And from Ibn Abbas: He saw the Prophet ﷺ sleeping while prostrating until he either snored or exhaled, then he got up to pray. I said: "O Messenger of Allah, you slept?" He said: "Ablution is only obligatory on one who sleeps while lying down, for when he lies down, his joints become relaxed."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
سجدے کی حالت میں سوتے دیکھا یہاں تک کہ آپ زور سے سانس لے رہے تھے پھر نماز ادا فرما
رہے تھے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ سو گئے تھے؟ ارشاد ہوا کہ وضو اس شخص
پر واجب ہے جو کروٹ سو جائے اس لئے کہ جب وہ کروٹ سو جاتا ہے تو اس کے جوڑ بند ڈھیلے
پڑ جاتے ہیں (جس سے ہوا نکلنے کا شبہ ہو جاتا ہے اور ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے)۔ (اس
کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
And from Amr ibn Shu’aib, from his father, from his grandfather: The Messenger of Allah ﷺ said: "There is no ablution required for one who sleeps while standing or sitting until he lies on his side on the ground."
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے والد اور ان کے والد ان کے
دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص پر وضوء
واجب نہیں جو کھڑے رہ کر یا بیٹھ کر سوجائے یہاں تک کہ وہ زمین پر پہلو رکھ کر نہ سوجائے۔ (تو ایسی
صورت میں وضوء ٹوٹ جاتا ہے)۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)
And from Hudhayfah ibn al-Yaman: I was sitting in the mosque of Madinah, dozing off, when a man from behind embraced me. I turned and found the Prophet ﷺ. I said: "O Messenger of Allah, is ablution required for me?" He said: "No, until you lay your side on the earth."
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ (منورہ) کی مسجد میں اونگھتے
ہوئے بیٹھا تھا کہ ایک حضرت نے مجھے پیچھے سے گود میں لے لیا، میں پلٹ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم ہیں، تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضوء کرنا ضروری ہے؟ فرمایا: نہیں، جب
تک تم اپنے پہلو کو زمین پر رکھ کر نہ سوجاؤ۔ (ابن عدی نے اس کی روایت کی ہے۔)
And from Ibn Abbas: The Messenger of Allah ﷺ said: "Ablution is required for one who sleeps while lying down, for when he lies down, his joints become relaxed."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: وضوء اس شخص پر واجب ہے جو لیٹے ہوئے سوجائے، کیونکہ جب وہ لیٹ کر سوجاتا
ہے تو اس کی جوڑیں ڈھیلی ہوجاتی ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
And from Talq ibn Ali: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man touching his private part after performing ablution. He said: "Is it not just a part of him?" [Narrated by Abu Dawood, Tirmidhi, Nasai, Ibn Hibban in his Sahih, and Muhammad in Al-Muwatta]
Tirmidhi said: "This is the best narration in this chapter." Al-Tahawi narrated similarly and said: "This narration has a straight chain of transmission, without any inconsistencies in its chain or content." Ibn Madini stated: "The narration of Mulazim ibn Amr is better than the narration of Busra." Amr ibn Ali Al-Fallas said: "The narration of Talq is more reliable than that of Busra bint Safwan." And the scholar Muhi al-Sunnah and others said: "The narration of Busra is abrogated, for Talq arrived in the early years of Hijrah, while the narration of Busra was narrated by Abu Huraira, who embraced Islam later."
Imam Ibn al-Humam said: "It is correct only if they can prove that Talq passed away before the Islam of Abu Huraira or returned to his land, and had no companionship with him after that. But they are not able to do so, since they also narrated a weak Hadith from him: 'Whoever touches his private part should perform ablution.' They claimed he heard both the abrogating and the abrogated narration, even though Abu Huraira's Hadith is also weak due to the inclusion of Yazid ibn Abd al-Malik in its chain."
Then the Hadith of Talq is preferred based on what has been mentioned from Ibn al-Madini and others, and because the Hadith of men is stronger; they are more reliable and accurate, which is why the testimony of two women is equivalent to the testimony of one man. Additionally, matters concerning the nullifiers of wudu' are things that both the private and public need to be aware of. It has been established from Ali, Ammar ibn Yasir, Abdullah ibn Masud, Ibn Abbas, Hudhayfah ibn al-Yaman, Imran ibn Husayn, Abu Darda, and Saad ibn Abi Waqqas that they do not see the act of touching the private part as a nullifier of wudu'. Therefore, its concealment from them, despite their need for it, and its appearance to a woman who does not need it, is highly unlikely. Furthermore, there is a contradiction with analogy, as it involves a break in reasoning.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
سے دریافت کیا گیا کہ آدمی وضوء کرلینے کے بعد اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگادے تو (کیا وضوء ٹوٹ جاتا
ہے؟) اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ بھی آدمی کے جسم کا ایک حصہ ہے (یعنی اس کو
ہاتھ لگ جانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا، جیسے اور عضو کو ہاتھ لگ جانے سے وضوء نہیں جاتا) (اس کی
روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور امام محمد نے اپنی موطا میں کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور ترمذی نے صراحت کی ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان تمام حدیثوں میں جو اس
مسئلہ کے متعلق سے بیان کی گئی ہیں، ان سب میں زیادہ صحیح ہے۔ اور طحاوی کی روایت بھی اسی طرح ہے
اور طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث کی سند نہایت مستقیم ہے، جس کے اسناد اور متن
دونوں میں کسی قسم کا اضطراب نہیں ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے ابن مدینی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس
کی سند میں ملازم بن عمرو ہیں، بسرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث (جس میں شرمگاہ کو ہاتھ لگ
جانے سے وضو کا ٹوٹنا ثابت ہوتا ہے) سے زیادہ قوی ہے۔
امام محی السنۃ وغیرہ کا یہ قول ہے کہ بُسرہ کی حدیث منسوخ ہے اور انہوں نے منسوخ ہونے کی یہ
وجہ بتلائی ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ ہجرت کے پہلے سال آئے ہیں اور حدیث بُسرہ کے راوی ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ ہیں، جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا ہے اس وجہ سے طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث جو اسلام
لانے میں پہلے ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو اسلام لانے میں بعد ہیں منسوخ قرار پاتی
ہے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ناسخ ہوتی ہے۔
امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں
شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضو کا باقی رہنا ثابت ہوتا ہے، اس وقت منسوخ قرار پاتی جبکہ طلق رضی
اللہ عنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے قبل وفات پاتے یا اس بات کا ثبوت مل جاتا کہ وہ اپنے
وطن واپس گئے جس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا موقع ان کو پھر حاصل نہ ہوسکا اور طلق
رضی اللہ عنہ کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام سے قبل وفات پا جانا یا وطن واپس ہو کر پھر حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی صحبت کو نہ پانا، ان دونوں باتوں کو طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث کو منسوخ ماننے والے ثابت نہیں
کر سکتے اور یہ کس طرح ثابت کر سکتے ہیں کہ خود انہوں نے طلق رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف حدیث
”مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ“ (جس نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تو وہ وضو کرلے) کی روایت کی ہے اور
یہ قول بھی ان ہی کا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ناسخ و منسوخ کو سنا
ہے تو ظاہر ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کا وفات پانا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا نہ ملنا ہرگز ثابت نہیں
ہوسکتا۔ علاوہ بریں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف ہے اس لئے کہ ان کی سند میں یزید بن
عبدالملک ہیں جو ضعیف ہیں اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس دلیل کی وجہ سے مرجح ہے جس کو ابن
مدینی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے صدر میں نقل کیا گیا ہے اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے بھی
مرجح ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ مرد ہیں اور بُسرہ رضی اللہ عنہا عورت ہیں، اور مردوں کی حدیث قوی تر
ہوتی ہے کہ وہ زیادہ حافظ اور ضابط ہوتے ہیں، اسی وجہ سے دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت
کے مساوی قرار دی گئی ہے، نیز ناقض وضو کا حکم خاص و عام سے متعلق ہے بُسرہ رضی اللہ عنہا پر وضو
ٹوٹنے کا حکم تو ظاہر ہو جائے اور ان حضرات سے پوشیدہ رہے جن کا ذکر ذیل میں آتا ہے۔
چنانچہ حضرت علی، عمار بن یاسر، عبداللہ بن مسعود، ابن عباس، حذیفہ بن یمان، عمران بن
حصین، ابوالدرداء اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نزدیک شرمگاہ کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا،
لہٰذا ان حضرات سے اس مسئلہ کا حکم باوجود یہ کہ اس کی ان کو زیادہ ضرورت ہے پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور
صرف بُسرہ رضی اللہ عنہا پر ظاہر ہونا کہ جس حکم کی ان کو ضرورت نہیں قیاس کے خلاف ہے، پس حدیث
بُسرہ رضی اللہ عنہا میں کئی وجوہ سے انقطاع باطن ہے، یہ تمام تفصیل محلی میں مذکور ہے۔
From Ibn Abbas, he said about touching the private part while in prayer: "I do not mind whether I touch it or touch my nose." [Narrated by Muhammad and al-Tahawi.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر آپ نماز میں ہوں اور آپ کا ہاتھ
شرمگاہ کو لگ جائے تو (کیا وضوء ٹوٹ جائے گا)؟ تو آپ نے جواب دیا کہ مجھے کوئی پروا نہیں کہ میرا
ہاتھ شرمگاہ کو لگ جائے یا ناک کو (یعنی وضوء کے نہ توڑنے میں دونوں مساوی ہیں)۔ (اس کی
روایت امام محمد اور طحاوی نے کی ہے۔)
From al-Bara' ibn Qais, he said: "I asked Hudhayfah ibn al-Yaman about a man touching his private part, and he said: 'It is like touching his head.'" [Narrated by Muhammad, al-Tahawi, and Ibn Abi Shaybah.
براء بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حذیفہ بن
یمان رضی اللہ عنہ سے شرمگاہ کے چھونے کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا (وضوء کے نہ ٹوٹنے
میں) شرمگاہ کو ہاتھ لگانا ایسا ہے جیسا کہ اپنے سر کو ہاتھ لگ جائے۔ (اس کی روایت امام محمد طحاوی اور
ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
From Qays, he said: A man came to Abdullah ibn Mas'ud and said: "I touched my private part while I was in prayer." Abdullah ibn Mas'ud replied: "Why didn’t you cut it off?" Then he said: "Is your private part not like the rest of your body?"
قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود
رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہا: میں نے نماز کی حالت میں اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگایا تو عبداللہ
بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (اگر شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے) تو تم نے
اسے کیوں نہ کاٹ دیا، پھر فرمایا: تیری شرمگاہ تیرے جسم کے اور دیگر عضو کے مانند ہے۔ (اس کی
روایت امام محمد نے کی ہے۔)
From Qays ibn Abi Hazim, he said: A man came to Saad ibn Abi Waqqas and asked: "Is it permissible for me to touch my private part while I am in prayer?" Saad ibn Abi Waqqas replied: "If you know that there is a part of you that is impure, then cut it off." [Narrated by Muhammad and al-Tahawi. Al-Tabarani also narrated something similar in his Al-Kabir, and its narrators are trustworthy, as mentioned in Majma' al-Zawa'id.
قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص سعد
ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ آیا میرے لئے بحالت نماز شرمگاہ کو
ہاتھ لگانا جائز ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس کو اپنے جسم کا ایک نجس ٹکڑا سمجھتے ہو تو کاٹ ڈالو، تمہارا
یہ خیال صحیح نہیں کہ بحالت نماز اس کو ہاتھ لگ جانے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔ (اس کی روایت امام محمد
From Aisha, she said: "The Prophet ﷺ used to kiss some of his wives, then pray without performing wudu' again." [Narrated by Abu Dawood, Tirmidhi, Nasai, and Ibn Majah]
The author of Mishkat said: Tirmidhi stated: "The chain of narration of Urwah from Aisha is not authentic according to our scholars." Al-Taybi said: "This statement is not correct because in the Sahihayn (the two authentic books), there are numerous reports of Urwah hearing from Aisha, and he was her student."
Also, the author of Mishkat said: "The chain of narration of Ibrahim al-Taymi from her (Aisha) is not authentic." Abu Dawood said: "This is a mursal (disconnected) narration, and Ibrahim al-Taymi did not hear directly from Aisha, but it is acceptable because mursal narration is accepted by us and by the majority." Al-Bazzar narrated a similar narration in his Musnad with a good chain of narration.
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض
بیویوں کا بوسہ لیتے اور پھر نماز ادا فرماتے اور وضوء نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی،
نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
صاحب مشکوٰۃ نے کہا کہ ترمذی کا یہ قول ہے کہ ہمارے اصحاب کے نزدیک عروہ رضی اللہ عنہ کا
، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث کی روایت کرنا صحیح نہیں ہے۔
علامہ طیبی نے اس کا جواب دیا ہے کہ عروہ رضی اللہ عنہ کا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نہ کرنا کس
طرح صحیح نہیں ہے، کیونکہ بخاری اور مسلم میں عروہ رضی اللہ عنہ کا عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کثرت کے
ساتھ ثابت ہے، اس لئے عروہ رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شاگرد تھے۔
صاحب مشکوٰۃ نے یہ بھی کہا ہے کہ ابراہیم تیمی کی سند عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے درست نہیں،
اور ابوداؤد نے بھی اسی کی تائید میں کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اور ابراہیم تیمی نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ
عنہا سے نہیں سنا اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے کوئی حرج نہیں واقع ہوتا کیونکہ مرسل نہ صرف ہمارے
پاس بلکہ جمہور کے پاس حجت ہے، اور بزار نے اپنی سند میں اسناد حسن کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے۔
From Aisha, she said: "I used to sleep between the hands of the Messenger of Allah ﷺ with my legs towards his qibla. When he would prostrate, he would gently touch my legs, and I would pull them back. When he stood, I would stretch them out." She said: "And at that time, the houses did not have lamps." [Narrated by Muhyi al-Sunnah]
Al-Bukhari, Muslim, and al-Nasa'i narrated something similar, and Zayla'i said: "The chain of narration in al-Nasa'i meets the condition of being authentic."
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں: میں آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی رہتی تھی اور میرے دونوں پیر آپ کے سامنے قبلہ کی طرف رہتے،
جب آپ سجدہ فرماتے تو مجھے ہاتھ سے ٹھونسا دیتے اور میں اپنے پیر سمیٹ لیتی اور جب آپ کھڑے
ہو جاتے تو میں اپنے پیر دراز کر دیتی۔ آپ فرماتی ہیں کہ اُن دنوں گھروں میں چراغ نہ تھے۔ (اس کی
روایت امام محی السنۃ نے کی ہے اور بخاری اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور زیلعی نے کہا
ہے کہ نسائی کے اسناد شروط صحیح کے مطابق ہیں۔)
From Aisha, she said: "I was lying next to the Messenger of Allah ﷺ, and I missed him at night. I touched him with my hand, and my hand fell on his feet while he was in prostration. He was saying: 'I seek refuge in Your pleasure from Your anger, and in Your pardon from Your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised Yourself.'"
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں: میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
پہلو میں سو رہی تھی کہ رات میں آپ کو موجود نہ پائی، میں نے ہاتھ سے ٹٹولا تو میرا ہاتھ آپ کے
قدموں پر پڑا، آپ سجدے میں تھے اور یہ فرما رہے تھے: ”أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَ
(میں آپ کی رضامندی کی پناہ میں آتا ہوں آپ کی ناراضی سے، اور آپ کی معافی کی پناہ
میں آتا ہوں آپ کے عذاب سے، اور میں آپ کی رحمت کی پناہ میں آتا ہوں آپ کے غضب سے،
میں آپ کی پوری تعریف نہیں کر سکتا ہوں جس طرح کہ خود آپ نے اپنی تعریف کی ہے)۔ (اس کی
روایت محی السنۃ نے کی ہے اور مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے۔)
یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی
اللہ عنہ، نماز کے لئے نکلے تو ان کی بیوی نے ان کا بوسہ لیا اور آپ نے نماز پڑھ لی اور وضو نہیں کیا۔
(عبدالرزاق نے اس کی روایت کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں اس کی پروا نہیں کرتا کہ عورت کا
بوسہ لوں یا کسی پھول کو سونگھ لوں وضو کے نہ ٹوٹنے میں دونوں برابر ہیں۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے)۔
From Ali ibn Abi Talib, he said: "Touching (or caressing) is intercourse, but Allah used a euphemism for it." [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Ibn Jarir, and Muhyi al-Sunnah narrated something similar from Mujahid and Qatadah.
علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ لمس
(جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے اس سے مراد) جماع ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بطور کنایہ جماع کے
لئے لمس کا ذکر فرمایا ہے۔ (ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے اس کی روایت کی ہے۔)
اور امام محی السنہ کی روایت مجاہد اور قتادہ سے اسی طرح کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ ﴿أَوْلَمَسْتُمُ
النِّسَاءَ﴾ کی تفسیر میں (لمس کا جو ذکر ہے) اس سے جماع مراد ہے۔ (سورہ نساء، پ:5، ع:7،
آیت نمبر:43)۔ (ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے اس کی روایت کی ہے۔)
From Umar ibn Abd al-Aziz, from Tamim al-Dari, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Wudu (ablution) is required from every flowing blood." [Narrated by al-Daraqutni]
The author of Mishkat said: Al-Daraqutni stated that Umar ibn Abd al-Aziz did not hear directly from Tamim al-Dari, nor did he see him. Imam Ibn al-Humam, the scholar, said: "There is no harm in it, because a mursal narration (disconnected) is accepted by us and the majority of scholars." Then al-Daraqutni mentioned that in this chain, there are two unknown narrators: Yazid ibn Khalid and Yazid ibn Muhammad.
The response to this is that it has been narrated through various chains, some of which strengthen one another, thus elevating it to the level of Hasan. Ibn Adi narrated in his Al-Kamil from Zayd, with a similar narration that is raised (to the Prophet ﷺ). Sheikh al-Dahlawi mentioned in Fath al-Mannan that there is some difference of opinion about Yazid ibn Khalid and Yazid ibn Muhammad, but they were both considered trustworthy as mentioned in Al-Kashf by al-Dhahabi. The "unknown" in this context refers to someone whose identity is not well-established and has only one narrator reporting from them, and they have not been confirmed. However, if two or more narrators report from them, they are no longer considered "unknown."
عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے، اور وہ تمیم داری رضی اللہ عنہ سے
روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بہنے والے خون سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
اس لئے پھر وضو کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے)۔
صاحب مشکوٰۃ نے دارقطنی سے دو اعتراضات نقل کئے ہیں، جن میں پہلا اعتراض یہ ہے کہ عمر
بن عبدالعزیز نے تمیم داری رضی اللہ سے نہ تو سنا ہے اور نہ ان کو دیکھا ہے۔
شیخ ابن ہمام نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا کیونکہ حارث اور
جمہور کے نزدیک حدیث مرسل حجت ہے۔
دارقطنی کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں یزید بن خالد اور یزید بن محمد مجہول
ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے، جن میں بعض کو بعض سے تقویت
پہنچتی ہے اور اس طرح سے یہ حدیث مرتبہ حسن تک پہنچ جاتی ہے، علاوہ ازیں ابن عدی نے کامل میں
زید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً روایت کی ہے۔
شیخ دہلوی نے فتح المنان میں صراحت کیا ہے کہ یزید بن خالد اور یزید بن محمد کی نسبت اختلاف ہے، لیکن
بعض علماء نے ان میں سے ایک کی توثیق کی ہے، چنانچہ ذہبی کی کاشف میں اسی طرح مذکور ہے، اور مجہول سے مراد
مجہول العین ہے کہ جس سے صرف ایک شخص روایت کرے اور وہ قابل بھروسہ نہ ہو اور جس شخص سے دو یا دو سے
زائد راوی روایت کریں وہ مجہول نہیں، اور چونکہ دونوں راویوں یزید بن خالد اور یزید بن محمد سے کئی حضرات نے
روایت کی ہے اس وجہ سے یہ مجہول نہیں ہوسکتے۔12
From Hussein al-Mu'allim, with his chain of narration from Ma'dan ibn Abi Talha from Abu Darda: "The Prophet ﷺ vomited, and then performed wudu." He said: "I met Thawban in the mosque of Damascus, and mentioned this to him, and he confirmed it, saying: 'Yes, I poured the wudu for him.'" [Narrated by Abu Dawood, al-Tirmidhi, and al-Nasa'i]
Al-Tirmidhi said: "This is the most authentic narration in this regard," and al-Hakim stated that it meets the conditions of both Bukhari and Muslim.
حسین معلم رضی اللہ عنہ جن کی سند معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے وہ
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے فرمائی اور وضوء کیا۔
معدان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دمشق کی مسجد میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو ابو درداء
رضی اللہ عنہ کی روایت کا ذکر ان کے سامنے کیا تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ نے
سچ کہا، میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وضوء کا پانی ڈال رہا تھا۔ (ابو داؤد، ترمذی اور نسائی نے
اس کی روایت کی ہے اور ترمذی نے صراحت کی ہے کہ اس باب میں جتنی حدیثیں آئی ہیں ان سب
From Ibn Umar: The Messenger of Allah ﷺ said: "If someone laughs loudly (in a loud laugh) during prayer, he must repeat his wudu and his prayer." [Narrated by Ibn Adi in Al-Kamil]
In a narration from al-Daraqutni, from Abu Huraira, it is reported that the Prophet ﷺ said: "If someone laughs loudly during prayer, he must repeat his wudu and his prayer."
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز میں قہقہہ لگا کر ہنسے وہ نماز اور وضوء دونوں کا اعادہ کرے۔ (اس کی
روایت ابن عدی نے کامل میں کی ہے۔)
اور دارقطنی کی ایک روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
روایت کیا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جب نماز میں کوئی قہقہہ لگائے تو نماز اور وضوء دونوں کا اعادہ کرے۔
From Ma'bad ibn Abi Ma'bad al-Khuza'i, from the Messenger of Allah ﷺ: "While he was in prayer, a blind man came to perform the prayer, and he fell into a pit. The people laughed and burst into loud laughter. When the Prophet ﷺ finished the prayer, he said: 'Whoever among you laughed loudly, let him repeat his wudu and his prayer.'"
معبد بن ابی معبد الخزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز
پڑھا رہے تھے کہ ایک نابینا نماز پڑھنے کے لئے آئے اور ایک گڑھے میں گر گئے، قوم کو ہنسی آگئی اور
قہقہہ لگائے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے جس نے قہقہہ
لگایا ہے وہ وضوء اور نماز ہر دو کا اعادہ کرے۔
(1) The statement "Narrated by..." indicates that this hadith is found in the Musnad of Imam Abu Hanifa, and it is both a musnad and mursal hadith. The narrators of the book "Al-Athar" are trustworthy and well-known. Ma'bad, in this case, is a companion of the Prophet ﷺ, as stated in "Ihya’ al-Sunan".
The hadith narrated by Al-Daraqutni, Al-Tabarani, Abdul Razzaq, Ibn Abi Shaybah, Ibn Adi, and Abu Dawood in their respective books mentions a man who asks the Prophet ﷺ about a situation in which a man has an interaction with a woman without physical intimacy but with improper touching. The Prophet ﷺ responded by ordering him to perform wudu and pray, and then the verse (11:114) was revealed: "Establish prayer at the two ends of the day and during the night. Verily, good deeds wipe out evil deeds. That is a reminder for those who remember."
The man asked if this ruling applied only to him or to all believers, and the Prophet ﷺ confirmed that it applied to all Muslims. This narration indicates that inappropriate physical contact (such as an improper touch) invalidates wudu, as mentioned by the scholar in "Al-Bada'i."
Note 1
قوله
(۱) قوله: رواه: فهذا الحديث في مسند الإمام مسند ومرسل، ورجال كتاب الآثار» ثقات مشهورون. ومعبد هذا صحابي، قاله في إحياء السنن».
وَرَوَى الدَّارَقُطْنِي وَالطَّبَرَانِي وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ عَدِيٌّ وَأَبُوْ دَاوُدَ فِي مَرَاسِيْلِهِ نَحْوَهُ. وَرِجَالُ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ رِجَالُ الصَّحِيحَيْنِ، كَذَا فِي نَصْبِ الرَّايَةِ».
Note 1
(اس کی ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں روایت کی ہے، اور اس کی روایت
دارقطنی، طبرانی، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ اور ابن عدی نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اپنے مراسیل میں
اسی طرح کی روایت کی ہے اور عبدالرزاق کی روایت کے رجال بخاری اور مسلم کے رجال ہیں۔ نصب
الرایہ میں یہی مذکور ہے)۔
ف: یہ حدیث مسند امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ میں مسند اور مرسل ہر دو طرح سے مروی ہے۔ اور
کتاب الآثار میں بھی یہ حدیث موجود ہے اور کتاب الآثار کے رجال سب کے سب ثقہ اور مشہور ہیں،
اور معبد رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ (احیاء السنن میں اسی طرح مذکور ہے۔)
Muadh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (peace be upon him) and said, “O Messenger of Allah, what do you say about a man who meets a woman with whom he has no prior acquaintance? He does everything with her that a man does with his wife, except that he does not have intercourse with her?”
The narrator said that Allah then revealed: “And establish prayer at the two ends of the day and in the early part of the night. Indeed, good deeds drive away evil deeds. This is a reminder for those who remember” (Hud 11:114)
The Prophet (peace be upon him) instructed him to perform ablution and pray. Muadh said, “I asked, ‘O Messenger of Allah, is this ruling specific to him, or does it apply generally to all believers?’ He replied, ‘Rather, it applies generally to all believers’”
The author of al-Bada’i said: This Hadith provides evidence that indecent physical contact invalidates ablution.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور ترمذی نے صراحت کی ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان تمام حدیثوں میں جو اس مسئلہ کے متعلق سے بیان کی گئی ہیں، ان سب میں زیادہ صحیح ہے۔ اور طحاوی کی روایت بھی اسی طرح ہے اور طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث کی سند نہایت مستقیم ہے، جس کے اسناد اور متن دونوں میں کسی قسم کا اضطراب نہیں ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے ابن مدینی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس کی سند میں ملازم بن عمرو ہیں، بسرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث (جس میں شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضو کا ٹوٹنا ثابت ہوتا ہے) سے زیادہ قوی ہے۔ امام محی السنۃ وغیرہ کا یہ قول ہے کہ بُسرہ کی حدیث منسوخ ہے اور انہوں نے منسوخ ہونے کی یہ وجہ بتلائی ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ ہجرت کے پہلے سال آئے ہیں اور حدیث بُسرہ کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں، جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا ہے اس وجہ سے طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث جو اسلام لانے میں پہلے ہیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو اسلام لانے میں بعد ہیں منسوخ قرار پاتی ہے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ناسخ ہوتی ہے۔ امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضو کا باقی رہنا ثابت ہوتا ہے، اس وقت منسوخ قرار پاتی جبکہ طلق رضی اللہ عنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے قبل وفات پاتے یا اس بات کا ثبوت مل جاتا کہ وہ اپنے وطن واپس گئے جس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا موقع ان کو پھر حاصل نہ ہوسکا اور طلق رضی اللہ عنہ کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسلام سے قبل وفات پا جانا یا وطن واپس ہو کر پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو نہ پانا، ان دونوں باتوں کو طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث کو منسوخ ماننے والے ثابت نہیں کر سکتے اور یہ کس طرح ثابت کر سکتے ہیں کہ خود انہوں نے طلق رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف حدیث ”مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ“ (جس نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تو وہ وضو کرلے) کی روایت کی ہے اور یہ قول بھی ان ہی کا ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ناسخ و منسوخ کو سنا ہے تو ظاہر ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ کا وفات پانا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا نہ ملنا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا۔ علاوہ بریں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف ہے اس لئے کہ ان کی سند میں یزید بن عبدالملک ہیں جو ضعیف ہیں اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس دلیل کی وجہ سے مرجح ہے جس کو ابن مدینی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے صدر میں نقل کیا گیا ہے اور طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے بھی مرجح ہے کہ طلق رضی اللہ عنہ مرد ہیں اور بُسرہ رضی اللہ عنہا عورت ہیں، اور مردوں کی حدیث قوی تر ہوتی ہے کہ وہ زیادہ حافظ اور ضابط ہوتے ہیں، اسی وجہ سے دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے مساوی قرار دی گئی ہے، نیز ناقض وضو کا حکم خاص و عام سے متعلق ہے بُسرہ رضی اللہ عنہا پر وضو ٹوٹنے کا حکم تو ظاہر ہو جائے اور ان حضرات سے پوشیدہ رہے جن کا ذکر ذیل میں آتا ہے۔ چنانچہ حضرت علی، عمار بن یاسر، عبداللہ بن مسعود، ابن عباس، حذیفہ بن یمان، عمران بن حصین، ابوالدرداء اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نزدیک شرمگاہ کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا ان حضرات سے اس مسئلہ کا حکم باوجود یہ کہ اس کی ان کو زیادہ ضرورت ہے پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور صرف بُسرہ رضی اللہ عنہا پر ظاہر ہونا کہ جس حکم کی ان کو ضرورت نہیں قیاس کے خلاف ہے، پس حدیث بُسرہ رضی اللہ عنہا میں کئی وجوہ سے انقطاع باطن ہے، یہ تمام تفصیل محلی میں مذکور ہے۔