھنے سے نکلتا ہے۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو ارشاد ہوا کہ ہر جوان مرد کو مذی آتی ہے، اگر منی خارج ہو تو غسل واجب ہے اور اگر مذی نکلے تو اس پر صرف وضوء واجب ہے، غسل واجب نہیں ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اور بخاری اور مسلم سے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔) ف: مرد سے جب مذی نکلے تو اس پر وضوء ضروری ہے، اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ نے اولاً ایک جماعت کے مسلک کو نقل کیا ہے جو حنفیوں کے خلاف ہے جن کا قول یہ ہے کہ مرد کو جب مذی نکلے تو اس پر شرمگاہ کا دھونا واجب ہے، جس طرح پیشاب کرنے کے بعد شرمگاہ کا دھونا ضروری ہے لیکن احناف نے ان کی مخالفت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ بعض حدیثوں سے مذی نکلنے پر شرمگاہ کا جو دھونا معلوم ہوتا ہے اس سے شرمگاہ کے دھونے کا واجب کرنا مقصود نہیں بلکہ اس کی غرض مذی کی آمد کا بند کرنا ہے، اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف وضوء کرنے کا ذکر ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں، امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف اور محمد بن الحسن رحمہم اللہ کا یہی ارشاد ہے۔