اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3817
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتے
ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو اپنی کمائی میں سے آپ کو کچھ خراج یعنی
مقررہ حصہ دیا کرتا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کو لے لیا کرتے ایک دن اس نے
کوئی کھانے کی چیز پیش کی آپ نے اس کو کھا لیا اس غلام نے عرض کیا آپ کو کچھ معلوم ہے یہ چیز
کیا تھی (اور میں نے کہاں سے لائی تھی؟) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو ہی بتا کہ وہ کیا
چیز ہے اس نے کہا کہ میں زمانہ جاہلیت میں (جب کہ کافر تھا) غیب کی باتیں بتاتا (اور اس پر
معاوضہ بھی لیتا) اور میں اس میں ماہر بھی نہیں تھا، تو ایک شخص کو میں نے غیب کی باتیں بتائیں اور
میں نے (عدم مہارت کی وجہ سے) اس کو دھوکہ دیا آج (اتفاق سے) اس سے ملاقات ہوگئی اور
اس نے (معاوضہ میں) یہ چیز دی اور میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے اس میں
سے کچھ تناول فرما لیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (یہ سن کر) حضرت ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ نے (حلق میں) انگلیاں ڈالیں اور جو کچھ پیٹ میں تھا اس کو قے کر دیا (اور یہ
بھی فرمایا اے اللہ! میرے بس میں جو بھی تھا میں نے اس کو نکال دیا اور جو رہ گیا ہے اس کو معاف
فرما دے) اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3842 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "He vomited everything" - Ibn al-Malik deduced that if one eats haram knowingly or unknowingly then realizes it, they must vomit it immediately. Ali al-Qari considered this an act of extreme piety (wara'). [Al-Mirqat]
Note 1
(۱) قوله: فقاء كل شيء في بطنه : قال ابن الملك: أخذ منه الشافعي بالله أن من أكل الحرام، وهو عالم به أو جاهل، ثم علم لزمه أن يتقيأ جميع ما أكله فورًا، وقد جعله علي القاري من باب الورع، «المرقاة» ملتقط منه.